مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی لاک ڈاؤن کا آج 107واں روز

  مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی لاک ڈاؤن کا آج 107واں روز

  



سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مقبوضہ کشمیرمیں جموں ریجن کے علاقے اکھنور میں بم دھماکے میں ایک بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں کے بعض حصوں میں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیر انسانی لاک ڈاؤن مسلسل 107 ویں روز بھی جاری ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع جموں کے علاقے پلاں والا اکھنور میں بھارتی فوجی گاڑی دھماکہ خیزمواد سے ٹکراگئی جس کے نتیجہ میں گاڑی میں سوار بھارتی فوج کا ایک حوالدار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔سرکاری عہدیدار نے میڈیا کو بتایا واقعہ اس وقت پیش آیا جب فوجی معمول کے گشت پر تھے۔ ہلاک ہونیوالے فوجی حوالدار کی شناخت 4راج رائفلز کے سنتوش کمار کے طورپر ہوئی جبکہ زخمیوں میں نائیک Gemra رام اور نائیک کرشن لعل شامل ہیں۔دوسری طرف مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں کے بعض حصوں میں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیر انسانی لاک ڈاؤن مسلسل 106 ویں روز بھی جاری رہاجس کو آج ایک سو ساتواں روز ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وادی کشمیر، جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں حالات معمول پر نہیں آسکے،کشمیریوں میں بھارتی حکومت کے کشمیر دشمن اقدامات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور پری پیڈ موبائل نیٹ ورکس پر مکمل پابندی کیساتھ ساتھ دفعہ 144 کے تحت بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ سردیوں کے آغاز نے بھی کشمیریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیاہے۔وادی میں لوگ تعلیمی اداروں اور دفاتر سے دور رہ کر بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کیخلاف خاموش احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دکاندار بھی صبح چند گھنٹے اپنی دکانیں کھولنے کے سوا دن بھر بند رکھتے ہیں۔دوسری طرف ایک بھارتی سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے ایک رپو رٹ میں کہا گیا وادی کشمیرمیں سرکاری محکمے کو انٹرنیٹ کی مشروط اجازت دی جاسکتی ہے تاہم اس کے غلط استعمال کا ذمہ دار اس محکمے کے سربراہ کو سمجھا جائیگا۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکمے کے سربراہ کو پولیس کو انٹرنیٹ کی بحالی کیلئے اپنا بیان حلفی پیش کرنا ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق قابض انتظا میہ نے گزشتہ روز5اگست سے سرینگر کے ایک ہوٹل میں قید تمام 34 سیاسی نظربندوں کوشدید سردموسم میں ناکافی انتظامات کی بنا پر شہر کے ایم ایل اے ہاسٹل میں منتقل کردیا ہے۔ 

کشمیر لاک ڈاؤن

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے جرائم کو چھپانے کیلئے مسلم ممالک کے ٹی وی چینلزکی نشریات دکھانے پربھی پا بندی عائد کردی۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات نے مقبوضہ کشمیر میں کیبل آپریٹرز کو پاکستان، ترکی، ملائیشیا، سعودی عرب اور ایران کے چینلز کو نشر کرنے سے روک دیا۔ بھارتی حکومت نے یہ بھونڈا جوا ز پیش کیا کہ وادی میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ایسا کرنا ضروری ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات کے جوائنٹ سیکرٹری وکرم سہائے نے کیبل آپریٹروں سے کہا مسلم ممالک خصوصا ایران، ترکی اور ملائیشیا کے چینلز نشر کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ان چینلز میں سعودی عرب کے العربیہ چینل، ترکی کا ٹی آر ٹی، ایران کے سحر اور پریس ٹی وی شامل ہیں۔ بھارتی حکام نے ملائیشیا کے چینلز نشر نہ کرنے کی بھی خصوصی ہدا یت کی ہے۔بھارت نے رواں سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے جس کے بعد سے وہاں حالات خراب ہیں اور کرفیو جیسی کیفیت ہے۔

چینلز پابندی

مزید : صفحہ اول