سعودی عرب کے وسطی حصے میں میٹھے پانی کا قدیم چشمہ دریافت

سعودی عرب کے وسطی حصے میں میٹھے پانی کا قدیم چشمہ دریافت

  



ریاض(صباح نیوز) سعودی عرب کے تاریخی مقامات کی تصاویر جمع کرنے کے شوقین فوٹو گرافر عبدالالہ الفارس نے سعودی عرب کے وسطی حصے میں میٹھے پانی کے ایک قدیم ترین کنوئیں کا سراغ لگایا ہے۔  غیرملکی  خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض کے جنوب میں یہ مقام 120 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ”خفس“نامی یہ کنواں میٹھے پانی کا پرانا کنواں ہے۔یہ مصنوعی کنواں نہیں بلکہ یہاں سے قدرتی طور پر پانی پھوٹ کر باہر نکلتا اور نہ صرف آس پاس کے کھیتوں کھلیانوں کو سیراب کرتا ہے بلکہ وہاں سے گزرنے والے مسافروں، راہ گیروں اور عام شہریوں اور ان کی مویشیوں کی پیاس بھی بجھاتا ہے۔

خفس یا دغرہ کینام سے مشہور پانی کا یہ کنواں سعودی عرب کی وسطی علاقے الدلم میں واقع ہے۔ اس کنوئیں کے اطراف میں کئی تاریخی مقامات اور آثار قدیمہ کی علامات موجود ہیں۔

مزید : علاقائی