ہائیکورٹ کاعدالتی ڈگریوں، رقم یا جائیداد کااندراج نہ کرنے کا سخت نوٹس

ہائیکورٹ کاعدالتی ڈگریوں، رقم یا جائیداد کااندراج نہ کرنے کا سخت نوٹس

  



لاہور (نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سردار محمد شمیم خان نے فیملی کورٹس کی طرف سے عدالتی ڈگریوں اور رقم یا جائیداد کااندراج نہ کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فیملی کورٹ ایکٹ 1964 ء کے متعلقہ سیکشن 13 کے سب سیکشن 1 اور 2 پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا،چیف جسٹس کی ہدائت پرڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری اشترعباس نے صوبہ بھر کے سیشن ججوں کو اس سلسلے میں مراسلہ جاری کردیا ہے۔ فیملی لاء کے تحت عدالت کی طرف سے جاری کی ڈگریوں اور ان ڈگریوں کی بناء پر رقم کی ادائیگی یاجائیداد کی منتقلی کارجسٹر میں اندارج کرنا ضروری ہے،چیف جسٹس کے علم میں آیا تھا کہ رجسٹر کے استعمال میں غفلت برتی جارہی ہے اورفیملی لاء کے سیکشن 13 سب سیکشنز 1 اور 2 تحت بنائے گئے رجسٹر میں اندراج نہیں کیا جاتا۔مراسلہ میں فیملی لاء کے سیکشن 13 کے تحت بنائے گئے رجسٹر میں اندراج کی بابت سیشن ججوں کو چیف جسٹس کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

نوٹس

مزید : صفحہ آخر