نسیم وکی کا رائٹر ڈائریکٹر زاہد شاہ کی سٹیج ڈرامہ بچاؤ مہم کی حمایت کا اعلان

  نسیم وکی کا رائٹر ڈائریکٹر زاہد شاہ کی سٹیج ڈرامہ بچاؤ مہم کی حمایت کا ...

  



لاہور(فلم رپورٹر)سٹیج ڈرامے کے معرو ف اداکار اور کامیڈی کے بادشاہ نسیم وکی نے رائٹر ڈائریکٹر و پروڈیوسر زاہد شاہ کی سٹیج ڈرامہ بچاؤ مہم کی حمایت کا اعلان کردیا، زاہدشاہ کی مہم سٹیج ڈرامہ کی بہتری اور فنکاروں کی بقا کے لئے ہے، سٹیج میری پہچان ہے اس کی ترقی اور بہتری کے لئے محنت کرتے رہیں گے، جو لوگ سٹیج ڈرامے کو تباہ کرنا چاہتے ہیں وہ سٹیج اور فنکاروں کے دشمن ہیں،شوبز انڈسٹری میں سٹیج ڈرامے کا اہم کردار ہے اور ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس سے شوبز انڈسٹری کو با صلاحیت اور قابل فنکار ملتے ہیں، ان خیالات کا اظہا را انہوں نے معروف رائٹر، ڈائریکٹر و پروڈیوسر زاہد شاہ کی سٹیج ڈرامہ بچاؤ مہم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا، نسیم وکی کا کہنا تھا کہ زاہد شاہ شوبز انڈسٹر ی اور سٹیج ڈرامے کی دنیا کا بڑا نام ہیں جس نے سٹیج کے حوالے سے ایسے ڈرامے دیئے ہیں جن کو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا، ہم نے اسٹیج ڈراموں کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں اور کمرشل ڈراموں کو کبھی بھی تباہ نہیں ہونے دیں گے، زاہد شاہ اسٹیج ڈرامہ بچاؤ مہم تھیٹر کی بقاء کے لئے کر رہے ہیں۔

اور ان کی کوششوں میں ایک عام آرٹسٹ کی فلاح و بہبود کا راز چھپا ہوا ہے، جن لوگوں کو زاہد شاہ کے اس عمل سے پریشانی ہے وہ یقینی طور پر فنکاروں کے نام پر منافقین کا ٹولہ ہیں جو سٹیج کو تباہ کر نے کی کوششیں کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے رائٹر ڈاءئریکٹرو پروڈیوسر زاہد شاہ کے ساتھ میگا کاسٹ و بجٹ کا سٹیج ڈرامہ امن کا چھکا کیا، میگا بجٹ کا یہ ڈرامہ سال 2011میں بنایا گیا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب امن و امان کے حوالے سے کراچی کے حالات بہت خراب تھے اور لوگ گھروں سے نکلنے سے ڈرتے تھے، ایسے موقع پر یہ میگا بجٹ ڈرامہ بنا کر زاہد شاہ نے یہ ثابت کیا کہ وہ سٹیج سے محبت کرنے والا آدمی ہے اور سٹیج کی بہتری کے لیئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتا، اس لیئے ان کی اس مہم کے حوالے سے کراچی میں سٹیج ڈراموں کے بحالی کے لیئے اس مہم کے لئے اگر مجھے کراچی بھی آنا پڑا تو میں ضرور آؤں گا اور زاہد شاہ کی ان کاوشوں اور کوششوں کے لئے ان کا بھرپور ساتھ دیں گے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی شہر میں سٹیج ڈرامے کی ٹکٹ کی قیمت مناسب ہونی چایئے تاکہ شائقین کو خریدنے میں مشکل نہ ہو اور ڈرامے کا معیار بھی نہ گرے اور نہ ہی فنکار کی قدر میں کوئی کمی آئے۔

مزید : کلچر