میڈیکل انٹری ٹیسٹ کی تاریخ میں توسیع‘ پالیسیاں  تبدیل ہونے پر طالبعلموں کا شدید احتجاج

   میڈیکل انٹری ٹیسٹ کی تاریخ میں توسیع‘ پالیسیاں  تبدیل ہونے پر طالبعلموں ...

  

 ملتان(سپیشل رپورٹر)حکومت نے میڈکل انٹری ٹیسٹ کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے آئے روز میڈل انٹری ٹیسٹ کے (بقیہ نمبر6صفحہ 6پر)

طریقہ میں تبدیلی سے   سٹوڈنٹس نہ صرف پریشان ہوکر رہ گئے ہیں  بلکہ ذہنی مریض بن گئے ہیں۔ اس سے حکومت اور انکے پالیسی سازوں نے ایف ایس سی کا سلیبس تبدیل کردیا تھا جو نصاب طلباء وطالبات نے پڑھا ہی نہیں تھا اور پڑھایا گیا تھا سے ٹیسٹ پیپرز بنا دیئے گئے تھے۔ پھر سٹوڈنٹس کے احتجاج کے نتیجہ میں نصاب میں کچھ تبدیلی کرتے ہوئے پرانا نصاب بحال ہوا۔ سب سے بیالوجی کا مضمون تھا جس کا کچھ حصہ بحال کیا گیا۔اور انٹری ٹیسٹ کی تاریخ بڑھا دی گئی۔ اب انٹری ٹیسٹ کے امتحان میں ظالمانہ اور بد دیانتی پر مبنی پالیسی بنائی گئی ہے۔ جس کا حیرت ناک فیصلہ یہ ہوا ہے کہ انٹری ٹیسٹ کے طلباء وطالبات کو انٹریو دینا ہو گا۔ انٹرویو کے بیس نمبر ہونگے۔ 20 نمبر کے انٹرویو کا مقصد کرپشن اور بد دیانتی کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہ سب کچھ پرائیوٹ میڈیکل کالجوں جو تعلیمی مافیا بن چکے ہیں کے ایماء پر پورا ہے۔ تاکہ انٹری ٹیسٹ کے طلباء وطالبات کو انٹرویو میں فیل کرکے سرکاری میڈیکل تعلیمی اداروں کے بجائے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا رخ کریں اور انکا مالی اور معاشی استحصال کرسکیں۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے مالکان اور حکومتی حکام کی ملی بھگت سے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں غریب اور متوسط طبقہ کے طلباء وطالبات میڈکل کی تعلیم سے محروم رہ جائینگے۔ ہم چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس پنجاب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس کھلی دھاندلی کا نوٹس لیں اور انٹری ٹیسٹ کا پہلے والا طریقہ بحال کرکے پرائیویٹ میڈیکل تعلیمی مافیا اور کرپٹ تعلیمی بیوروکریسی سے طلباء وطالبات کا تعلیمی مستقبل تباہ ہونے سے بچائیں۔

توسیع

مزید :

ملتان صفحہ آخر -