کسان اور زراعت کی خوشحالی کے بغیر ترقی ممکن نہیں!

کسان اور زراعت کی خوشحالی کے بغیر ترقی ممکن نہیں!

  

زراعت کے شعبے میں ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تو پاکستان ہر قسم کے قرضوں سے آزاد ہو سکتا ہے،چودھری عبدالرؤف تتلہ 

کسان کی حالت زار بدل کر اسے باعزت اور خوشحال بنانے سے ملک ترقی کرے گا،صدر کسان اتحاد پنجاب

حاجی ڈاکٹر لیاقت علی

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ یہاں کا کسان محنتی اور زمین سے محبت کرنے والا ہے۔ 80 فیصد آبادی کا حصہ اس شعبہ سے منسلک ہے زراعت کے شعبہ کو ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ زیادہ پیداوار کے لحاظ سے صوبہ پنجاب کو ایک اناج گھر کے طور پر سمجھا جاتا ہے، مگر آج حالت یہ ہے کہ کسان پے در پے مصیبتوں اور آفتوں سے نیم جان پڑا ہے۔ زراعت مکمل تباہی کے راستے پر ہے پنجاب کے زرخیز میدانوں میں ٹڈی دل کا راج ہے۔ ٹڈی دل جانوروں کا چارہ بھی کھائے جا رہا ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ملک کا کسان اس وقت اس قدر بے بس اور بے حال ہے کہ ہر دور میں کسی بھی حکومت نے اس کی حالت زار کی جانب کوئی توجہ نہیں دی اور دوسرا اسے ہر کوئی لوٹتا ہے لیکن یہ ہر کسی کے ہاتھوں لٹنے کے باوجود بھی ہر سال پھر اپنی فصل سے ہی پیار کر کے ایک بار پھر خوشحالی کے خواب دیکھتا ہے کہ شاید اس بار میری قسمت بدل جائے اسی امید پر اس کی بوائی کرتا ہے مگر اسے حکومتی رویوں اور دیگر مسائل سے پھر ایک بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ  ہمارا کسان دنیا بھر میں فی ایکڑ پیداوار حاصل کرنے میں اس وقت بہت پیچھے ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر دور میں حکومت ایسے بیج نہیں بنا سکی جو بدلتے موسموں میں بھی زیادہ پیداوار دیں اور مختلف بیماریوں کا مقابلہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب زراعت منافع بخش پیشہ نہیں رہ گیا، کسان کی حالت زار وقت کے ساتھ ساتھ بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ کسانوں کے بچے با امر مجبوری صنعتی مزدور بنتے جا رہے ہیں۔ دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت شروع ہے، جو مختلف شہروں میں جا کر اپنا روز گار کمانے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ اس وقت اس ملک کے اندر بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے صرف شہروں میں رہنے والے لوگ ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ ہمارا کسان اور زراعت بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں ان تمام وجوہات کی بنا پر کسان کے پیداواری اخراجات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اب زراعت سو فیصد گھاٹے کا سودا بن چکا ہے دو نمبر بیج، کھاد، ڈیزل اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات نے کسان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ کسان اپنی زمین اور زراعت سے اس طرح جُڑا ہوا ہے کہ وہ اس شعبے کو چھوڑ بھی نہیں سکتا۔

بقول شاعر:- 

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

 مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

ہر سال شوگر ملیں تاخیر سے چلائی جاتی ہیں اور گنا بھی کم ریٹ پر خریدا جاتا ہے کسان کو شوگر ملوں میں اپنے گنے کا  وزن کرواتے ہوئے بھی گھاٹے کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ بچارے کسان اپنے لادے ہوئے گنے کے ٹرالے لے کر شوگر ملوں کے باہر شدید سردی کے عالم میں کئی کئی دن تک کھڑے رہتے ہیں وہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا پھر کئی کئی سال تک کسان کو شوگر مل میں دیے گئے گنے کی رقم کی ادائیگی نہیں ہو پاتی جس کے باعث اس کسان کو اپنا کام کاج چھوڑ کر شوگر ملوں کے چکر لگانا پڑتے ہیں،مگر اس کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور یہ بچارہ کسان ایک بار پھر اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو لے کر اپنی زرعی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے۔ شوگر ملوں کے تاخیر سے جلنے سے کسان کو جو نقصان ہوتا ہے وہ اپنی گندم کی بوائی آنے والے وقت میں وقت پر نہیں کر پاتا جس کی وجہ سے گندم کی فصل شدید متاثر ہوتی ہے اور یہ بیچارہ کسان اس فصل سے بھرپور پیداوار حاصل کرنے میں قاصر رہتا ہے کسان اور زراعت اس وقت تک خوشحال نہیں ہو سکتے جب تک حکومت خود اس کی جانب توجہ نہیں دیتی کیونکہ جو لوگ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں وہی ان شوگر ملوں کے مالک ہیں۔دوسری طرف حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کے لیے بجلی ڈیزل کھاد اور دیگر ضروریات کا خیال کرے جو کسان کو اپنی فصل تیار کرنے میں پڑتی ہیں وہ خود مہیا کرے ہماری حکومتوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ کسان اور زراعت کے بغیر کسی بھی صورت ترقی ممکن نہیں ہے۔

آج کسانوں کو جو مسائل درپیش ہیں اسی بناء پر کراچی سے خیبر تک لاکھوں کسان سراپا احتجاج ہیں اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے سڑکوں پر دکھائی دے رہے ہیں۔گنے کی کاشت کے سیزن کا معاملہ ہو،قیمت کی تعین کی بات ہو یا پھر گندم کے سرکاری خریداری کے نرخ،یہ سارے وہ امور ہیں جو کسانوں کواپنے کھیت چھوڑ کر سڑکوں پر آنے پر مجبور کررہے ہیں۔

ویسے تو انسان کو زندگی گزارنے کے لیے جن بنیادی اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے ان میں خوراک، لباس اور رہائش شامل ہیں۔چونکہ ان اجزا کا تعلق براہِ راست زراعت سے ہے اس لیے کسی بھی ملک کے لیے زراعت کلیدی اہمیت کا حامل شعبہ ہے۔ زراعت کا شعبہ نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے اور صنعت وملکی معیشت کی ترقی میں کردار بھی ادا کرتا ہے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ زرعی ترقی کے بغیر ملک میں صنعتی ترقی ممکن نہیں کیونکہ صنعتوں کے لئے خام مال یہی شعبہ فراہم کرتا ہے۔ جس قدرعمدہ اور زیادہ خام مال فراہم ہوتا رہتا ہے اسی قدر صنعتی پیداوار اور ترقی میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے برعکس اگر زرعی پیداوار میں کمی کے باعث خام مال صنعتی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو صنعتیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔

کسانوں کی کسمپرسی دیکھئے کہ چینی کی کم قیمتوں کی وجہ سے گنے کے کاشتکاروں کو اپنی فصل شوگر انڈسٹری کے صنعت کاروں کے رحم وکرم پر چھوڑنی پڑتی ہے۔کسانوں کو گنے کی مناسب قیمت نہیں دی جاتی بلکہ معمولی قیمت کی ادائیگی کے لیے بھی مہینوں تک محروم رکھا جاتا ہے۔شوگر ملیں کروڑوں روپوں کی نادہندہ ہیں کیونکہ بیشتر شوگر ملیں حکمرانوں اور سیاسی راہنماؤں کی ذاتی ملکیت ہیں۔کپاس کی فصل میں خسارہ معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری زوال کا شکار ہے۔اس سے بڑھ کر ہمارے لیے المیہ کیا ہوگا کہ کپاس کی پیداوار میں تیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود ہم نے پچھلے سال چار ارب ڈالر کی کپاس درآمد کی ہے۔گندم ہمارے اہم غذائی اجناس میں شامل ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ لاکھوں ٹن گندم سرکاری گوداموں میں پڑی تلف ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے فلور ملیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔گزشتہ سال گندم کا وافر سٹاک ہونے کے باوجودیو کرائن سے 7لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی جبکہ خیبرپختونخواہ میں آٹا روس سے اسمگل کیا گیا جو پہلے زیادہ تر پنجاب کی فلور ملیں کیا کرتی تھیں۔ان تمام خرابیوں کی وجہ صرف یہ ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری، شوگر انڈسٹری، فلور ملز کی بہتری کے لیے تو اقدامات کیے گئے لیکن انہیں خام مال مہیا کرنے والے کسانوں کے متعلق سنجیدگی سے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا گیا۔صنعت کاروں کو ٹیکسز پر چھوٹ دی جاتی ہے، قرضے معاف کردیے جاتے جبکہ کسانوں کو صرف زبانی کلامی بہلایا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں کسانوں کے بے شمار مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے لیکن آج تک ان کے حل کی کوئی سنجیدہ اور ٹھوس کوشش نہیں کی گئی۔فی الوقت ہم زرعی مصنوعات بیچنے والوں پر انحصار کررہے ہیں جو ہمیں بیجوں اور کیڑے مار دواؤں کے بارے میں بتاتے ہیں - وہ جو بتاتے ہیں ہمیں ماننا پڑتا ہے- اگر یہ معلومات حکومتی ایجنسی فراہم کرے تووہ مستند ہوں گی۔

زرعی ترقی اور کسانوں کے مسائل کے حوالے سے جب کسان اتحاد پنجاب کے صدر چودھری عبدالرؤف تتلہ سے گفتگو کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے میں ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تو پاکستان ہر قسم کے قرضوں سے آزاد ہو سکتا ہے،کسان کی حالت زار بدل کر اسے باعزت اور خوشحال بنانے سے ملک ترقی کرے گا۔صدر کسان اتحاد پنجاب کے مطابق  کاشت کاری میں مشکلات کی وجہ سے پاکستان کا جی ڈی پی غیرمتوازن ہے اور معاشی ترقی بھی سست روی کا شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی پی میں کاشت کاری کا حصہ 25% ہے۔تقریباً 45%افراد کا روزگار کاشت کاری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔کم و بیش62%افراد جن کا تعلق دیہی علاقہ جات سے ہے وہ بھی روزی روٹی کمانے کیلئے کاشت کاری کے شعبے سے منسلک ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سخت گرمی میں کھلے آسمان کے نیچے اور یخ بستہ سردی میں ستاروں کی روشنی میں اپنے خون پسینے کی کمائی سے ملک کیلئے زرِ مبادلہ اکٹھا کر تے ہیں،ملکی صنعت کیلئے خام مال پیدا کرتے ہیں۔ زرعی پیدا وار میں اضافہ ہی ملکی معیشت کی حالت بہتر کر سکتا ہے۔ہماری حکومتیں مکمل طور پر ملکی معیشت کا سہاراآئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو مانے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر زراعت کے شعبے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تو پاکستان ہر قسم کے قرضوں سے آزاد ہو سکتا ہے۔ دوسری یہ کہ اگر زراعت پر توجہ دی جائے تو پاکستان جو کہ یو این ڈی پی کے مطابق آبادی میں ہر سال 2%بڑھ رہا ہے،جہاں عام انسان کی بنیادی ضرورت یعنی کہ خوراک کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ خدا داد نعمتوں سے مالا مال ہونے کے باوجود ہم اربوں ڈالر کی گندم بیرون ملک مارکیٹ سے خریدتے ہیں۔اس سال حکومت نے کپاس کا ہدف سوا کروڑ بیلز کا مقرر کیا ہے۔ لیکن پچھلے سال کاٹن کی پیداوار 6.8%کم ہوئی ہے جو کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں 2015کے بعد کم ترین ہے اور تقریباً 90لاکھ بیلز کی پیداوار ہوئی ہے۔ چاول کی پیداوار میں بھی اس طرح کمی واقع ہوئی ہے۔ حالانکہ پاکستان میں باسمتی چاول کی بہترین قسم پیدا ہوتی ہے لیکن گزشتہ سال باسمتی چاول 1,83,000 ٹن برآمد کیا گیا۔ جو کہ گزشتہ سالوں سے 4%کم ہے۔ اسی طرح گنے کا کاشت کار بھی بد حالی کا شکار ہے۔ شوگر مل مالکان گنے کے غریب کاشتکار کے سرمائے کو ہضم کر کے بیٹھے ہیں پچھلے سال گنے کے کاشت کار کو 133بلین کا خسارہ ہوا جو کہ مل مالکان کی ادائیگیاں نہ کرنے کی وجہ سے تھا۔ پاکستان کے کسان کو دنیا کے باقی ممالک کے کسانوں کو ملنے والی سبسڈی کے مقابلے میں صرف 20%ملتی ہے۔ 

صدر کسان اتحاد پنجاب نے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین اور انڈیا میں پاکستان سے زیادہ سبسڈی کسانوں کو دی جاتی ہے۔ اس لیے ان کا کاشتکاری کا شعبہ ہم سے بہتر ہے۔ چونکہ ان ممالک میں حکومت کی طرف سے مراعات ملنے کی وجہ سے فصل پر کاشت کا خرچہ کم ہوتا ہے اس لیے وہ بیرون ملک اس کو کم نرخ پر بیچ سکتا ہے لیکن پاکستان میں کسان کا فی ایکڑ فصل پر خرچہ بہت زیادہ آتا ہے۔ اسکی وجہ ٹیوب ویل یا بجلی کا فکس ریٹ نہ ہونا، مہنگی کھاد، مہنگا ڈیزل اور زرعی ٹیکس ہے۔ جن کی وجہ سے بڑے کاشت کار بھی اپنی زمینیں ٹھیکے پر دے رہے ہیں۔ اور چھوٹا کاشت کار جو کہ چار ایکڑ سے دس ایکڑ کا مالک ہے اس کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان اس وقت پانی کی کمی کے خطرناک مسئلے سے دوچار ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -