الیکشن کا اعتبار کیسے قائم ہوگا؟

 الیکشن کا اعتبار کیسے قائم ہوگا؟

  

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ووٹنگ ہاتھ کھڑے کرکے ہو گی اس مقصد کے لئے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا جائے گا۔ دوسری جماعتیں بھی ہمارے ساتھ مل کر بل پاس کرائیں ہم چاہتے ہیں کہ اگلا الیکشن بشمول آزادکشمیر اور سینیٹ ایسا ہو کہ ہارنے والا ہار تسلیم کر لے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے بھی ایک سسٹم لے کر آ رہے ہیں جس کے بعد وہ الیکشن کے عمل میں بھرپور حصہ لے سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ ہو گی۔ اس بارے میں الیکشن کمیشن سے بات ہو رہی ہے ای ووٹنگ کے لئے نادرا کا ڈیٹا استعمال کریں گے۔ انتخابی نظام میں تبدیلیوں پر کام جاری ہے، گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا وعدہ پورا کریں گے۔ انہوں نے یہ باتیں ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

سینیٹ کے الیکشن تو اب زیادہ دور نہیں رہ گئے مارچ 2021ء الیکشن ہوں گے اس لئے اگر سینیٹ کے الیکشن کا مروجہ طریقہ (خفیہ ووٹ) تبدیل کرکے ہاتھ کھڑے کرنے کا طریقہ رائج کرنا ہے تو الیکشن سے پہلے پہلے آئینی ترمیم منظور کرانا ہو گی۔ یہ ترمیم اپوزیشن جماعتوں کے تعاون کے بغیر منظور نہیں ہو سکتی اور گیارہ جماعتی سیاسی اتحاد پی ڈی ایم نے گزشتہ روز ہی فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے الزام لگایا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخاب میں سرکاری مشینری کا استعمال کیا گیا اور یہ الیکشن 2018ء کا ری پلے تھے۔ اس ماحول میں یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت آئینی ترمیم کے لئے اپوزیشن جماعتوں کو رضامند کر پائے گی یا نہیں اور اگر حکومت کو ان جماعتوں کا تعاون نہ ملا تو صاف ظاہر ہے کہ آئینی ترمیم منظور نہ ہو سکے گی، ایسی صورت میں سینیٹ کا الیکشن پہلے ہی کی طرح خفیہ ووٹنگ سے کرانا پڑے گا۔

جہاں تک الیکٹرانک ووٹنگ کا تعلق ہے یہ ایک پیچیدہ نظام ہے۔ بھارت میں 2015ء کے الیکشن میں ای ووٹنگ کا محدود تجربہ کیا گیا تھا اور سیاسی جماعتوں نے اس سسٹم پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ نظام بہت مہنگا ہے اگر اگلے الیکشن (2023ء) میں ملک بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو ایک اندازے کے مطابق تین لاکھ ساٹھ ہزار مشینوں کی ضرورت ہو گی۔ عالمی مارکیٹ میں ایک مشین کی قیمت 800ڈالر کے لگ بھگ ہے جب ایسی مشینوں کا آرڈر دیا جائے گا تو معلوم نہیں مشینیں بنانے والی کمپنیاں کس ریٹ پر سپلائی کریں۔ مجموعی طور پر صرف مشینوں کی خریداری کے لئے اربوں روپے درکار ہوں گے، یہ سب انتظام تسلی بخش طور پر ہو بھی جائے تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ جو سافٹ ویئر ووٹنگ کے لئے انسٹال کیا جائے گا وہ کس حد تک قابل اعتماد ہو گا اور اس پر سائبر حملے کے خدشات اور امکانات کتنے فیصد ہوں گے۔ اس سارے کام کے لئے بہت سا ہوم ورک ہونے والا ہے اور اگر حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے تو اس پر تیز رفتاری سے کام شروع کرنا ہوگا تاکہ سارے انتظامات وقت پر ہو سکیں۔

ای ووٹنگ سے پہلے انتخابی نتائج دینے والے ریزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کے ناکام تجربے کا بھی اچھی طرح جائزہ لینا ضروری ہوگا، یہ نظام بڑے دعوؤں کے ساتھ متعارف کرایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ تیزی سے نتائج الیکشن کمیشن کے پاس بھیجے گا جہاں سے نشریاتی اداروں اور چینلوں وغیرہ کو بڑی خوش اسلوبی اور سہولت سے نتائج دیئے جائیں گے لیکن عین آدھی رات کے وقت جب نتائج تیز رفتاری سے آ رہے تھے اور لوگ بے تابی سے منتظر تھے اچانک نتیجہ رک گیا، معلوم ہوا کہ آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا ہے، سسٹم بنانے والوں نے دعویٰ کیا کہ جب نتائج روکے گئے سسٹم اس وقت بھی ٹھیک کام کر رہا تھا اور یہ اطلاعات ہی غلط تھیں کہ سسٹم بیٹھ گیا ہے۔ آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ الیکٹرانک نتیجے دینے والا یہ نظام آپ بیٹھا تھا یا بٹھایا گیا تھا۔ پھر بعض حلقوں کا نتیجہ بھی کئی دن تک نہ آیا تو بہت سی کہانیاں منظرعام پر آئیں، اس پر مستزاد یہ خبریں کہ گنتی کے وقت کئی مقامات پر پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ سٹیشنوں سے نکال دیا گیا اور دستخط شدہ فارم 45بھی نہیں دیئے گئے، یہاں تک کہ بعض ٹی وی چینلوں پر پولنگ افسروں نے بھی ایسی شکایات کیں کہ گنتی کے وقت انہیں بھی نکال دیا گیا تھا، ایسے الزامات ہی الیکشن کو متنازع بناتے ہیں اس لئے یہ سوال تو پیدا ہوگا کہ کیا ای ووٹنگ سے الزام تراشیوں کا سلسلہ رک جائے گا، آر ٹی ایس بھی جدید الیکٹرانک نظام ہے اگر یہ بیٹھ سکتا ہے تو الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں کیوں نہیں بیٹھ سکتیں اور کیا محض ایسی مشینیں متعارف کرا دینے کا مطلب یہ ہو گا کہ الیکشن صاف شفاف ہو گئے؟ ایسا ہرگز نہیں اگر سافٹ ویئر سسٹم کو کرپٹ کرنے کی سازش کہیں نہ کہیں تیار کر لی جائے تو مشینیں بھی دھاندلی سے پاک الیکشن کی کوئی ضمانت نہیں دیتیں کیونکہ ان مشینوں کے پیچھے بھی تو انسانی دماغ کام کررہے ہوتے ہیں اور اگر ان دماغوں کا فیصلہ یہ ہو کہ کسے جتوانا اور کسے ہرانا ہے تو مشینیں بے کار مشق ثابت ہوں گی۔

ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم آج تک اپنے انتخابات کا اعتبار قائم نہیں کر سکے۔70ء کے جن انتخابات کو بڑے صاف شفاف قرار دیا جاتا ہے ان کی شفافیت کی حقیقت تو خود شیخ مجیب الرحمن نے الیکشن والے دن صبح کے گیارہ بجے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کر دی تھی ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کے ورکر تو مشرقی پاکستان کی تمام کی تمام نشستیں (162) جیتنا چاہتے تھے لیکن میں نے انہیں کہا کہ ایک نشست بُڈّھے (نورالامین) اور دوسری نشست راجے (راجہ تریدیورائے) کے لئے چھوڑ دو، یوں عوامی لیگ نے پولنگ شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی نتائج کا اعلان کر دیا تھا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ پولنگ سٹیشنوں پر وہی لوگ جا سکتے تھے جو عوامی لیگ کے ووٹر اور سپورٹر تھے مخالفین کو جو اگرچہ تعداد میں کم تھے پولنگ سٹیشنوں کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا گیا تھا، یہ تھی حقیقت ان منصفانہ انتخابات کی، جن کی شفافیت کا بڑا چرچا کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں الیکشن کا اعتبار مشینوں سے نہیں انسانوں کی نیتوں سے قائم ہو گا، کیونکہ انتخابی نظام پر شکوک و شبہات کے گہرے سائے مشینوں نے نہیں،انسانوں نے پھیلائے ہیں، اگر نظام کرپٹ ہو تو مشینیں بھی کرپٹ ہو جاتی ہیں اس لئے اگر انتخابی نظام کا اعتبار قائم کرنا ہے تو ان ملکوں سے سیکھیں جن کے ہاں انتخابات پر کوئی مخالف بھی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ صرف ای ووٹنگ سے اعتبار قائم نہ ہوگا،ناکام تجربے کرنے کا ہمیں بہت شوق ہے تو  یہ تجربہ کرکے بھی دیکھ لیا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -