فیصلہ آنے تک ہر شخص بے گناہ،عام بیمار قیدی کا کیس بھی اب نواز شریف کی طرح سنا جائیگا:چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

فیصلہ آنے تک ہر شخص بے گناہ،عام بیمار قیدی کا کیس بھی اب نواز شریف کی طرح سنا ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینکرز کیخلاف توہین عدالت کیس میں کہا ہے عدالتی کارروائی کا تقدس بہت اہم، کوئی شخص عدالت کا فیصلہ آنے تک بیگناہ ہے،میڈیا ٹرائل صرف ملزم سے زیادتی ہی نہیں، عدالت میں زیر سماعت مقدمات میں مداخلت کے مترادف بھی ہے،ہم توہین عدالت کے قانون کا غیر ضروری استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ یہ ریمارکس پیر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران دیئے۔ دور ان سماعت میڈیااینکرز حامد میر، محمد مالک، کاشف عباسی، سمیع ابراہیم اور چیئرمین پیمرا عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے کہا میڈیا پر پری ٹرائل کئی لو گوں کو خودکشی پر مجبور کر چکا۔ چیف جسٹس نے حامد میر سے مکالمہ کیا کہ عدالت کی معاونت کریں کہ میڈیا ٹرا ئل کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہادیکھنا ہے میڈیا ٹرائل آزادی اظہار کے زمرہ میں آتا ہے یا نہیں۔ بیرون ملک اس حوا لے سے قانون بن چکے ہیں، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ایک اینکر نے کہا لاہو ر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ بھی نواز شریف کی ضمانت دے گی اور کہا ڈیل ہو چکی ہے۔ صحافی حضرات خود سوال فریم کریں کہ کن خطوط پر اس حوالے سے فری ٹرائل کا تحفظ کیا جا سکے۔آزادی صحافت کی حدود اور سیلف سنسر شپ پر بھی عدالت کی معاونت کی جائے، آزادی اظہار اور عدالتی کاروائی کے تقدس میں توازن قائم رکھنا چاہتے ہیں، میڈیا یہ بھی بتائے  عدالتوں نے کتنے عام لوگوں کو طبی بنیادوں پر ضمانت دی۔ میڈیا خبر کیلئے صرف سیاستدانوں اور طبقہ اشرافیہ کے کیسز نمایاں کرتا ہے۔ چھٹی والے دن کسی کیس کی سماعت قانون کے دائرہ اختیار میں ہے، میڈیا پر جیلوں میں بند عام قیدی کی مشکلات کیوں پیش نہیں کی جاتیں۔چیف جسٹس نے کہا یقین دلاتا ہوں یہ عدالت کسی عام قیدی کی بیماری کا کیس بھی نواز شریف کی طرح ہی سنے گی۔ عدالت اس حوالے سے خود سوالات فریم کر کے عدالتی معاونین کو دے گی، صحافی اور اینکرز معاملے میں عدالتی معاونین کا کردار ادا کریں گے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ کا مزید کہنا تھا جب کسی قیدی کی جان کو خطرہ لاحق ہو گا تو عدالت کیس کی سماعت کیلئے بیٹھے گی اور چیف جسٹس 24گھنٹوں میں اس کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا یہ صرف نواز شریف کیس کیلئے نہیں بلکہ ہر اس قیدی کیلئے ہے جو سزایافتہ ہے۔اطہر من اللہ نے کہا اس ملک میں عام آدمی اور قیدیوں کے مسائل پر بات نہیں کی جاتی، ہم صرف اشرفیہ کے مسائل پر بات کرتے ہیں،عدالت نے عام قیدیوں کے مسائل پر بات کرنا اپنی ذمہ داری سمجھا اور اتفاق ہے ایسا ایک ہا ئی پروفائل کیس میں ہوا۔چیف جسٹس نے کہا نیب کے طلب کرنے پرمعاشرے کا ذہن بن جا تا ہے کہ یہ شخص کرپٹ ہے۔ انکامزید کہنا تھا اور میڈیا کی طاقت یہ ہے وہ کسی کی زندگی بنا بھی سکتا ہے اور تباہ بھی کر سکتا ہے۔ بعد ازاں سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کر د ی گئی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید : صفحہ اول