پتنگ بازی کا خونی کھیل پھر شروع، انسانی جانوں کا ضیاع کون روکے گا؟

پتنگ بازی کا خونی کھیل پھر شروع، انسانی جانوں کا ضیاع کون روکے گا؟

  



یونس باٹھ

رپورٹ؛ یو نس باٹھ عکاسی ذیشان منیر

پتنگ بازی کا خونی کھیل ملک بھر میں با لعموم اور پنجاب میں بالخصوص دھڑلے سے جاری ہے۔ یہ کھیل جہاں ہماری ثقافت، معاشرتی استحکام اور اسلامی اخلاقیات کو بگاڑنے کا سبب بن رہا ہے، وہاں آئے دن کسی نہ کسی انسان کی زندگی کا چراغ بھی گل کرتا چلاجارہا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ پتنگ کی دھاتی ڈور سے کٹ کر جاں بحق ہونے والے افراد کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو نہ پتنگ اڑاتے ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد پتنگ لوٹنا ہوتا ہے۔اتوار کے روزمغلپورہ کے علاقے میں ایک قاتل ڈور نے ایک 35سالہ شخص عامر کی زندگی کی ڈوراس وقت کا ٹ دی جب وہ دن دس بجے کے قریب اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کسی کام کے سلسلے میں کینٹ صدر کی جانب جا رہا تھا کہ پتنگ کی ڈور گلے پر پھرنے سے 35 سالہ عامرتڑپ تڑپ کرموقع پر ہی دم توڑ گیا۔ شہر میں ڈور پھرنے سے ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ڈور سے ہلاک ہو نیوالے افراد کی تعداد تین( 3) ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں میں بھی 2درجن سے زائد افراد شامل ہیں وقوعہ کے روز اس ہلاکت کے علاوہ 3افرادکے زخمی ہو نے کی اطلا عات بھی موصول ہو ئی ہیں افسوس ناک امر یہ ہے ڈور سے ہلاکتوں کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جا ری ہے جس ایس ایچ او کو وقوعہ کا زمہ دار قرار دیکر معطل کیا جا تا ہے جلد ہی اس کی بحالی اور کسی نہ کسی تھانے میں تعیناتی بھی ہو جاتی ہے یہ واقعات معمول بنتے جارہے ہیں،ڈی آئی جی آپریشنز نے اس افسو س ناک واقعہ کے بعدفوری طور پر مقامی ایس ایچ او انسپکٹر مدثر اللہ کو معطل کر کے مزید انکوائری کا حکم دیاہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لا ہور سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔جاں بحق ہو نیوالا ساہو واڑی مغلپورہ کا رہائشی تھا۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر ہسپتال بھجوایا لیکن زندگی نے ساتھ نہ دیاجہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کر دی۔وقوعہ کی اطلاع پاکر اہل خانہ بھی ہسپتال پہنچ گئے اور وہاں کہرام مچ گیا متوفی دو کمسن بچوں کا باپ اور محنت مزدوری کر کے اہل خانہ کی کفالت کر تا تھامتو فی کی لاش جیسے ہی گھر پہنچی تو وہاں قیامت صغری کا منظر تھا ہر آنکھ اشکبار اور چاروں اطراف سے زارو قطار رونے اور خواتین کے بین کر نے کی آوازوں نے فضاکو مزید سوگوار کر دیا بے گناہ شہری کی افسوس ناک ہلاکت پرو زیراعلیٰ پنجاب کو بھی نوٹس لینا پڑا، جنہوں نے جاں بحق ہونے والے شہری کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے، سردار عثمان بزدار نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پابندی کے باوجود پتنگ بازی کے واقعات ناقابل برداشت ہیں، پتنگ بازی پر پابندی کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا۔ واضع رہے اس سے قبل 20 اکتوبر کو بھی ساندہ میں 20 سالہ عثمان نامی نوجوان ڈور پھرنے سے جاں بحق ہوگیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل ایک شہری فیکٹری ایر یا میں بھی ڈور سے زخمی ہونے کے چند روز بعد ہسپتا ل میں دم توڑ چکا ہے۔اعداوشمار کے مطابق گزشتہ چندسالوں کے دوران 200 سے زائد افراد قاتل ڈور کا شکار ہوئے ہیں۔ 2004 میں 9 افراد بسنت کے دن گردن پر ڈور پھرنے سے جان کی بازی ہا ر گئے۔2005 کو 19 شہری خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ گئے، 2007 میں 10 افراد جاں بحق جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد 2009 میں اس تہوار پر مکمل پابندی کے احکامات جاری کیے گئے۔ پتنگ بازی لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں کا ایک ایسا مقبول روایتی کھیل رہا ہے جس نے باقاعدہ تہوار کی شکل اختیار کرلی تھی۔ ماضی میں ہر برس موسم بہار کی آمد پر پتنگ بازی کرکے بسنت منائی جاتی رہی لیکن پھر پتنگ بازی کے دوران ہونے والے حادثات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیا تھا اور اوسطاً سالانہ ایک سو افراد تک کی ہلاکتیں رپورٹ ہونے لگیں جس کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد کی گئی۔زیادہ تر ہلاکتیں گلے پر مانجھا لگی ڈور پھرنے،دھاتی تار والی پتنگ سے کرنٹ لگنے،بسنت پر ہونے والی ہوائی فائرنگ اور پتنگ بازی اور لوٹنے کے دوران چھت سے گرنے اور گاڑی کے نیچے آنے سے ہوتی رہی ہیں۔پتنگ بازی پر پہلی بار پابندی 2005میں لگائی گئی اس کے بعد دو بار بسنت منانے کی محدود اجازت دی گئی لیکن دونوں بار نتیجہ بھاری جانی نقصان کی صورت میں نکلا تھا۔ پابندی کے باوجودمعصوم بچوں اور بے گناہ افراد کے گلے کاٹنے والی قاتل ڈور سے پتنگ بازی کا سلسلہ سرعام جاری ہے۔قاتل کھیل پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود صوبائی دارالحکومت میں پتنگ بازی کا سلسلہ سرعام جاری ہے۔ پولیس نے پتنگ بازوں کو پکڑنے کی بجائے چپ سادھ لی اور پولیس منچلوں کو روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے بلکہ پولیس پتنگ بازوں اور پتنگ فروشوں کو پکڑ کر روکنے کی بجائے دیہاڑیاں لگانے میں مصروف رہتی ہے۔ پتنگ بازی سے ڈور پھرنے سے ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات آئے روز رونما ہو رہے ہیں۔پتنگ بازی ایک مشہور کھیل رہا ہے جو کہ بہت عرصے سے لوگوں بالخصوص مردوں کے لئے پسندیدہ مشغلہ تصور کیے جا نے لگا۔ پتنگ اڑانے کا کھیل چین سے شروع ہوا اور جاپان سمیت دنیا بھر کے لوگوں میں بہت مقبول ہو گیا۔ جاپان میں بھی یہ کھیل بہت مشہور ہوا۔ مشرقی ممالک میں بھی یہ کھیل بہت پسند کیا گیا۔ خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں لوگ دن رات کا فرق کئے بغیر یہ کھیل کھیلا کرتے۔ تقسیم ہند کے بعد بھی یہ کھیل پاکستان میں بہت مقبول رہا۔ پاکستان میں بھی پتنگ بازی کو موسم سرما کے آخر میں اور بہار کی آمد پر خاص تہوار کی صورت میں منایا جاتا تھا جسے بسنت کہتے ہیں۔ بسنت پاکستان کا مقبول تہوار تھا اور لوگ اسے بہت جوش و خروش سے مناتے تھے۔ بسنت کے دن آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرا ہوتا تھا۔ ان خوبصورت پتنگوں کو ڈور اور مانجے سے آسمان میں اڑایا جاتا تھا۔ بسنت کا تہوار منانے کے لئے دنیا بھر کے سیاح پاکستان کا رخ کرتے تھے۔ خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانی بسنت کے موقع پر پاکستان ضرور آتے تھے۔یہ تہوار ہر عمر کے لوگوں کو یکساں طور پر خوشی کا موقع فراہم کرتا تھا‘ جگہ جگہ بسنت پارٹیز کا انتظام کیا جاتا تھا اور پتنگ بازی کے مقابلے منعقد کئے جاتے تھے۔ مزیدار کھانوں‘ موسیقی اور آتشبازی کا انتظام بھی کیا جاتا تھا۔ شہر لاہور خاص طور پر اس تہوار کی رونقوں کے حوالے سے بہت مشہور تھا۔ پچھلے کئی برسوں سے پاکستان میں پتنگ بازی پر پابندی لگا دی گئی ہے اور بسنت کا تہوار اب منایا نہیں جاتا جس کی بنیادی وجہ کیمیکل ڈور کے استعمال کی وجہ سے بے شمار قیمتی جانوں کا ضیاع ہے۔ پتنگ بازی جو پہلے کبھی عوام کو خوشی پہنچانے کا باعث تھی اب لوگوں کے لئے موت کا پروانہ بن چکی ہے کیونکہ اب جرائم پیشہ لوگ کیمیکل والی ڈور کا استعمال کر کے معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور آئے دن ہمیں پتنگ بازی کے نتیجے سے اموات کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کے افسوس ناک واقعات کی وجہ سے اس خونی کھیل کو روکنے کے لیے حکومت کو انتہائی اقدامات کر نے پڑے۔ایسے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں کہ اس طرح کی حرکتوں کو روکنے کے لئے اگر اہل محلہ باہر نکلے اور ایسی پارٹیوں کا انعقاد کرنے والوں کے ساتھ جھگڑا مول لے لیا۔ایسے متعدد تصادموں میں سیکٹروں افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔بد قسمتی سے کیمیکل لگی دھاتی ڈور کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث پنجاب حکومت نے اس ہر دلعزیز میلے پر 2005ء میں پابندی لگا دی تھی۔ کئی لاہوریوں کے لئے بہار کی سچی علامتوں میں مستی بھری موسیقی اور اشتہا انگیز کھانوں کے ساتھ ساتھ پتنگوں بھرا آسمان بھی شامل ہے۔ یہ لوگ ایک ایسی سرگرمی پر پابندی کی منطق سمجھنے سے قاصر ہیں جو محض تفریح کا سامان ہے۔ ان کے نزدیک پتنگ بازی ثقافتی ورثہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ پتنگ بازی محض گلے کاٹنے کا مقابلہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس ماں سے پوچھیں جس کا پھول سا بچہ کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گیا، اس بچے سے پوچھیں جس کا باپ ڈور پھرنے کی وجہ سے مر گیا اور وہ باپ کی شفقت سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گیا۔ اس کی وجہ سے نہ صرف کئی زندگیاں ضائع ہو جاتی ہیں بلکہ یہ قومی وسائل پر ایک غیر ضروری بوجھ بھی ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دھاتی تار فروخت کرنے والے تاجر اور ان کو استعمال کرنے والے لوگوں کو گرفتار کرے۔ اگر حکومت یا کوئی بھی قانون نافذ کرنے والا ادارہ عزم کر لے تو پولیس کے لئے خونی ڈور کی تیاری اور فروخت کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے سخت اقدامات کرنا کچھ مشکل نہ ہو گا۔ یہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ نیک نیتی کے فقدان کا ہے، ذاتی مفادات اور صوبائیت نے ان کے ویژن کو بگاڑ دیا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ انتظامیہ کی سرپرستی کے بغیر پتنگیں تیار ہوں‘ مارکیٹ میں فروخت ہوں اور شہر بھر میں اڑائی بھی جائیں۔ حکومت اور انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف پتنگ بازوں کو گرفتار کرے بلکہ پتنگ سازوں کو بھی پکڑ کر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے تاکہ قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔ڈی آئی جی آپریشن لاہور اشفاق احمد خان کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں شہر میں مختلف مقامات پر گشت کرتی رہیں اور دھاتی تار سے پتنگ اڑانے اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرتی رہیں۔پولیس نے مختلف تھانوں میں درجنوں مقدمات درج کیے ہیں۔ متعدد مقدمات انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت بھی درج کیے گئے ہیں اور گرفتار ہونے والوں کی تعداد بھی درجنوں میں بتائی جا رہی ہے۔لیکن ایک افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ جب بھی پو لیس کو ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا گیا پولیس کی بڑی اکثریت نے ان کارروائیوں کی آڑ میں مال پانی بنانے کا دھندہ بھی شروع کر دیا، یعنی جو پتنگ باز یا پتنگ بازی کا ممنوعہ سامان بنانے او ربیچنے والا گرفتار ہوتا ہے، اس سے رشوت طلب کی جاتی ہے جو مٹھی گرم کر دیتا ہے، اسے فوراً چھوڑ دیا جا تا ہے او رجس کے پاس رشوت دینے کی رقم نہیں ہوتی، اسے لاک اپ میں بند کر کے مقدمہ درج کر لیا جا تا ہے۔ پولیس کا یہ طرز عمل بھی قابل گرفت ہے۔سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ عوام کا یہ اجتماعی رویہ بن چکا ہے کہ اپنی انفرادی ذمہ داریوں سے مجرمانہ غفلت برتتے ہیں اور جب کوئی نقصان ہو جا تا ہے تو اس کا سارا ملبہ حکومت پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی رویہ پتنگ بازی کے ضمن میں بھی ہمارے سامنے ہے۔یہ طے ہے کہ والدین کی اجازت اور رقم کی ادائیگی کے بغیر 80 فیصد بچے پتنگ بازی اور غیر اخلاقی حرکات نہیں کر سکتے۔ تو پھر والدین کو بھی اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی اور اپنی اولاد کو اس خونی کھیل سے دور رکھنا ہوگا، ورنہ آپ کے بچے کی موج مستی سے آج اگرکسی اور کا گھر ویران ہوگا تو کل یہ بربادی خود آپ کے گھر کی دہلیز بھی ضرور پار کرے گی۔۔۔ پس کوئی ہے جو ان باتوں پر غور کرے۔؟

مزید : ایڈیشن 2