بین الاقوامی معیار کی طرح بچوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں:چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

بین الاقوامی معیار کی طرح بچوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں:چیف جسٹس ...

  



لاہور (نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس سردار محمد شمیم خان نے کہا ہے کہ ماضی میں بچوں سے متعلق انصاف کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا تھا، آج اگر بچے عدالتوں میں اذیت کا شکار ہونگے تو کل وہ کبھی بہترین شہری ثابت نہیں ہوسکیں گے، مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے نابالغوں کے قوانین پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جو وقت کا اہم تقاضا بھی ہے،وہ گزشتہ روز پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں چائلڈ جسٹس کے موضوع پر تین روزہ ورکشاپ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کررہے تھے،تقریب سے لاہور میں بچوں کی پہلی عدالت کے قیام میں معاون تنظیم گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ویلیری خان نے بھی خطاب کیا، چیف جسٹس لاہور ہائی کور ٹ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ بچوں کے مقدمات میں تمام معاملات کو بڑے محتاط طریقے سے دیکھنا ہوگا، بچوں کی عدالت میں جج ماحول کو دوستانہ رکھیں تاکہ وہ خود کو محفوظ سمجھیں، آج یہاں چائلڈ جسٹس کے حوالے سے تربیتی ورکشاپ شروع ہورہی ہے۔ یہ ورکشاپ اس لئے بھی خاص اہمیت کی حامل ہے کہ چائلڈ جسٹس کا تعلق ہمارے مستقبل کے معماروں یعنی بچوں اور نابالغ افراد سے ہے جو کسی وجہ سے معاشرتی برائیوں اور ناانصافی کا شکار ہیں۔ دیگر معاشروں کی طرح بچے ہمارے معاشرے کا بھی اہم حصہ ہیں۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ہمارے ججز کو دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیتی کورسز اور تربیتی ورکشاپس کروارہی ہے، جس سے بلاشبہ ہمارے ججز بہت زیادہ مستفید ہورہے ہیں،اس حوالے سے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کی تمام انتظامیہ، انسٹرکٹرز اور سٹاف کی انتھک محنت لائقِ تحسین ہے۔ چائلڈ جسٹس کے حوالے سے ہمارے جوڈیشل افسران کو اس تربیتی ورکشاپ میں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا. چائلڈ جسٹس کا ایشو ایک حساس معاملہ ہے. ہمارے پاس بہت سارے مقدمات آتے ہیں کہ جن کا تعلق نابالغ افراد سے ہوتا ہے. ویسے تو ہم پر لازم ہے کہ ہر مقدمے میں بہترین انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں لیکن بچوں سے متعلق مقدمات میں ہمیں خصوصی خیال رکھنا چاہیئے کہ کسی بھی قسم کی غفلت نہ ہو،گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ویلیری خان نے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بین الاقوامی معیار پر بچوں کی سطح پر انصاف کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں، چائلڈجسٹس کی مناسبت سے ورکشاپ بچوں کو بہترین انصاف فراہم کرنے کے عزم کا واضح اظہار ہے، لاہور کے علاوہ مردان اور اسلام آباد میں بھی بچوں کی کورٹ قائم ہے، انشاء اللہ یہ پراجیکٹ دیگر شہروں میں بھی شروع ہوگا، انصاف کی فراہمی میں ابھی ابتداء ہے،آگے بہتر اقدمات اٹھائیں گے، انہوں نے بچوں کی عدالت کے قیام کے حوالے سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے کردارکو سراہتے ہوئے ان کاشکریہ اداکیا۔اس سے قبل ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر نے بھی افتتاحی سیشن کے شرکاء کو ورکشاپ کے اغراض و مقاصد کے بارے میں بتایا،اس موقع پر رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ عبدالستار، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری اشترعباس، اکیڈمی کے انسٹرکٹرز اور جوڈیشل افسران موجود تھے۔

چیف جسٹس ہا ئیکورٹ

مزید : صفحہ آخر