پاکستانی فلم انڈسٹری چین اور دیگر ممالک کیساتھ مشترکہ فلمسازی کرے:شوبز شخصیات

پاکستانی فلم انڈسٹری چین اور دیگر ممالک کیساتھ مشترکہ فلمسازی کرے:شوبز ...

  



لاہور(فلم رپورٹر) شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ اگلے سال 53کے قریب زیر تکمیل پاکستانی فلمیں نمائش کے لئے پیش کی جانے کی توقع ہے۔ جن فلموں کی 2020ء میں نمائش متوقع ہے  ان میں ”زندگی تماشہ“،”ہم پلس تم“،”ڈھائی چال“،”ہاف فرائی“،”عشرت (میڈ ان چائنہ)“،”ہوئے تم اجنبی“،”گواہ رہنا“،”جگنو“،”کہے دل جدھر“،”کملی“،”لفنگے(چیپٹر ون)“،”لندن نہیں جاؤں گا“،”سوری(دی لو سٹوری)“،”سوری بابا“،”چکر“،”دم مستم“،”قائد اعظم زندہ باد“،”فیٹ مین“”لو گرو(نرم گرم)“،”ٹچ بٹن“،”چوہدری“،”چھا جا رے“،”پٹخ دے“،”یارا وے“،”سینٹی اور مینٹل“،”طیفا انٹربل2“،”تھوڑی سیٹنگ تھوڑا پیار“،”دی لیجننڈ آف مولا جٹ“،”پردے میں رہنے دو“،”منی بیک گارنٹی“،”دہلی گیٹ“،”میرے باجرے دی راکھی“،”قلفی“،”اللہ یار دی لیجنڈ آف مارخور2(اینیمیٹڈ)“،”مڈل کلاس“،”کرتار پور(جتھے گرو وسدا)“،”ضرار“،”بھاگ بھوتنی کے“،”ابھی نندن کم آن“،”چاند چہرہ“،”میں ہوں تیری گلناز“،”دال میں سارے چکر“اور”بے نظیر بھٹو“سمیت 9ان ٹائٹل شامل ہیں۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ پنجابی فلموں کو زوال آچکا،اب پنجابی فلموں کا سنہری دور کبھی واپس نہیں آسکتا  پاکستان فلم انڈسٹری کو ترقی کرنے کیلئے دنیا کے دیگر ممالک کے اشتراک سے فلمیں بنانا ہوں فلمی بحران کے خاتمہ کا واحد حل مشترکہ فلمسازی ہے فلمی صنعت میں چین دنیا کی دوسری بڑی منڈی ہے ہمیں فلمی صنعت کی ترقی کے لئے اس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔چین میں پاکستانی فلموں کی نمائش خوش آئند ہے چین کے ساتھ مشترکہ فلمسازی سے ہمیں آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے۔چین میں دنیا کی سب سے زیادہ فلم سکرینز ہیں۔پاکستان فلم انڈسٹری کو چین کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مشترکہ فلمسازی کرنی چاہیے۔ فنانسرز کی شدیدکمی کے باعث فلموں کی زیادہ تعداد میں پروڈکشن نہیں ہورہی۔ کم تعلیم یافتہ پروڈیوسرز نے پنجابی فلموں میں فحاشی کو پروموٹ کر کے انڈسٹری کو بدنام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علینے کہا کہ چین میں فلم باکس آفس دو ہزار بارہ میں سترہ ارب تھا جو کہ دو ہزار اٹھارہ میں ساٹھ ارب نوے کروڑ یوان تک جا پہنچا۔ نئے عہد میں چین کی فلمی صنعت ترقی کے سنہرے دور میں داخل ہو چکی ہے۔اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ پورے چین میں فلم باکس آفس دو ہزار بارہ میں سترہ ارب تھا جو کہ دو ہزار اٹھارہ میں ساٹھ ارب نوے کروڑ یوان تک جا پہنچا۔ فلمی صنعت میں چین دنیا کی دوسری بڑی منڈی ہے جب کہ ایک بڑا فلم ساز ملک بھی بن چکا ہے۔ دو ہزار بارہ میں چین میں فلم سکرینز کی تعداد دس ہزار تھی جب کہ دو ہزار اٹھارہ میں یہ تعداد ساٹھ ہزار سے زائد ہو گئی ہے اور اس لحاظ سے چین دنیا میں سرفہرست ہے۔اس وقت چین فلمی صنعت کے شعبے میں طاقتور ملک بننے والا ہے اور اعلی معیار کی ترقی کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ پاکستان فلم انڈسٹری میں ٹیلنٹ موجود ہے صرف سرمایہ کاری اور اسے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے‘مجھے امید ہے کہ آنیوالے دنوں میں فلم انڈسٹری کے حالات بہت  بہتر ہو جائیں گے۔  اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری کے اندر ایسا ٹیلنٹ موجود ہے جو شائد کسی اور ملک میں نہیں صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس ٹیلنٹ کو اجاگر کریں اور فلم انڈسٹری میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے۔ آنے والے دنوں میں فلم انڈسٹری کے حالات بہت  بہتر ہو جائیں گے۔اس کے لئے ہم سب کو مل کر محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

مزید : کلچر