چرچ آف پاکستان،بشپ آف پشاور کا اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

    چرچ آف پاکستان،بشپ آف پشاور کا اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

  



پشاور(سٹی رپورٹر)چرچ آف پاکستان و بشپ آف پشاور نے ایڈورڈز کالج کے 1943 کے بورڈ کو بحال کرنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان،صدر پاکستان،گورنر خیبر پختونخوا اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے تاکہ اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنا یا جا سکے بصورت دیگر 25دسمبر کو احتجاج سمیت ملک گیر احتجاج کرینگے۔گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں بشپ ہمفری سرفراز پیٹر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایڈورڈز کالج کو سرکاری تحویل میں نہ لینے کا دعوی درست نہیں ہے اگر حکومت کا دعوی ٹیک ہت تو پھر ہائی کورٹ 2016کے روح سے 1943کا بورڈ بن چکا تھا جسکی تائد سپریم کورٹ نے بھی تو حکومت نے اسکی مخالفت کیوں کی جبکہ حکومت نے ایڈورڈز کالج کیلئے اپنا بورڈ بنا کر ائین کے شق نمبر 20اور 36کی ہے خلاف ورزی کی ہے جو اقلیتیوں کے اداروں کے تحفظ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کالج کے پرنسپل اور اسکے خاندان کے خلاف مہم چلائی گئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پرسپل کے چار ج لینے کے وقت کالج کی مالی حالت خراب تھی اور پرسپل نے چار سال کی مدت میں کالج کو بہتر کیا اور کالج کا رزلٹ بھی 96فیصد سے نیچے نہیں گھیرا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور دیگرحکومتہ عہدیداران سے مطالبہ کیا ہے کہ مسیح برادری کے جائز حقوق کو مد نطر رکھتے ہوئے عدالتی فیصلوں کی روشنی میں 1943کا بورڈ بحال کیا جائے بصورت دیگر ملک گیر احتجاج کیساتھ ساتھ 25دسمبر کو کرمس منانے سمیت احتجاج بھی کرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر