معیشت کی بحالی سے متعلق وزیر اعظم کا اعتماد غور طلب!

معیشت کی بحالی سے متعلق وزیر اعظم کا اعتماد غور طلب!

  

چینی کی قیمت 65روپے کلو ہونے کا امکان ہے 

مہنگائی سدھائے ہوئے ہاتھی کی طرح رام ہو جائے گی

کورونا کی دوسری لہر سے کہیں کئے کرائے پر پانی نہ پھر جائے

حامد ولید

وزیر اعظم عمران خان کا معیشت کی بحالی سے متعلق اعتماد دیدنی ہے، وہ تسلسل سے عوام کو باور کرا رہے ہیں کہ مشکل وقت گزر گیا ہے اور اب راوی چین ہی چین لکھے گا۔ پاکستان پورے خطے میں تیزی سے معاشی ترقی کرنے والا ملک بنے گا اور عوام کی جس مہنگائی کے ہاتھوں درگت بن رہی ہے، وہ بھی سدھائے ہوئے ہاتھی کی طرح رام ہو جائے گی۔ تاہم اس ضمن میں ان کو اگر کوئی تشویش لاحق ہے تو صرف یہ ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کے سبب حالات دوبارہ ابتری کا شکار نہ ہو جائیں اور کہیں سارے کئے کرائے پر پانی نہ پھر جائے۔ 

ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو وزیراعظم عمران خان کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہہ رہے ہیں کیونکہ پاکستان کا روزمرہ ضروریات کی اشیاء کا حساس قیمتوں کا انڈیکس مسلسل دوسرے ہفتے قیمتوں میں گراوٹ کی نوید دے رہا ہے اور حکومت کو قوی امید ہے کہ وہ مہنگائی کو مزید قابو میں لے آئے گی۔دوسری جانب کورونا وبا کے باوجود ستمبر کے مہینے میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 7 اعشاریہ 7 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی ہے۔

آئندہ برس فروری میں پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکنے کے روشن امکانات ہیں جس کے نتیجے میں نئی سرمایہ کاری کے آنے کی توقع ہے۔پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے مارکیٹ میں روپے کی قدر کو مضبوط کرنے کے لئے مرکزی بینک نے ڈالر اور روپے کی آزادانہ تجارت میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی۔اگلے تین چار مہینوں میں روپے کی قدر میں کمی کو نہیں دیکھتے۔ ان کے مطابق اب سے لے کر فروری تک روپیہ تھوڑا مزید مضبوط ہو سکتا ہے جس کی بنیادی وجہ جی 20 ممالک کی جانب سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کا موخر ہونا ہے۔سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں میں توازن کے لیے دیے گئے دو ارب ڈالر کی واپسی اور اس سے روپے پر کسی قسم کے دباؤ کے سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دو ارب ڈالر کی ادائیگی کی صورت میں بھی کوئی فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ پاکستان نے کچھ متبادل ذرائع سے مزید مالی امداد کا انتظام کر رکھا ہے جو سعودی عرب کو دو ارب ڈالر کی واپسی کی صورت میں روپے کو سہارا دیں گے۔روپے کی قدر میں اضافے سے برآمد کنندگان کو ہونے والے نقصان کے بارے میں ملک بوستان نے کہا کہ پاکستانی کرنسی ابھی بھی ڈالر کے مقابلے میں خطے کی دوسری کرنسیوں کے مقابلے میں ’انڈر ویلیو‘ ہے جو ابھی پاکستانی برآمدی شعبے کے لیے منافع بخش ہے۔

وزیر اعظم تسلسل سے کہتے آرہے ہیں کہ اگر انہیں گزشتہ حکومتوں کے قرضوں کا بوجھ نہ اٹھانا پڑتا تو اِس وقت معیشت کا اپنے صحیح راستے پر گامزن ہونا یقینی تھا جس کا ایک ثبوت 17سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس ہونا ہے اور اب ملک کو قرضے لینے کی اس قدر ضرورت نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر مستحکم ہونے کی توقع ہے جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ اپنی گراوٹ کے انتہائی نقطے کو چھو چکا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے ڈالر کے مقابلے میں آئندہ آنے والے دنوں میں مستحکم ہو جائے گا۔اس کا ایک سبب یہ ہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم نے گزشتہ چار ماہ کے دوران صورتحال کا بنظر غائر جائزہ لیتے ہوئے بروقت اور حوصلہ افزا اقدامات کئے جس کے نتیجے میں ڈالر اکاؤنٹ سرپلس ہوگیا ہے۔ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی میں رواں برس ماہ اگست کے اختتام سے لے کر اب تک ساڑھے نو روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی میں رواں برس ماہ اگست کے اختتام سے لے کر اب تک ساڑھے نو روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اگست کے اختتامی دنوں میں ایک ڈالر کی قیمت 168 روپے 43 پیسے تھی جو اب بہتر ہو کر 158 روپے 91 پیسے ہو چکی ہے۔ اس سال فروری کے مہینے میں ڈالر کی قیمت 154 روپے کے لگ بھگ تھی تاہم اس کے بعد روپے کی قیمت میں بے تحاشا کمی دیکھنے میں آئی اور ڈالر مقامی کرنسی کے مقابلے میں 168 روپے کی سطح سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔ڈالر کے مقابلے میں پاکستان روپے کی قدر میں کمی نے ایک جانب ملکی درآمدات کو مہنگا گیا تو دوسری جانب اس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کرنسی کے کاروبار سے وابستہ افراد اور ماہرین معیشت روپے کی قدر میں بہتری کو حکومت کی جانب سے لیے گئے چند اقدامات اور کچھ مثبت معاشی اشاریوں سے منسوب کر رہے ہیں۔ماہر ین معیشت نے پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافے پر تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پہلی اکتوبر سے اب تک ڈالر اور روپے کی قدر دیکھی جائے تو روپے کی قدر میں 3.1 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انھوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں اکتوبر سے لے کر اب تک ہونے والے اضافے کی وجہ سے پاکستانی روپیہ ایشیا میں تیسرے نمبر پر ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں اضافہ کرنے والی کرنسی بن چکا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران صرف انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کی کرنسیوں کی قدر میں پاکستانی کرنسی سے زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ انڈونیشیا کی کرنسی نے اس عرصے کے دوران ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں 4.5 فیصد اضافہ کیا تو جنوبی کوریا کی کرنسی میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 3.6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے عہدیداران کہتے ہیں کہ فروری کے مہینے میں ایک ڈالر کی قیمت 154 روپے کے لگ بھگ تھی تاہم ملک میں کورونا وارئرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن نے غیر ملکی سرمایہ کاروں پر گھبراہٹ طاری کر دی تھی جس کی وجہ سے ملک میں ٹریژری بلوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں سے ساڑھے تین ارب ڈالر ملک سے نکل گئے، جس کی وجہ سے ملکی کرنسی دباؤ کا شکار ہوئی اور اس کی قدر میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی۔وہ کہتے ہیں کہ تاہم حالیہ ہفتوں میں روپے کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور یہ اضافہ مختصر عرصے میں بہت نمایاں ہے۔ 

موسمیاتی تبدیلیوں نے علیحدہ سے مسائل پیدا کئے اور گندم کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب چینی کے بحران کی بڑی وجہ اِس انڈسٹری میں پائی جانے والی کارٹلائزیشن ہے جس کی مکمل چھان بین کے بعد حکومت جو اقدامات کرنے جا رہی ہے، اُس کی رو سے آئندہ اِس کا اعادہ نہیں ہوگا۔ حکومت نے گزشتہ چار ماہ کے عرصے میں کسی بھی نئے قرضے کے حصول میں اضافہ نہیں کیا۔ٹیکسٹائل سیکٹر بحالی کی جانب گامزن ہے، آٹو موبائل کی صنعت اور سیمنٹ کی فروخت میں اضافے خصوصاً صنعتی شعبے کے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی خوشخبری ہے جس سے روزگار کے مواقع میں اضافے کی توقع پیدا ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ کورونا وبا کے پہلے حملے سے قبل معاشی اشاریے بہتری کی جانب جا رہے تھے۔ ریونیو گروتھ بھی 17فیصد پر تھی، برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا تھا لیکن جونہی کورونا کا حملہ ہوا تو سوائے چند ایک کے باقی شعبوں کی گروتھ کورونا کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی۔ عالمی، ایشیائی ترقیاتی بینک، ایشین انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے قرضے، گرانٹس اور پروگرام تسلسل سے جاری ہیں۔ اِس ضمن میں آئی ایم ایف کی بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کے تقاضے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو پہلے ہی بہت بلندی پر پہنچ چکے ہیں اور موجودہ مہنگائی میں اِس کا بڑا حصہ ہے۔ مزید برآں حکومت نے رواں مالی سال کے اوائل میں صنعتوں کے لئے سستی بجلی کا جو ریلیف پیکیج دیا ہے اگر اُس میں تسلسل برقرار رہتا ہے تو اُس کے صنعت و تجارت پر مزید حوصلہ افزا اثرات مرتب ہوں گے۔ البتہ اِس وقت ملک پر 44ہزار ارب کے غیرملکی اور کم و بیش پانچ ہزار ارب روپے کے مقامی قرضوں کا بوجھ ہے، اِن سے چھٹکارا ہی معیشت کے نمو پانے کی بنیادی کسوٹی ہے۔ اِن سب کے باوجود حکومت کے لئے کرپشن اور مہنگائی بدستور ایک چیلنج بنی ہوئی ہے بلاشبہ حکومت اِس کا ازالہ کرنے میں سنجیدہ ہے مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تاہم معاشی حالات میں سدھار لانے کی بڑی کسوٹی یہی ہے کہ گرانی کو سطحی نہیں بلکہ حالات میں سدھار لانے سے کنٹرول کیا جائے۔ 

دوسری جانب پنجاب کی شوگر ملوں نے 15نومبر سے کرشنگ سیزن کا آغاز کر دیا ہے جبکہ بارہ شوگر ملیں 10نومبر سے چینی بنارہی ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ اس کرشنگ سیزن کے آغاز سے صوبہ خیبر پختونخوا‘ صوبہ پنجاب‘ صوبہ سندھ میں چینی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ چینی کی قیمت 110روپے کلو سے کم ہو کر ایکس مل ریٹ 85روپے کلو تک نیچے آ گئی ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کرشنگ سیزن شروع ہوتا ہے تو چینی کی قیمت سو ایک سو پانچ روپے کلو سے کم ہو کر 50روپے کلو تک آتی رہی ہے بشرطیکہ کمپی ٹیشن کمیشن آف پاکستان شوگرمافیا کے کارٹل کا نوٹس لے اور کمپی ٹیشن لاء کے تحت فوری ایکشن کرے۔ امید کی جان رہی ہے کہ چینی کی قیمت 30نومبر تک 70روپے کلو تک ہو جائیگی اور 31دسمبر 2020ء تک چینی کی قیمت 65روپے کلو ہونے کا امکان ہے کیونکہ اس بار گنے کی پیداوار میں 10فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس وقت گنے کے کچا ہونے کے سبب ریکوری 6فیصد ہے جواگلے ماہ بڑھ کر 8فیصد تک چلی جائیگی اور اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت اسی تناسب سے نیچے آ جائیگی۔ چینی اور اسکی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی 31دسمبر تک صارفین کو کم قیمت پر مصنوعات دستیاب ہونگی۔ گلوبل وارمنگ سے قبل سندھ میں شوگر ملیں 15سے 20اکتوبر تک کرشنگ سیزن شروع کر دیتی تھیں اور پنجاب کی شوگر ملیں یکم نومبر سے چینی بنانا شروع کرتی تھیں لیکن گلوبل وارمنگ اور آلودگی کے نتیجے میں زراعت چاہے وہ کپاس ہو‘ مکئی ہو‘ چاول ہو‘ گنا ہو‘ گندم ہو ایک ایک مہینہ پیچھے چلی گئی ہیں۔ حکومت کا اصرار ہے کہ کاشتکار 15نومبر سے پہلے گندم کاشت کر لیں جس کیخلاف جنوبی پنجاب میں کسان احتجاج اور مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے کپاس اور دوسری فصلیں اٹھا لیں‘ زمین خالی ہو پھر وہ گندم بوئیں گے۔ اس مرتبہ ایک نیا ایشو سامنے آیا ہے کہ سندھ کی شوگر ملوں کے بیوپاری پنجاب میں سیاسی سیاستدانوں کی ملی بھگت سے خریداری کے غیرقانونی مراکز پر پنجاب کا گنا ایک سو ساٹھ سے ایک سو ستر روپے من خرید کر لے جا رہے ہیں جبکہ پنجاب کے کین کمشنر نے گنے کی امدادی قیمت 200روپے من مقرر کر رکھی ہے۔ اس غیرقانونی خریداری کے مراکز کیخلاف افسر شاہی آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہوئی ہے۔ اگلے سال جب گنا پھر مہنگا ہو گیا تو اس وقت حکمرانوں کی آنکھیں کھلیں گی۔ پچھلے سال گنے کی امدادی قیمت 190روپے فی من تھی لیکن شوگر ملوں کو اڑھائی سو سے تین سو روپے من گنا مل سکا۔ اس سے لاگت نوے روپے کلو تک پہنچ گئی۔  کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت غیرقانونی گنے کے خریداری مراکز بند کرائے مگر تاحال حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پندرہ نومبر سے چلنے والی 31شوگر ملیں پنجاب میں کب چینی بنانا بند کریں گی تو انہوں نے کہا کہ شوگر ملیں وسط مارچ تک بند ہو جائیں گی۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے حال ہی میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ نامی سکیم نے بھی بیرون ملک پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے میں کافی مدد دی ہے جس کی وجہ سے ان کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں ملنے والے ریلیف نے بھی ملکی کرنسی کو بہت زیادہ مدد فراہم کی جس کی وجہ سے پاکستان کی ادائیگیوں میں توازن دیکھنے میں آیا۔معاشی امور کے ماہر ین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ملک کو شارٹ ٹرم میں غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں جو رعایت حاصل ہوئی اس نے روپے کو بہت زیادہ سہارا دیا۔ ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافے نے روپے کو مزید تقویت پہنچائی۔یاد رہے کہ پاکستان کی ترسیلات زر موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 31 فیصد اضافے کے ساتھ سات ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو گذشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں ساڑھے پانچ ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں۔پاکستان کی اس سال اکتوبر کے مہینے میں برآمدات میں دو فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ درآمدات میں دس فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی۔امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل ہونے والے اضافے کے بارے میں کرنسی ڈیلر اور معیشت کے شعبے کے ماہرین پُرامید ہے کہ یہ آنے والے دنوں میں برقرار رہے گا اور روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید مضبوط ہو گا۔ایک امریکی ڈالر 155 پاکستانی روپے تک آ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا ڈالر اور روپے کی آزادانہ تجارت کی سطح یہی بنتی ہے۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -