تعلیمی ادارے24نومبر سے 31جنوری تک بند کرنے کی تجویز،حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے،300سے زائد افراد کے تمام آؤٹ ڈور اجتماعات پر پابندی عائد،کورونا سے مزید 37اموات،2208نئے مریض رپورٹ

  تعلیمی ادارے24نومبر سے 31جنوری تک بند کرنے کی تجویز،حتمی فیصلہ آئندہ ...

  

اسلام آباد، لاہور(سٹاف رپورٹر، لیڈی رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزارت تعلیم نے سکول بند کرنے کیلئے3 تجاویز صوبوں کو بھجواد یں، جن میں تعلیمی سیشن 31 مئی تک بڑھانے کی تجویز بھی شامل ہے، جبکہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے سکولوں کے حوالے سے فیصلہ اگلے ہفتے اجلاس میں ہوگا، بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، تفصیلات کے مطابق تعلیم اداروں میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے خدشے کے پیش نظر وفاقی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں کیلئے تجاویز صوبوں کو بجھوا دی ہیں۔ تعلیمی سیشن مارچ کے بجائے مئی میں ختم کرنیکی تجویزدی گئی ہے،تعلیمی ادارے بندکرنے کے حوالے سے 3تجاویزپیش کی گئی ہیں،پہلی تجویز کے مطابق تعلیمی اداروں کو24نومبرتا 31جنوری تک بند کردیاجائے، دوسری تجویز کے مطابق24نومبرسے پرائمری سکول، تیسری تجویز میں 2دسمبرسے مڈل سکولز، 15دسمبرسے ہائیر سیکنڈری سکولز بندکردیئے جائیں۔تعلیمی سیشن کو 31مئی تک بڑھانیکی بھی تجویزدی گئی ہے۔میڑک،انٹرمیڈیٹ امتحانات جون 2021ء میں لیے جائیں گے۔ادھر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے سکولوں کے حوالے سے فیصلہ اگلے ہفتے اجلاس میں ہوگا، بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ تجویز ہے کہ سلیبس کو کم اور گرمیوں کی چھٹیوں کو ختم کر دیں یا اکیڈیمک سال آگے کردیں لیکن بچوں کی صحت پر کو ئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پورے ملک میں نصاب کو ایک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ کا سسٹم تیار ہو گیا، جلد نافذ کریں گے، ہیلتھ سہولت کارڈ سے ایک خاندان 7لاکھ 40 ہزار روپے کا علاج کسی بھی ہسپتال سے کرا سکتا ہے، یہ ایک بہترین سہولت ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں میں 12ہزار روپے کے حساب سے رقوم فراہم کی گئیں، جلد ریڈیو چینل کے ذریعے پہلی جماعت سے 5ویں جماعت کے طلبہ کو تعلیم دی جائیگی۔ پاکستان میں الگ الگ طبقہ اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں، ہم نے کورونا سے پہلے 50ہزار طلبہ کو ٹیکنا لوجی کے اداروں میں مفت داخلے دیے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا جدید طرز کے لیکچرز اور تعلیمی نظام پر کام شروع کر دیا، ٹیلی میڈ یسن کے شعبہ میں بہت کام ہو رہا ہے۔ادھر کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر سکولوں میں موسم سرما کی قبل از وقت چھٹیوں کے معاملے پر سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے سی ای او زی کی میٹنگ طلب کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کی جانب سے طلب کی گئی میٹنگ میں سکولوں میں موسم سرما کی چھٹیاں قبل از وقت دینے پر مشاورت کی جائیگی، ساتھ ہی ساتھ تمام سی ای اوز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ کانفرنس قائڈ اکیڈمی فار ایجوکیشن ڈویلپمنٹ میں ہوگی۔ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایجوکیشن اتھارٹیز کیخلاف موصول ہونیوالی شکایات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائیگا۔ علاوہ ازیں میٹنگ میں ایجوکیشن اتھارٹیز کے زیر اہتمام ترقیا تی منصوبوں پر ہونیوالے کام کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔

 وزارت تعلیم تجاویز

اسلام آباد،لاہور، کوئٹہ(سٹاف رپورٹر، لیڈی،جنرل رپورٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ملک بھر میں کورونا وائرس سے مزید 37افراد جاں بحق ہونے کے بعد اموات کی تعداد 7ہزار 230ہوگئی، جبکہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران 2ہزار 208نئے کیسز رپورٹ ہو ئے جس سے پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3لاکھ 63ہزار 380ہوگئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں ایک لاکھ 11ہزار 626، سندھ میں ایک لاکھ 57ہزار 432، خیبر پختونخوا میں 42ہزار 815، بلوچستان میں 16ہزار 529، گلگت بلتستان میں 4ہزار 467، اسلام آباد میں 24ہزار 871جبکہ آزاد کشمیر میں 5ہزار 640کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں اب تک 50لاکھ 18ہزار 483افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24گھنٹوں کے دو ر ان 38ہزار 544نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 3لاکھ 25ہزار 788مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار 551مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ پنجاب میں 2ہزار 509، سندھ میں 2ہزار 760، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 318، اسلام آباد میں 263، بلوچستا ن میں 156، گلگت بلتستان میں 93 اور آزاد کشمیر میں 131 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ملک میں کورونا کی دوسری لہر میں شدت آنے کے بعد قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی)نے کورونا سے بچاو کیلئے گزشتہ دنوں لیے گئے فیصلوں کی تفصیلات جاری کردیں۔این سی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 300سے زیادہ افراد کے تمام آؤٹ ڈور اجتماع پر فوری پابندی ہوگی، ایس او پیز پر عملدرآمد کی ذمہ داری اجتماع کے منتظمین پر ہوگی،کورونا کی وجہ سے موت یا کورونا پھیلنے پرآرگنائزر ذمہ دار ہوں گے۔شادی کیلئے ان ڈور تقریبات پر 20نومبر سے پابندی ہوگی، 300افراد کیساتھ آؤٹ ڈور شادی تقریبات ہوسکیں گی، ریسٹورنٹس میں ان ڈور ڈائننگ کی موجودہ اجازت کا اگلے ہفتے جائزہ لیا جائیگا۔ عوام کے آؤٹ ڈور ڈائننگ یا کھانا گھر لیجانے کی حوصلہ افزائی کی جائیگی، تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی جلد تعطیلات کے آپشن پر 23نومبر کو غور ہوگا اورفیصلہ تمام صوبوں، وفاقی یونٹس کی مشاورت سے ہوگا۔ مقامی انتظامیہ ماسک کی تمام پر ہجوم مقامات پر پابندی یقینی بنائیگی، تمام چیف سیکرٹریز، چیف کمشنر آئی سی ٹی کو ہدایات جاری کردی گئیں۔کورونا کی دوسری لہرمیں شدت آنے کے بعدشہر کے مزید 9علاقوں جن میں 268رہائشیوں کے کورونا ٹیسٹ پازیٹو آئے میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ کر دیا گیا،ان علاقوں میں بلاک ایف ون ویلنشیاء ٹاؤن، پیرا گون سٹی، جوہر ٹاؤن بلاک ای ون، ای ٹو، ایف ون، ایف ٹو، جی ٹو، جی فور، جی فائیو، بوائز ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ ہاؤس پنجاب یونیورسٹی،ڈی ایچ اے فیز تھری سیکٹر ایس ایس،،ڈی ایچ اے فیز ون سیکٹر این، بلاک اے اور بی،گلبرگ فو ر شامل ہیں۔مذکورہ علاقوں میں خار دار تارں اور بیرئیرز لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق لاک ڈاؤن والے علاقوں میں شاپنگ مالز،ریسٹورنٹ، نجی و سرکاری دفاتربند رہیں گے جبکہ ہر قسم کی تقریبات پرپابندی ہوگی۔میڈیکل سروسز، میڈیکل سٹور، لیبارٹری، کولیکشن پوائنٹس، ہسپتال اور کلینکس چوبیس گھنٹے کھلیں رہیں گے۔ ملک، چکن،گوسٹ، مچھلی شاپس اور بیکریزصبح سات بجے سے شام سات بجے،گراسری اور جنرل سٹورز، آٹا چکیاں، فروٹ و سبزی شاپس، تنور اور پیٹرول پمپس صبح نو بجے سے شام سات بجے تک کھلیں گے۔ ادھر کوروناکی دوسری لہر کے پیشِ نظر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے خصوصی معا ئنے کے بعد صوبہ کے 11 شہروں کے 45 نجی ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجہ کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے 33، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان میں 8، 8، سرگودھا 5، گوجرانوالہ 4، جبکہ چنیوٹ، نارووال، قصور، شیخوپورہ اور سیالکوٹ میں ایک ایک ہسپتال شامل ہے۔صاحبِ استطاعت مر یضو ں کیلئے آئیسولیشن وارڈز، ہائی ڈیپینڈینسی یونٹس اور آئی سی یوزتیارکر لئے گئے اور وینٹی لیٹرز کی سہولت بھی میسر ہے۔ ہسپتالوں کو محکمہ صحت کے ڈیش بورڈ کی رسائی دے دی گئی اوریہ معلومات فراہم کر نے کے پابند کر دئیے گئے ہیں۔پنجاب میں کورونا وائرس کے 489نئے کیسز رپورٹ، تعداد111,626 ہو گئی۔ ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق لاہورمیں 259 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ گز شتہ 24 گھنٹوں میں ہلاک ہونیوالے مریضوں کی تعداد 6 رہی۔دوسری جانب راولپنڈی65، قصور3، لیہ3 چنیوٹ 1، ملتان میں 19سیالکوٹ2، سرگودھا17، جھنگ 1 خانیوال 3، لودھراں 1اور فیصل آباد میں 9کیسز رپورٹ ہوئے۔ بہاولپور51، بہاولنگر5، رحیم یارخان 12،ٹوبہ 1، گوجر ا نو ا لہ6 اورڈیرہ غازی خان میں 8 کیسز سامنے آئے، جبکہ بھکر5،گجرات 2،نارووال 1، وہاڑی4، میانوالی 5،مظفرگڑھ 4اور ساہیوال میں 2کیسز رپورٹ ہوئے۔ذرائع کے مطابق کورونا وائرس سے مزید 17 ہلاکتیں جبکہ ابھی تک اموات کی کل تعداد2,509 ہو چکی ہے۔ اب تک 1,789,462ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد97,824 ہو چکی ہے۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے عوام سے گزارش کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں اور کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوراََ1033 پر رابطہ کریں۔لا ہور کے دو سرکاری سکولوں سے کورونا کے مزید کیسز سامنے آگئے۔ گورنمنٹ ماڈل اے پی ایس سکول سے 2 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد سکول کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذ ر ائع کے مطابق ایک نویں اور ایک دسویں جماعت کے طالبعلم میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈسٹرک ایجوکیشن اتھارٹی کے مطابق سکولوں کو کل سے تاحکم ثا نی بند کر دیا جا ئیگا۔ سکول انتظامیہ کے مطابق کلاسوں کی نشاندہی کے بعد بچوں کو قرنطینہ کر دیا جائے گا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ اب تک سکولوں میں 16 بچے کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں اور اساتذہ کی بجائے بچوں میں وائرس پھیلنے کی شرح زیادہ ہے۔ واضح رہے اس سے قبل گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول شیرشاہ کالونی کو دو کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد سیل کیا گیا تھا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے ایس او پیز کے مطابق جس بھی سکول میں 2 کورونا کیسز سامنے آتے ہیں اسے سیل کر دیا جاتا ہے۔ بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر صوبے کے تمام تفریحی مقامات 6 بجے جبکہ شاپنگ مالز، مارکیٹ، شادی ہال اور ریسٹورنٹس رات 10 بجے کے بعد بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق سمارٹ لاک ڈاون کے دوران دکانیں جلد بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سرکاری و نجی دفاتر، ٹرانسپورٹ، شاپنگ مالز سمیت تمام مقامات پر ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ماسک استعمال نہ کرنیوالوں کیخلاف دفعہ 144 کے تحت کارروائی عمل میں لا ئی جائیگی، تعلیمی اداروں کے بندش کا فیصلہ 23 نومبر کو ہونیوالے اجلاس میں کیا جائیگا۔

کورونا اموات

مزید :

صفحہ اول -