شوبز اور ذاتی زندگی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا،فریال محمود

 شوبز اور ذاتی زندگی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا،فریال محمود

  



لاہور(فلم رپورٹر) ٹی وی کی معروف اداکارہ فریال محمود نے اپنے کیرئیر سے متعلق دئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ مجھے اپنے کیریئر میں اس مقام تک پہنچنے میں شوبز انڈسٹری اور ذاتی زندگی میں بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نامور گلوکارہ روحانی بانو کی بیٹی ہوں اور میرا بچپن بالکل اچھا نہیں گزرا، میں اپنی فیملی سے ہمیشہ دور رہی۔فریال محمود نے ثمینہ پیرزادہ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے دو چھوٹے بھائی اور تین سوتیلی بہنیں ہیں، میرے والد نے دوسری شادی کی تھی، میں واحد ذریعہ ہوں جو اپنی پوری فیملی کو جوڑتا ہے،میرے والدین ایک دوسرے سے زیادہ بات نہیں کرتے۔میرے بھائی، والد سے بات نہیں کرتے، میرے بھائیوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کی بہنیں ہیں اور میری بہنوں کو بھی یہ معلوم نہیں کہ ان کے کوئی بھائی بھی ہیں۔

انہوں نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ جب میں 7 سال کی تھی تب میرے والدین میں علیحدگی ہوگئی تھی، ہم امریکہ منتقل ہوگئے تھے، میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھی، میری والدہ نے طلاق کے بعد دو مرتبہ شادی کی۔ میرے دوسرے سوتیلے والد مجھے بالکل پسند نہیں تھے، اور میری والدہ کے تیسرے شوہر بھی مجھے بہت زیادہ پسند نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوا کہ میری والدہ کے انتخاب مجھے ہمیشہ مشکل میں ڈالتے ہیں، میرے دوسرے سوتیلے والد بھی ان کا ایک غلط انتخاب تھے، والدہ کی غیر موجودگی میں 8 سے 11 سال کی عمر تک انہوں نے مجھے گھر میں ہراساں کیا، میں یہ بات کسی کو نہیں بتا سکتی تھی، نہ تو والدہ کو اور نہ ہی بھائیوں کو۔فریال نے انکشاف کیا کہ میں کئی بار خودکشی کرنے کی کوشش کرچکی ہوں، جب جب میرے والدین کے درمیان کچھ ہوتا تھا تو میں خود کو الزام دیتی تھی، میں بے حد جذباتی ہوں۔ میں اپنی زندگی سے بالکل خوش نہیں تھی، جس کے بعد میں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے رنگت اور اپنے وزن کی وجہ سے انڈسٹری میں کافی کچھ برداشت کرنا پڑا۔جس کے بعد میں نے سخت ڈائیٹنگ اور ورزش کی۔وزن کم کرنے کے عمل کے دوران میں نے چینی، گوشت، چاول اور روٹی جیسی غذاؤں سے دوری اختیار کی۔ فریال کا مزید کہنا تھا کہ میرے بارے میں انڈسٹری میں یہ خیال بنایا ہوا ہے کہ میں بہت مشکل انسان ہوں، جبکہ میری نظر میں، میں سب سے آسان ہوں، میں وقت کی پابند ہوں، میں ایماندار ہوں، لیکن شاید یہاں لوگ ایمانداری برداشت نہیں کرسکتے۔

مزید : کلچر