تفتیش کا نظام ناکارہ، غریب کا بشہ گم ہو جائے تو پولیس افسر لاش ملنے کا انتظار کرتے ہیں: ہائی کورٹ

      تفتیش کا نظام ناکارہ، غریب کا بشہ گم ہو جائے تو پولیس افسر لاش ملنے کا ...

  

 ملتان (خصو صی رپورٹر )ہائیکورٹ ملتان بنچ کے جج جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے خاتون کے بیٹے کی گمشدگی کے متعلق درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ غریب کا بچہ لاپتہ ہو جائے تو پولیس کے تمام افسر انتظار میں رہتے ہیں کہ ویران مقام یا جنگل سے گمشدہ بچے کی نعش ملے تو ہی تفتیش کا آغاز کیا جائے موٹروے مشہور بداخلاقی کیس میں ملزم کی ماں بہنیں تھانے میں بٹھائے رکھے گئیں تو مقتدر قوتوں نے ایک لمحے(بقیہ نمبر1صفحہ 6پر)

 کی توجہ نہیں کی ہے۔ لاپتہ افراد کی شکایت پر پولیس سی ٹی ڈی آر کی تفصیل کے لیے درخواست حکام کو بھیجتی ہے جہاں سے کم از کم تین دن بعد جواب موصول ہوتا ہے س تاخیر میں ملزم بارڈر کراس کر جاتے ہیں سی ڈی آر کے مرتب ایس او پیز تفتیش میں معاون کی بجائے رکاوٹ بن رہے ہیں پنجاب بھر میں روزنامچہ سسٹم کو ہدایت کے باوجود اب تک کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا گیا صاحب حیثیت کا بچہ گم ہو جائے تو چاروں صوبوں کی پولیس بھاگ بھاگ کر ہانپ رہی ہوتی ہے لیکن غریب کے بچے کی گمشدگی مسجد میں بکری کی گمشدگی کے اعلان جیسی ہو گئی ہے حالانکہ پولیس سے بہتر کاوشیں خود پٹشنر عورت کرتی رہی ہے۔ قبل ازیں فاضل عدالت میں کوٹ ادو کی رہائشی خاتون عابدہ پروین نے موقف اختیار کیا تھا کہ تین نومبر کو اس کا بیٹا حسنین ولد ذیشان لاپتہ ہو گیا جس پر پولیس نے اغوا کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا دو روز بعد  ملزمان کا انکشاف ہوا جن کی موٹر سائیکل کو تحویل میں لے لیا گیا لیکن ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے فاضل عدالت نے آر پی او ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر حکام کو آج عدالت کے روبرو پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کردیا ہے۔

دہائی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -