خود کفیل بیوی،بچوں کے اثاثے ظاہر نہ کرنے پر کوئی جرمانہ نہیں:وکیل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  خود کفیل بیوی،بچوں کے اثاثے ظاہر نہ کرنے پر کوئی جرمانہ نہیں:وکیل جسٹس ...

  



اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواست کی سماعت کے دوران وکیل بابر ستار نے اپنے دلائل میں کہاکہ ایف بی آر کی تاریخ میں ایسا واقعہ نہیں ہے کہ خود کفیل بیوی بچوں کی معلومات دی جائیں، اگر کسی ذریعے سے کمشنر کو معلومات ملتی ہیں تو کمشنر مزید معلومات طلب کرسکتا ہے، جو فارم دیا گیا ہے اْسی کو ہی بھرکردینا ہوتا ہے، میں اپنے طور پر فارم کو تبدیل کرکے نہیں بھر سکتا، صدر کے پاس ایسا کونسا مواد تھا جس کی بنا پر الزام لگایا، بغیر شواہد کے الزامات لگائے گئے۔ پیر کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس قاضی فائرعیسیٰ کے وکیل بابر ستار نے کہاکہ شبر زیدی کا آرٹیکل پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں، آرٹیکل بہت اہم ہے کیونکہ وہ اب چیئرمین ایف بی آر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ویلتھ سٹیٹمنٹ کا دولت سے کوئی تعلق نہیں، ویلتھ سٹیٹمنٹ اور ریٹرن انکم میں بھی کوئی تعلق نہیں، انکم ٹیکس 2001 ء انکم سے متعلق ہے نہ اثاثہ جات کے متعلق۔انہوں نے کہاکہ ویلتھ سٹیمنٹ میں ہمیشہ ابہام ہی رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ویلتھ سٹیٹمنٹ اثاثوں کو باہر کی جگہ ظاہرنہیں کرتی۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ ویلتھ سٹیٹمنٹ کسی بھی وقت جمع کرائی جا سکتی ہے، ویلتھ کا انکم کے ساتھ تعلق ہے۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ بغیر آمدن کے دولت تو نہیں بنتی، آمدن ہوگی تو دولت ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ صرف حکومت کی دولت ریونیو سے آتی ہے، اگر کسی نے ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کرائی ہو لیکن مکمل آمدن نہ بتائی ہو تو کیا کیاجائے۔ بابر ستار نے کہاکہ ویلتھ سٹیٹمنٹ ایسے جمع نہیں ہوجاتی اس میں بھی کچھ شرائط ہیں، نوٹس میں بتائے گئے وقت میں تمام تفصیلات دینا ہوتی ہے۔بابر ستار نے کہاکہ شہری کو اپنی اور اہل و عیال کی دولت سے متعلق تفصیلات دینا ہوتی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ ایف بی آر کی شرائط کے مطابق ویلتھ سٹیٹمنٹس دینا ہوتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ قانون میں لکھا ہے، over and above۔ انہوں نے کہاکہ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ شہری کو خودکفیل بیوی بچوں کو بھی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر کرنا ہوتا ہے، میرے خیال میں تو یہ تشریح بنتی ہے۔ بابر ستار نے کہاکہ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے، ایف بی آر کی تاریخ میں ایسا واقعہ نہیں ہے کہ خود کفیل بیوی بچوں کی معلومات دی جائیں۔جسٹس منیب اختر نے کہاکہ اگر تاریخ میں ایسا نہیں تو بھی معلومات دینی چاہئیں، ایف بی آر پوچھے تو بتا دے کہ وہ خودکفیل ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ مجھے سمجھ آئی ہے کہ خود کفیل بیوی بچوں کی معلومات دینا ضروری ہے، اگر انکم ٹیکس کمشنر ضرورت محسوس کرے تو معلومات طلب کر سکتا ہے۔ بابر ستار نے کہاکہ اگر کسی ذریعے سے کمشنر کو معلومات ملتی ہیں تو کمشنر مزید معلومات طلب کرسکتا ہے، جو فارم دیا گیا ہے اْسی کو ہی فل کرکے دینا ہوتا ہے، میں اپنے طور پر فارم کو تبدیل کرکے نہیں بھر سکتا،جو مجھے فارم ملا میں نے اْس کے مطابق معلومات دیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ ہم یہاں ویلتھ سٹیٹمنٹ کے فارم کو دیکھنے کیلئے نہیں بیٹھے، ایک الزام ہے آپ اْس کا جواب دیں باریک بینیوں میں نہ پڑیں، آپ کے دلائل کا اصل نقطہ کیا ہے، بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔بابر ستار نے کہا کہ یہ کوئی بنیادی سوال نہیں جو میں کہہ رہا ہوں وہ بنیادی سوال ہے، میرا اصل نقطہ یہ ہے کہ ویلتھ سٹیٹمنٹ میں صرف اپنی آمدن بتانی ہے،ویلتھ سٹیٹمنٹ کی جو شرائط ہیں میں نے وہی پوری کرنی ہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ یہاں ہمارے پاس معاملہ ویلتھ سٹیٹمنٹ کا نہیں۔ بابر ستار نے کہاکہ سارا معاملہ ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ویلتھ سٹیٹمنٹ پر ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ کہا گیا ہے کہ آپکے مؤکل نے بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کیے، قانون کے تحت وہ اثاثے ظاہر کرنے کے پابند نہیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ جو اثاثے آپ کے نہیں آپ اسے کیسے ظاہر کرسکتے ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ معاملہ ویلتھ سٹیٹمنٹ کا نہیں معاملہ باہر اثاثوں سے متعلق ہے، مفروضوں پر مبنی الزامات لگائے گئے آپ ان کا جواب دیں۔ انہوں نے کہاکہ الزام یہ ہے کہ شاید منی لانڈرنگ کے ذریعے اثاثے بنائے گئے۔ بابر ستار نے کہاکہ صدر کے پاس ایسا کونسا مواد تھا جس کی بنا پر الزام لگایا، بغیر شواہد کے الزامات لگائے گئے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا آپ کو کوئی نوٹس بھیجا گیا۔ بابر ستار نے کہاکہ ہر گز کوئی نوٹس نہیں بھیجا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ پھر تو بات ہی ختم ہوگئی۔ بابر ستار نے کہاکہ پہلے یہ شرط نہیں تھی کہ بیرون ملک جائید اور اثاثے ظاہر کئے جائیں، اب ترمیم کر کے یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی شخص ویلتھ سٹیٹمنٹ میں غلط بیانی کرے تو اسے جرمانہ دینا ہوتا ہے لیکن اگر کسی نے اپنے خود کفیل بیوی بچوں کے اثاثے ظاہر نہیں کیے تو کوئی جرمانہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہی کچھ شبر زیدی نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے، کمشنر جائیدادوں کا جائزہ لینے کے بعد دوبارہ نوٹس جاری کرسکتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا اگر جائیداوں کا پتا چل جائے تو پھر نوٹس ہوتا ہے۔ بابر ستار نے کہاکہ جی ایسا ہی ہے علیحدہ سے شوکاز نوٹس جاری ہوتا ہے، اگر کوئی غلط بیانی ثابت ہو تو علیحدہ شوکاز نوٹس جاری ہوتا ہے۔ جسٹس مظاہر عالم نے کہاکہ اثاثوں کے دوبارہ تخمینے کیلئے کمشنر پر پابندی ہے لیکن جرمانہ عائد کرنے کیلئے کوئی پابندی نہیں۔ جسٹس مظاہر عالم نے کہاکہ اثاثوں کے دوبارہ تخمینے کیلئے کمشنر کی جانب سے نوٹس جاری کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن قاضی فائز عیسیٰ کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ بابر ستار نے کہاکہ قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی کے خود کفیل ہونے سے متعلق وفاق نے خود وضاحت کردی، بتایا گیا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کی ویلتھ سٹیٹمنٹ اور انکم ٹیکس ریٹرن کی تفصیل خود وفاق نے دی۔بابر ستار نے کہاکہ قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی نے وزیر اعظم عمران خان سے زیادہ ٹیکس دیا۔ جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی اتنی ہی مالی طور پر خود کفیل ہے جتنا وزیر اعظم۔عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ہمیں کسی اور بنچ میں بھی جانا ہے لہٰذا آپ کل یہیں سے دلائل شروع کریں۔بعد ازاں سماعت آج بروز منگل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

جسٹس قاضی فائز کیس

مزید : صفحہ آخر