آزادی مارچ اور روڈبلاک کرنے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا، لیاقت خٹک 

          آزادی مارچ اور روڈبلاک کرنے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا، لیاقت ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر آبپاشی لیاقت خٹک نے کہا ہے کہ بے مقصد دھرنوں، ازادی مارچ اور روڈ بلاک کرنے سے مولانا فضل الرحمان نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا اور اپنا اصل چہرہ قوم کے سامنے لے آئے علماء، فضلاء کا کام سڑکوں کی سیاست نہیں قوم کو صراط مستقیم قران و حدیث کا درس دینا ہے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو عوام نے پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی مولانا بے وقت کی راگنی الاپ رہے ہیں موجودہ حکومت کے خلاف مولانا انتہائی غلط پروپیگنڈہ کررہے ہیں کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے موجودہ حکومت تمام وسائل غریب عوام پر خرچ کرنا چاہتی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی وہ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے وہ اے ایس سی سنٹر ہائیر اینڈ سیکنڈری سکول میں یوم والدین اور سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے اس موقع پر قاضی حسین احمد کمپلیکس کے بورڈ اف گورنر کے چیئر مین گلریز حکیم خان، ویلج ناظم ارشد، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر عبدالرحمان، سکول پرنسپل حافظ فاروق احمد، ہائیر سیکنڈری سکول خیر اباد کے پرنسپل محمد ریاض حقانی، پرنسپل احسان احمد اور پرنسپل محمد عمر نے بھی خطاب کیا جبکہ سکول کے بچوں نے رنگارنگ ٹیبلو، نعت اور نظمیں سنائیں لیاقت خان خٹک نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کی پرفارمنس دیدنی تھی وزیر دفاع پر ویز خٹک اور وزیر اعلی محمود خان کی طرف سے نے اداروں سے سیاسی مداخلت کے خاتمے اور اداروں کی بحالی کی بدولت اج تعلیم اور صحت کے محکمے بڑی حد تک ترقی کرچکے ہیں میرٹ اور انصاف کی پالیسی کی بدولت قابل ترین نوجوانوں کو روزگار ملا اور سکولوں کی سطح پر پی ایچ ڈی سکالرز، ایم فل، اور قابل ترین اساتذہ موجود ہیں ان تعلیمی اداروں کے بچے اب خوانین چودھریوں، وڈیروں اور بڑے بڑے تاجروں کے بچوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں او ر آنے والے دور میں بھی یہ بچے اچھی نشستوں پر ہوں گے لیاقت خٹک نے سکول کے مسائل کے حل کا وعدہ کیا حکیم آباد میں پانچ روز سے جاری دھرنے پر کھڑی تنقید کی اور کہا کہ سڑکیں بند کرکے تاجروں، غریب عوام، سکول کے طلباء، طالبات اور شادی ھالوں میں شریک ہونے والے مہمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کے دینی جماعت سے تعلق رکھنے والے علماء، طلبا، اور فضلاء نے کس مقصد کے لیے اسلام اباد میں پندرہ روز گزارے اور اب یہاں پر روڈ بلاک کیا ہوا ہے ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آچکا ہے ان کو اسلام کی نہیں اسلام آباد کی فکر ہے لیاقت خٹک نے سکول کو کمپیوٹر سسٹم فراہم کرنے اور سکول کے محدوش عمارت کو از سرنو تعمیر کرنے کے لیے وزیر اعلی محمو د خان سے خصوصی فنڈز فراہم کرنے کا وعدہ کیا، بعد میں مہمان خصوصی لیاقت خٹک نے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں کامیاب طلباء میں نقد انعامات اور ٹرافیاں تقسیم کیں اس موقع پر بیسٹ ٹیچر واجد اللہ خان کو دس ہزار روپے نقد اور بیسٹ پرفارمنس سرٹیفیکٹ دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر مکرم علیشاہ گیلانی، قاری شفیق سمیت کئی اساتذہ کو بھی بیسٹ سرٹیفیکٹ دئیے گئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر