انسداد سمگلنگ: ایف بی آر کا جدیدڈرون وسیٹلائیٹ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا عندیہ

انسداد سمگلنگ: ایف بی آر کا جدیدڈرون وسیٹلائیٹ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو آگاہ کیاگیا رواں سال گیارہ ارب روپے مالیت کی 51ہزار سمگلنگ شدہ الیکٹرونکس مصنوعات ضبط کی گئی ہیں، انسداد سمگلنگ کیلئے نیشنل اینٹی سمگلنگ سٹریٹیجی جلد فعال کی جائیگی، بینکوں کا نان پرفارمنگ قرضہ جات623ارب سے بڑھ کر 768 ارب ہو گیا،ان قرضوں کے حوالے سے 49 ہزار کیس بینکنگ کورٹس میں زیر التواء ہیں،ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملد رآمد (بقیہ نمبر48صفحہ7پر)

میں کافی پیش رفت کی جار ہی ہے،64ہزار نان پرافٹ(خیراتی) تنظیموں میں سے غیر فعال و قو ا عد کی خلاف ورزی کرنیوالی30ہزار تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی،140 تنظیموں کے بارے میں خطرہ تھا یہ دہشتگردی کی مالی معاونت میں استعمال ہو سکتی ہیں ان کیخلاف کاروائی شروع کی گئی ہے، اقوام متحدہ کی جانب سے کسی تنظیم کو کالعد م قرار دینے کی صورت میں فوری کاروائی کا میکنزم تیا ر کیا گیا ہے، پاکستان ایف اے ٹی ایف کے فروری کے و سط میں ہونیوالے اجلاس میں بہترین کارکردگی کیساتھ جائے گا اور مضبوط کیس جمع کرائے گا، آئی ایم ایف کو ٹیکس ہدف کم کرنے پر قائل کرلیں گے، ٹیکس فائلرز کی تعداد 26لاکھ سے زائد ہو گئی ہے،مقامی سطح پرموبائل فونز کی مینوفیکچرنگ شروع ہوگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین ایف بی آ ر شبر زیدی،ایف بی آ ر کے حکا م نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا جبکہ کمیٹی نے سٹیٹ بنک سے حکومتوں کے لئے گئے قرضوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔پیر کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس کمیٹی چیئر مین سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا۔ایف بی آر کے ممبر ریونیو ڈاکٹر جواد آغا نے کمیٹی کو آگاہ کیا اینٹی سمگلنگ کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں خزانہ، داخلہ دیگر وزارتیں اور محکمے شامل ہیں، ایف بی آر اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ بطور لیڈ ایجنسی شامل کی گئی ہیں،1650ٹیرف لائنزکو زیرو ریٹنگ کی گئی تھی جس کی وجہ سے مقامی صنعت کو فائدہ دینا تھا،موبائل فون کی مینوفیکچرنگ سٹارٹ ہو گئی،نیشنل اینٹی سمگلنگ ایجنسی جلد فعال کی جائے گی،نیشنل اینٹی سمگلنگ اسٹرٹیجی پر کام کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا ایف بی آر کی سمگلنگ کی روک تھام کی وجہ کیا ہے۔ ایف بی آر کے حکام نے بتایا انسدادسمگلنگ کی روک تھام راتوں رات ممکن ہے مگر ہیومن ریسورس کی شدید قلت ہے،2400افسران کام کر رہے ہیں، ایف بی آر کی استعداد کار کا بھی مسئلہ ہے،ایف بی آر 25تا 30ارب سالانہ سمگلنگ کی اشیاء ضبط کرتی ہے۔سینیٹر عتیق شیخ نے کہا ملک میں سمگلنگ کا مافیا موجود،شہروں میں باڑہ مارکیٹیں قائم جہاں پر مقامی کی نسبت سمگل شدہ امپورٹڈ مصنوعات سستی ملتی ہیں،اس کی روک تھام کیوں نہیں کی جا رہی۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا سمگلنگ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مقامی صنعتیں تباہ ہوئی ہیں۔ ایف بی آر حکام نے بتایا سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ڈرون اور سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی خرید رہے ہیں تا کہ ٹریکنگ کا نظام بہتر کیا جا سکے،فنڈز کی قلت کی وجہ سے اس میں وقت لگے گا۔ ڈپٹی چیئرمین سٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا بینکوں کا نان پر فارمنگ لون جون2018کے مقابلے میں 623ارب سے بڑھ کر 768ارب ہو گیا ہے اور اس میں 144ارب کا اضافہ ہوا ہے،اس کی وجہ معیشت کی سست روی، شوگر انڈ سٹر ی، توانائی کی صنعت سمیت دیگر شعبے ہیں۔حکومت سٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لے رہی، حکومت کی جانب سے سٹیٹ بینک سے لئے گئے قرضوں کا اب تک سٹاک 7.7ٹریلین روپے ہے جس میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے 27نکات پر پیشرفت کررہا ہے،5نکات پر مکمل عمل کرلیا گیا ہے،17نکات پر جزوی طور پر عمل کیا گیا ہے اور5نا مکمل نکات پر عملدرآمد جاری ہے۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف میں ابتدائی رپورٹ 2دسمبر جبکہ حتمی ڈرافٹ 23جنوری2020کو پیش کیا جائیگا۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا رواں سال ڈومیسٹک ٹیکس ریونیو میں 27فیصد گروتھ ہوئی جبکہ ٹیکس ریونیو میں 16فیصد اضافہ ہواہے، امسال یف بی آر کے ٹیکس فائلرز میں 10لاکھ کا اضافہ ہو اہے، جو 26لاکھ سے زائد ہو گئے ہیں،فائلرز کے بڑھنے سے 5سے 6ارب زیادہ ٹیکس جمع ہواہے، ایف بی آر کے ٹیکس جمع کرنے کے ہدف میں کمی وجہ درآمدات کا سکڑنا ہے۔

ایف بی آر عندیہ

مزید : ملتان صفحہ آخر