خیبرپختونخوا کے 11اضلاع میں 5روزہ پولیو مہم شروع

خیبرپختونخوا کے 11اضلاع میں 5روزہ پولیو مہم شروع

  



ڈیرہ اسما عیل خان (بیورورپورٹ)صوبہ خیبر پختونخواکے11اضلاع میں پانچ روزہ خصوصی انسدادپولیو مہم کا آغاز 18نومبر سے ہورہا ہے۔ مہم کا فیصلہ تور غراور شانگلہ سے سامنے آنے والے پولیو کیسز کو  مدنظر رکھ کر کیا گیا۔ مہم کے دوران 11لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائے جائیں گے۔ اس اہم انسداد پولیو مہم کے انتظامات کے سلسلے میں ایمر جنسی آریشن سنٹر (ای او سی) خیبر پختونخوا میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ای اوسی کو آرڈینیٹر عبدالباسط کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس میں صوبائی محکمہ صحت اور ای پی آئی کے اعلیٰ حکام، عالمی ادارہ اطفال (یونیسیف)،ڈبلیو ایچ او، بی ایم جی ایف اور دیگر معاون اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے پیر 18نومبر سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور پولیو کے موذی وائرس کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات سے متعلق تجاویز اور حکمت عملی پر اتفاق کیا۔ای او سی کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس خصوصی پولیو مہم کو زیادہ سے زیادہ موثرانداز میں چلانے کیلئے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے 11اضلاع میں ایبٹ آباد، بٹگرام،ہری پور،کوہستان(اپر،لوئر،کولئی پالس(،مانسہرہ، شانگلہ، تورغر، چارسدہ اور مومند میں پولیو مہم چلائی جائیں گی۔ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 11 لاکھ93ہزار209بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس مقصد کیلئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز پر مشتمل 4800ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ان پولیو ٹیموں میں 4ہزار162موبائل ٹیمیں،427 فکسڈ ٹیمیں، 182 ٹرانزٹ ٹیمیں اور 33رومنگ ٹیمیں شامل ہیں جبکہ مہم کی موثر نگرانی کیلئے1ہزار189ایریا انچارجز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔کوآرڈینیٹر ای او سی عبدالباسط نے معاشرے کے تمام طبقات پر زوردیا کہ مستقبل کوپولیو کے ہاتھوں معذوری سے بچانے اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے اس پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

مزید : صفحہ اول