امام مسجد کے حافظ قرآن بیٹے کا اغوا، پولیس کی دانستہ خاموشی!

امام مسجد کے حافظ قرآن بیٹے کا اغوا، پولیس کی دانستہ خاموشی!

  



تحریر محمد ارشد شیخ (بیوروچیف شیخوپورہ)

ضلع شیخوپورہ کے تھانہ سٹی اے ڈویژن کے علاقہ محلہ سلطان پورہ میں ڈیڑھ ماہ قبل امام مسجد کے حافظ قرآن بیٹے کے اغواء کے اس ددر ناک واقع سے پہلے مجھے تمہید باندھنے کی اس لئے ضرورت محسوس نہیں ہوئی کیوں کیوں کہ یہ واقع خود ایک داستان کی حیثیت رکھتا ہے آج سے 20برس قبل جنوبی پنجاب کے ڈیژن ملتان سے درس قران کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش لے کر یہاں شیخوپورہ میں آنے والے محلہ سلطان پورہ شیخوپورہ کی مسجد کے موجودہ امام قاری محمد رمضان نے”روز نامہ پاکستان“ کو اپنی رُودار سناتے ہوئے بتایا کہ مورخہ 25ستمبر 2019کو میں اور میرے بیوی بچے مسجد سے ملحقہ اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے کہ اچانک دروازہ پر دستک ہوئی اور میرا حافظ قرآن 14سالہ بچہ محمد رضا نیچے دروازہ کھولنے گیا اور کافی دیر تک واپس نہ آیا تو ہمیں تشویش لاحق ہوئی جس پر ہم نے اس کی تلاش شروع کردی مگر وہ نہ ملا،میں نے بر وقت پولیس کو اطلاع دی تو انہوں نے ایف آئی آر کا اندراج کر کے بچے کو تلاش کرنے کی بجائے اس وقت کی ایس ایچ او ظفر اقبال نے کیبل اور سوشل میڈیا پر بچے کی گمشدگی کے اشتہارات چلوانے کا مشورہ دے دیا اور یوں معاملہ الجھاؤ کاشکار ہوگیا اور امام مسجد قاری محمد رمضان نے کہا کہ میں مورخہ 20-09-2019سے لے کر اعلی پولیس آفیسران کے دفاتر اور تھانہ کچہری کے چکر لگا کر خوار ہو گیا مگر نہ تو میرے بچے کے اغواء کا کسی نے مقدمہ دج کیا اور نہ ہی اس کی باز یابی کے لئے کوئی کاوش کی گئی بعدازاں تھانہ سٹی اے ڈویژن میں ا نسپکٹر رانا محمد اقبال کی تعنیاتی عمل میں آئی جو میرے لئے اس حوالے سے وقتی طور پر ٹھنڈی ہوا کاجھونکا ثابت ہوئی کہ انہوں کے آتے ہی سب سے پہلے میرے 14سالہ حافظ قران بچے محمد رضا کے اغواء کی نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا اور پھر سب انسپکٹر محمد ادریس کو میرے مغوی بچے کی باز یابی پر معمور کر دیا ایف آئی آر کا اندراج اور تفتیش میں تیزی کی تمام تروجہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غازی صلاح الدین کے حکم پر ہی عمل میں آئی اب میں نے پولیس کو ساتھ لے کر بچے کی تلاش شروع کی تو ہم نے لاہور اور فیصل آباد سے لے کر پنجاب بھر کے متعد داضلاع کے شیلٹر ہومز، یتیم خانوں،درباروں،ورکشاپس اوردیگر ایسے ایسے مقامات پرحاضریاں دیں کہ ہماری بس ہوگئی مگر میرا بچہ بازیاب نہ ہو سکاجامعہ مسجد گھمول شریف محلہ سطان پورہ شیخوپورہ میں امام مسجد کی نوکری کرکے ڈھائی تین ہزار یاچار ہزار تک ماہانہ تنخواہ لے کر اہل خانہ کو پالنا اور بچوں کو دینی ودیناوی تعلیم حاصل کروانا انسان پرکسی قیامت صغریٰ سے کم نہیں قاری محمد رمضان اسکی بیوی،مصوم بچیاں اور چھوٹا بیٹا علی رضا اپنے لخت جگر14سالہ حافظ قران محمد رضا جو کہ اس فیملی کے لئے ان کے مستقبل کا ضامن بھی تصو ر کیا جا رہا تھا کو با ریاد کر کر کے دن رات رو رو کر اس فیملی نے اپنابراحال کر لیا ہے، اور یہ لوگ اپنے مغوی بچے کویاد کر کے کئی کئی روز تک کھانا پینا بھی بھول جاتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت موجودہ ڈسٹرکٹ پولیس آفسیر غازی اصلاح دین اور ایس ایچ اُو تھانہ سٹی اے ڈویژن انسپکٹر رانا محمداقبال جو نہ صرف محکمانہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں بلکہ ان میں خداداد صلاحیتوں کی بھی رتی بھر کمی نہیں اور پھر امام مسجد قاری محمد رمضان کے مغوی بچے کے مقدمہ کے تفتیشی آفسیر سب انسپکٹر محمد ادریس کی بھی ساری زندگی محکمہ پولیس میں لوگوں کے مسائل حل کرنے مین گزری ہے تو پھر مغوی حافظ قرآن محمد رضا کی بازیابی نہ جانے کیوں معمہ بنی ہوئی ہے کیا پولیس ضلع شیخوپورہ حافظ قرآن بچے کی باز ہایہ کے لیے کسی ” سوموٹو“ کا انتظار کر رہے ہیں یا پھر اس مقدمہ کو زیر دفعہ 365سے 302میں منتقل ہو جانے کا انتظار کیا جا رہاہے، اس سلسلہ میں راقم نے امام مسجد قاری محمد رمضان کے مغوی حافظ قرآن بچے محمد رضا کے مقدمہ کے تفتیشی آفسیر محمد ادریس سے رابط کیا تو انہوں نے بتایا کہ قاری محمد رمضان کے بیٹے محمد رضا کی تلاش کے لئے ہم ڈی پی اُو غازی صلاح الدین اور ایس ایچ او رانامحمد اقبال کی ہدایت پر عمل پیراں ہوتے ہوئے اپنی تمام تر محکمانہ صلاحیتوں کو بروے کا لاکر سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں محکمانہ معاملات کے علاوہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت مغوی بچے کی تلاش کے لئے فصل آباد اور لاہور سے لے کرجہاں جہاں بھی ہمیں معلوم ہو ا کہ گمشدہ بچے ملیں ہیں ہم بر وقت وہاں پہنچے ہیں اور جہاں جب جس وقت بھی مدعی مقدمی قاری محمد رمضان نے ہمیں کہا ہم اسی وقت ان کے ساتھ چل پڑے ہیں سب انسپکٹر محمد ادریس نے بھی بتایا کہ ہم نے اغواء کے اس مقدمے کی جب اپنے ائینگل سے تفتیش کی تو بہت سارے اسے حقائق بھی معلوم ہوئے ہیں جو مدعی مقدمہ اور ان کی اہل خانہ کے لیے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں مگر اسے سنگین جرائم کی دفعات کے تحت درج ہونیوالے مقدمات میں ہمیں ہر پہلو پر نظر رکھنے کی ضرروت ہوتی ہے جب ہم نے مدعی مقدمہ انکے اہل خانہ اور محلہ سلطان پورہ کے رہائشی عینی شاہدین، محلے داروں اور معززین سے اس مقدمہ کے بارے میں انفارمیشن لینے کے لیے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ محمد رضا شروع سے ہی دینی تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتا تھا مگر اس کے والدین اسے زبردستی اس تعلیم کی طرف راغب کروانے کے لیے روز پلاسٹک کے پائپ سے اس پر تشددبھی کرتے تھے اس سے قبل بھی یہ بچہ جس کی عمر15/16سال ہے اور وہ بچہ نہیں بلکہ کافی سمجھددار تھا تین مرتبہ گھر سے والدین کے رویہ سے دلبرداشتہ ہو کرغائب ہوا کبھی ملتان کبھی لاہور اور کبھی دینی مدارس سے اسکی برآمدگی ہوئی او کبھی وہ خود ہی گھر سے غائب ہو جانے کے بعد واپس بھی آجاتا اب یہ بھی معلوم ہو اہے کہ مغوی بچہ دانستہ طور پر نہ تو کسی کو اپنا نام، والد کا نا م، والد کا فون نمبر،مدرسے کا نام،گھر کا پتہ اور حتہ کے اپنے ضلع کا نام بھی درست نہ بتاتا ہے مگر پھر بھی محکمہ پولیس شیخوپورہ اس کو چیلنچ تصور کرتے ہوئے اس مسئلے کے تدارک کے لئے دن رات کوشاں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید : ایڈیشن 2