قبائل کی جائیداد پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف احتجاجی دھرنا

  قبائل کی جائیداد پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف احتجاجی دھرنا

  



پاراچنار(نمائندہ پاکستان)ضلع کرم کے قبائل نے افغان مہاجرین کی جانب سے ان کی جائیداد پر ناجائز قبضے اور تعمیرات کے خلاف احتجاجی دھرنا شروع کردیا وسطی کرم کے علی شیر زئی قبائل نے شاملاتی رقبے پر افغان مہاجرین کی جانب سے ناجائز قبضے اور تعمیرات کے خلاف احتجاجی دھرنا شروع کردیا ہے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے علی شیر زئی قبائل کے عمائدین حاجی رئیس، حاجی عقل وزیر، حاجی طالب، تاج محمد اورکزئی اور دیگر عمائدین نے کہا کہ ان کے شاملاتی رقبے پر افغان مہاجرین آباد کاری کررہے ہیں اور مہاجرین کی جانب سے ناجائز تعمیرات کا سلسلہ گذشتہ بیس سالوں سے جاری ہے عمائدین نے کہا کہ انہوں نے اس ناجائز تعمیرات کو روکنے کیلئے تمام متعلقہ حکام تک اپنی فریاد پہنچائی جس پر چھ مہینے قبل اے سی سنٹرل کرم اور تحصیلدار اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی مگر تاحال کسی قسم کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کے باعث وہ احتجاجی دھرنے پر مجبور ہوگئے ہیں عمائدین نے کہا کہ وہ کسی صورت بھی اپنی اراضی پر افغان مہاجرین کی آباد کاری قبول نہیں کریں گے عمائدین نے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ ان کی زمینوں پر ناجائز قبضے اور تعمیرات کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائیں اور ان کے تعمیر شدہ گھروں کو مسمار کیا جائے بصورت دیگر وہ سنٹرل کرم سے پیدل مارچ کرتے ہوئے پاراچنار میں ڈی سی کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر