اللہ کا خوف تو لازم ہے، موسم اور سیاست ساتھ ساتھ!

اللہ کا خوف تو لازم ہے، موسم اور سیاست ساتھ ساتھ!
اللہ کا خوف تو لازم ہے، موسم اور سیاست ساتھ ساتھ!

  

اولاد سب کو پیاری ہوتی ہے، خصوصاً بیٹیاں تو جگر کا ٹکڑا کہلاتی ہیں، وہ جواں ہو کر سسرال کی ہو جاتی ہیں، والدین اس لئے بھی ان کا خیال رکھتے ہیں اور جب اللہ نے سب کچھ دے بھی رکھا ہو تو حالات اور بھی بہتر ہوتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کو جہاں خود والد اور والدہ کی وفات کے صدمات برداشت کرنا پڑے۔ پیارے بھائیوں کی جدائی اور ان کی اولاد سے علیحدگی بھی دکھ کا باعث بنی، وہاں ان کی اپنی اولاد کو والد کی جیل یاترا بھی دیکھنا پڑی کہ وہ بچپن ہی میں والدہ کی انگلی پکڑ اور گود میں سوار ہو کر جیل میں والد کا پیار لینے جاتے تھے۔ پھر ان کی پرورش بھی دور دیس میں ماں ہی کے زیر سایہ ہوئی، جب ان کو بلوغت ملی تو والدہ کو قتل کر دیا گیا۔ وقت بہت بڑا مرہم ہے اور بڑے سے بڑے صدمات پر حوادث زمانہ کی گرد ڈال دیتا ہے، اب وقت آیا کہ محترمہ کی اولاد میں سے پہلی خوشی ملی اور بختاور کی بات طے ہو گئی، لیکن کیا زمانہ ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے، اور جیسے اچھی صورت بری بلا ہوتی ہے، ایسے ہی شہرت بھی پریشانی ہے کہ جونہی بختاور کی بات طے ہونے اور منگنی کی تاریخ کا علم ہوا، کچھ لوگ اپنی ”شرارت“ لے کر میدان میں آ گئے اور کسی تصدیق کے بغیر منگیتر اور ان کے خاندان کو کافر قرار دے دیا،

محض نام کی مشابہت کو لے کر یار لوگوں نے ہونے والے دلہا کے والد کو ”قادیانی“ بنا دیا اور ایک قادیانی کی لکھی کتاب کو بھی ان سے منسوب کر دیا۔ آصف علی زرداری سیاستدان ہیں اور ان کی حمائت و مخالفت بھی موجود ہے، ان کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں لیکن اولاد کے حوالے سے ان کے لئے یہ سب بہت ہی اذیت ناک ہے اور اسی لئے وہ تڑپے اور مولانا فضل الرحمن سے تعاون مانگ لیا، جنہوں نے متعلقہ فورم مجلس تحفظ ختم نبوت سے تحقیق کر لی کہ یہ الزام تراشا گیا اور کسی تصدیق کے بغیر ہی بختاور کے مجوزہ سسرال کو ”کافر“ قرار دے دیا۔ ہمارے کئی ثقہ صحافی حضرات نے بھی جذباتی ہو کر اس الزام کو اپنایا اور سوشل میڈیا پر اپنا حصہ ڈال دیا۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنے برخوردار راجہ ریاض کی محنت پسند آئی کہ منگنی کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے تحقیق شروع کی اور ابتداء ہی میں یہ معلوم کر لیا کہ یہ یونس چودھری کتاب والے قادیانی یونس نہیں ہیں۔ راجہ ریاض نے ہم سے بھی استفسار کیا کہ حقیقی یونس چودھری کا تعلق آرائیں برادری اور لاہور شہر سے ہے اس لئے ہم ان کی مدد کریں، ہم نے ان کو راہ سمجھا دی اور وہ اپنی خبر بنا پائے۔

ہمارے لئے بھی یہ پروپیگنڈہ افسوس کا باعث بنا کہ بناء تصدیق بہت بڑا الزام لگایا اور دین کی رو سے الزام علیہ بھی اسی سزا کا مرتکب ہے جو رسول اکرمؐ نے مرتد کی مقرر کی، پھر ہمیں اپنے میاں مصباح الرحمن کی دعوت کے روز یہ موقع مل گیا اور ہم نے برادرم نویدچودھری سے نہ صرف تصدیق کی بلکہ ان سے ایک تصویر بھی حاصل کر لی جو ہونے والے دلہا میاں کی ہے(یہ آج کے روزنامہ پاکستان کے صفحہ اول پر خبر سمیت موجود ہے) ان حالات سے بہت صدمہ ہوا کہ یہ جو مفید میڈیا ہے، اسے کس طرح غلط اور مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے اور ایسا بختاور کے ساتھ کیا گیا، جن حضرات نے یہ ابتدا کی ان کو توبہ کرنا اور اپنی تحریر کو واپس لینا چاہیے۔

یہ تو ایک تفصیلی وضاحت ہے جو ہم نے پیش کر دی اور پیپلزپارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات منور انجم کی داد دی کہ انہوں نے وضاحت میں تاخیر نہیں ہونے دی۔ بہرحال آج تو موسم کی سختی اور سیاست کی گرمی ہی کا ذکر مقصود ہے جو کچھ تحریر کیا جا چکا اسے ہماری حسِ صحافت جان کر معاف کر دیجئے کہ ہم رہ نہیں سکے اور موقع ملا تو اسے ضائع نہیں کیا، بہرحال موسم سرد ہو گیا اور اب محکمہ والے کہتے ہیں کہ سردی اوربڑھ جائے گی کہ شمالی برف باری اور وہاں کی ٹھنڈی ہواؤں نے جنوب کا رخ کر لیا ہے، ہم تو اس صورت حال کے کئی سالوں سے عادی ہو چکے اور جو سائنس دان انسانی بہبود کے لئے تحقیق کے کام کرتے ہیں،ان کی طرف سے بتائی گئی صورت حال کو تسلیم بھی کرتے ہیں، وہ عرصہ سے خبردار کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ”انسانی حرکتوں“ سے کرہ ارض تباہی کی طرف جا رہا ہے اوزان کی تہہ میں نہ صرف سوراخ ہوا بلکہ آلودگی کے باعث بڑھ بھی رہا ہے۔

اس کی وجہ سے گرما کا موسم زیادہ طویل ہوگا، گلیشیئر پگھلیں گے اور سردی کا دورانیہ کم ہوتا چلا جائے گا، یہ سب نہ صرف ہوتا رہا بلکہ وقوع پذیرہو چکا گزشتہ کئی سالوں سے گرمی زیادہ ہو گئی، عرصہ بھی بڑھ گیا اور پھر سردی یکایک آجاتی ہے۔یوں درمیان کا موسم مختصر ہو کر رہ گیا۔ اس سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور موسمی امراض بھی پھیلتے ہیں، آج کل تو کورونا، کورونا ہو رہی ہے اور موسم، آلودگی اس کی شدت میں اضافے کا باعث ہے۔ اس لئے احتیاط بھی ضروری ہے اور وزیراعظم کی اس خواہش کی تکمیل بھی لازم ہے کہ ”جنگل بڑھاؤ“ چاہے، یہ درختوں والے ہوں یا جہالت والے،بہرحال ہماری خواہش ہے کہ شجرکاری میں جو دھوکا، فریب اور خورد برد ہوتی ہے وہ نہ ہو اور پودے اتنے لگیں، جتنا اعلان ہوتا ہے اور پھر یہ درخت بھی بنیں۔

عرض کرنا ہے کہ موسم تو سرد ہو گیا، لیکن سیاسی حدت اور بھی بڑھ۔ گلگت، بلتستان کا انتخابی معرکہ محاذ آرائی میں شدت کا باعث بن گیا کہ معمول کے مطابق درست اور دھاندلی کی بات شروع ہے، پی ڈی ایم نے تو کورونا روک تھام کی قومی کمیٹی کی سفارش کے مطابق جلسے، جلوسوں کی ممانعت کو مسترد کر دیا اور اعلان کیا  ہے کہ جلسے ضرور ہوں گے، اب 22نومبر پشاور اور 30نومبر کو ملتان میں ”معرکہ آرائی“ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اللہ معاف کر دے۔

مزید :

رائے -کالم -