پاک افغان تجارت وسرمایہ کاری فورم 2020

پاک افغان تجارت وسرمایہ کاری فورم 2020

  

2010ء کے معاہدے کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی تجارت 70فیصد چاہ بہار اور بندر عباس کے راستے منتقل ہو گئی 

 ضیاء الحق سرحدی پشاور

 ziaulhaqsarhadi@gmail.com

پاک افغان تجارت وسرمایہ کاری فورم  2020ء دو روزہ سیمینار بعنوان (Pakistan—Regional Economic Integration Activity (PREIA))پاکستان ریجنل اکنامکس انٹی گریشن ایکٹیوٹی ”پریا“اور نیشنل اسمبلی آف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اشتراک  سے سرینا ہوٹل میں کیا گیا۔ پاکستان کی موجودہ حکومت افغانستان کے ساتھ تجارت و اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے جبکہ قومی اسمبلی آف پاکستان میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں پاک۔افغان فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹوکمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے  جو دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں کے لیے ایک فعال کردار ادا کر رہی ہے اور ایگزیکٹیو کمیٹی کی سفارشات پر حکومت نے افغانستان کے لیے  آزادانہ ویزا پالیسی کے اجراکے علاوہ دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ  میں حائل رکاوٹوں کو دور رکرنے کے لیے متعدد اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔اس موقع پر افغانستان کے وزیر برائے صنعت و تجارت نثار احمد گوریانی نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انہیں مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے اور ٹرانزٹ ٹریڈاور دوطرفہ تجارت میں حائل رکاٹوں کو دور کرنے اور تاجر برادری کو سہولیات کی فراہمی کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، اسپیکر قومی اسمبلی اور پارلیمانی سطح پر ہونے والی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے قومی اسمبلی آف پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے2روزہ سیمینار کی تعریف کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہا ر کیا کہ یہ سیمیناردوطرفہ تعلقات خصوصااقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں ایک پیش خیمہ ثابت ہو گا۔۔جس میں پاکستان افغانستان بزنس کمیونٹی اقتصادی شعبوں میں پاک افغان تعاون کو فروغ دینے کے لئے گروپس تشکیل دیئے گئے تھے۔پہلے گروپ جس کی صدارت ممبر قومی اسمبلی محمد یعقوب شیخ نے کی جس میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں اخراجات کی کمی کے علاوہ تعمیراتی ڈھانچے کے معاملات تیسرے ملک تک رسائی،کنٹینرزاور ڈرائیوروں کے عارضی داخلے کی پالیسی اور سرحدی چوکیوں پر سہولیات کی فراہمی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں راقم ضیاء الحق سرحدی نے بتایا کہ2010کے معاہدے میں کافی مشکلات ہیں جس کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی تجارت 70فیصد چاہ بہار اور بندر عباس کے راستے منتقل ہو گئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نیا معاہدہ جو کہ فروری 2021میں ہونے جا رہا ہے۔اس میں دونوں جانب کے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کراس معاہدے میں ترمیم کی جائے تاکہ ماضی کی غلطیوں کودوبارہ نہ دہرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ 21اکتوبر کو ایک وفد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ڈائریکٹریٹ کی سربراہی میں گمرک (کسٹم ہاؤس) افغانستان گیا تھا اور وہاں کے کلکٹر کسٹم،سیکیورٹی کے اعلی حکام ودیگر اداروں کے علاوہ ننگرہار چیمبر آف کامرس کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران تقریباً 4ہزار خالی کنٹینرز جو کہ خور میدان افغانستان میں گزشتہ کئی دنوں سے کھڑے تھے اُن کو جلد از جلد واپس پاکستان لانے کے بارے میں تجاویز پیش کی اور ایک مکینزم تیار کیا گیا کہ شام 6بجے سے صبح 6بجے تک خالی کنٹینرز کی کلیئرنس ہو گی اور صبح 6بجے سے لے کر شام 6بجے تک افغانستان سے امپورٹ ایکسپورٹ اور اسی طرح پاکستان کے ایکسپورٹ اور افغانستان کے گڈز جائیں گے،لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔دوسرا گروپ جو صنعتی شعبے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقعوں سے متعلق تھا اس گروپ کی صدارت ممبر قومی اسمبلی محترمہ شاندانہ گلزار نے کی۔ اس گروپ میں تعمیرات،ٹیکسٹائل،پلاسٹک اور دواسازی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر خصوصی گفتگو کی گئی۔زراعت،خوراک،لائیوسٹاک کے شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقعوں سے متعلق گروپ کی سربراہی وفاقی وزیر برائے خوراک وزراعت سید فخر امام نے کی جس میں ان شعبوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ خدمات میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقعوں سے متعلق گروپ کی صدارت ممبر قومی اسمبلی مخدوم زین حسین قریشی نے کی۔جس میں بینکاری،آئی ٹی اور طبی سیاحت کے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ان گروپس میں پاکستان اور افغانستان کے اراکین،پارلیمنٹ،دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے نمائندوں،ماہرین اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی اور دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے سفارشات پیش کیں۔ا فغانستان سے آئے ہوئے مندوبین نقیب اللہ صافی، محمدیونس مہمند،ڈاکٹر مخلص احمد،عبدالحفیظ نبی،حضرت ولی،داؤد موسیٰ، آذرخش حافظی،احمد ضیاء عظیمی،اجمل صافی،احمد شاہ، نظام الدین،بشیر محمد خان،محمد نور،خان محمد اور تجارتی برادری کے نمائندوں نے دوطرفہ تجارت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی بزنس کمیونٹی پاکستان کے ساتھ معاشی تعاون کے ذریعے دوستی کے رشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہی ہے جس کا پاکستان کی طرف سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ پاکستان کی طرف سے جن شرکاء نے شرکت کی ان میں ڈی جی کسٹم احمد رضا خان، ممبر ایف بی آر ڈاکٹر سعید جدون،ڈپٹی ڈائریکٹر اسفندیار،پاک افغان جائنٹ چیمبرکے چیئرمین زبیر موتی والا، جنرل سیکرٹری فائزہ زبیر،کراچی چیمبر کے سابق صدر اسماعیل مکڈا،ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر انجینئر دارو خان،چمن چیمبر کے صدر جلات خان اچکزئی،چمن چیمبر کے سابق صدر عمران کاکڑ،حمید اللہ،نافع جان، محمد غنی، رحمت اللہ،حاجی صوفی دار،حاجی عبدالبار ی، عبدالباقی، حاجی عصمت، سرحد چیمبر کے صدر شیر باز بلور، سینئر نائب صدرمنظور الٰہی،نائب صدرجنید الطاف، سابق صدرزاہد اللہ شنواری،ملک کامران،پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدرراقم ضیاء الحق سرحدی،سرحد چیمبر کے سابق سینئر نائب صدرشاہد حسین،سرحد چیمبر کی لینڈ روٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین امتیاز احمد علی،عمار انصاری،افغان ٹریڈرز کے جنرل سیکرٹری فاروق احمد،انجینئر سعد ومحمود ودیگر نے ان گروپس میں دوطرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے سیر حاصل گفتگو کی گئی۔اس گفتگو کے دوران پاکستانی اور افغانی ہم منصبوں نے ٹھوس سفارشات بھی پیش کیں جن سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔جیسا کہ آپ کومعلوم ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ سے کورونا وائرس وبا کی وجہ سے افغانستان جانے والے گیارہ ہزار سے زائد کنٹینروں کی پاکستان میں پھنسے ہونے کی اطلاعات تھی۔ قومی اسمبلی نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔سپیکر اسد قیصر نے پاکستان۔ افغانستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے تحت چار پارلیمانی ٹاسک فورسز تشکیل دیں تاکہ متعلقہ سٹیک ہولڈر زکے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ٹاسک فورسز نے 20سے زائد اجلاس منعقد  کئے۔ بندرگا ہوں اور کراسنگ پوائنٹس کے متعدد دورے کئے تاکہ درپیش مسائل کا حل نکا لا جائے۔مختلف وزارتوں کے درمیان بھر پور رابطے کی وجہ سے اب سرحد پر ماہانہ 350کنٹینر کلیئر کئے جارہے ہیں۔ پورٹ سے کراسنگ پوائنٹ تک کنٹینر صرف 3دن میں کلیئر ہو رہا ہے جوکہ پہلے 28دن اس عمل میں گزرتے تھے۔باہمی تجارت کے لئے غلام خان، انگوراڈا اور خرلاچی کو بھی کھول دیا گیا ہے۔ اس سے دوطرفہ تجارت میں کئی گناہ اضافہ ہوگا۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت ٹرانزٹ ٹریڈ، دوطرفہ اور غیر رسمی طریقے سے ہو رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارت پانچ ارب ڈالر سے کم ہو کر پانچ سو ملین ڈالر تک گر چکی ہے۔ کانفرنس کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان نے کیا۔ افغانستان قومی اسمبلی کے سپیکر (اولسی جرگہ)رحمان رحمانی وفد کے ہمراہ موجود رہے۔ دونوں ملکوں کے متعلقہ وزارتوں اورمحکموں کے عہدے دار، چیمبر آف کامرس کے نمائندوں اور بڑی تعداد میں کاروباری طبقے نے بھی اس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کی سب سے اہم بات وفودکی سطح پر ریاستی عہدے داروں کی سربراہی میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان مختلف شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے اور اس میں حائل رکاوٹوں کو مل کر ختم کرنے کے لئے سفارشات مرتب کرنا تھا۔وفود کی سطح پر بات چیت کے دوران میں نے یہ بات خاص طور پر محسوس کی کہ دونوں ملکوں کے اعلی ریاستی عہدے دار وں نے کاروباری برادری کو بھر پور موقع دیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں حا ئل رکاٹوں کو دور کرنے کے لئے کھل کر اپنی تجاویز دیں۔گروپ ڈسکشن میں ایک طرف اگر چہ ریاستی عہدے داروں کا رویہ انتہائی مثبت تھا تو دوسری طرف کاروباری برادری نے بھی ماضی کی طرح ایک دوسرے پر الزامات سے گریز کیا اور صرف مسائل اور اس کے حل کے لئے تجاویز دینے تک محدود رہے۔ ماضی میں مجھے پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بحیثیت سینئر نائب صدر اور بحیثیت ڈائریکٹر افغانستان کابل جلال آباد، قندھار اور دیگر ملکوں میں اس طرح کے کئی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا لیکن جو ماحول اور رویہ اس کانفرنس میں تھا اس سے لگ رہا تھا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری ماضی کو فراموش کرکے حال میں روشن مستقبل کے لئے فیصلے کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔ وفود کی سطح پر مشاورت میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ پر اخراجات کو کم کرنا، مینو فیکچرنگ کی صنعت میں تجارت اور سرمایہ کو فروغ دینا، زراعت، خوراک، لائیو سٹاک اور معدنیات میں تجارت اور سرمایہ کے لئے موقع تلاش کرنا،بینکنگ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور طبی سیاحت کے شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے ماحول کو سازگار بنانے کے لئے سفارشات مرتب کرنا تھی۔ دونوں ملکوں میں وفد کی سطح پر باہمی مشاورت سے ٹرانزٹ ٹریڈ کو بہتر بنانے کے لئے 44 تجاویز مرتب کی گئی۔ مینو فیکچرنگ کی صنعت کو ترقی دینے کے لئے مشترکہ طور پر 39تجاویز پیش کی گئی۔ زراعت، خوراک، لائیو سٹاک اور معدنیات میں سرمایہ کاری کے حوالے سے 19تجاویز کی سفارش کی گئی۔بینکنگ سیکٹر،انفامیشن ٹیکنالوجی اور طبی سیاحت میں سرمایہ کاری کے لئے کاروباری برادری نے 27سفارشات مرتب کئے ہیں۔ کانفرنس میں ہر کسی کو مادری زبان میں بات کرنے کی اجازت تھی اس لئے افغانستان کے کاروباری طبقے کو اظہار کا بھر پور موقع ملا۔ کانفرنس میں موجوددونوں ملکوں کے سرمایہ کاروں کا مطالبہ تھا کہ دونوں ممالک اپنے سیاست اور تجارت کو الگ رکھیں۔ان کا کہناتھا کہ جوسفارشات مرتب کی گئی ہیں اگر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو تجارت کا حجم سات سے اٹھ ہزار ارب تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ پورے ملک خاص کر خیبر پختون خوا اور ضم اضلاع میں کاروبار کی نئی راہیں کھلیں گی، جبکہ افغانستان میں بھی بلا مبالغہ لاکھوں لوگوں کو روزگار کی سہولت مل جائے گی۔ اس کانفرنس کی ایک اور اہم بات پاکستان کی ارکان اسمبلی کی ذاتی دلچسپی بھی تھی۔ جس میں گروپ ڈسکشن کے سربراہ مقررہ وقت سے زیادہ وہ بیٹھے رہے۔سیشن کے اختتام کے بعد بھی وہ نہ صرف موجود رہے بلکہ کاروباری برادری کو تحمل سے سنتے بھی رہے اور ان کے باقی ماندہ تجاویز کو بھی نوٹ کر تے رہے۔رکن قومی اسمبلی محمد یعقوب شیخ، شندانہ گلزار خان اور منزہ حسن نے گروپ ڈسکشن میں بھر پور حصہ لیا۔اس دو روزہ تجارت اور سرمایہ کاری کانفرنس میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر دونوں دن خود موجود رہے۔جس سے لگ رہا تھا کہ وہ یہ سب کچھ ذاتی دلچسپی لے کر کررہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان پڑوسی ممالک ہونے کی حیثیت سے باہمی تجارت سے بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانے کیلئے دیرینہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔پاکستان اور افغانستان دونوں کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہئے کہ وہ تاریخ، مذہب اور ثقافت کے ناقابل شکست رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں دونوں ممالک ایک دوسرے کے فطری حلیف ہیں ان کا نفع نقصان ایک ہے اس لئے انہیں کسی تیسری قوت کو اپنے تعلقات بگاڑنے کا موقع نہیں دینا چاہئے اور باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ ترقی کی راہ پر شانہ بشانہ آگے بڑھنا چاہئے۔تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط کو مزید بڑھایا جاسکے کیونکہ دونوں ممالک کے ممبران ہر ممکن معاونت فراہم کرسکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے تجارتی حلقوں کے درمیان بہتر ابلاغ قائم کیا جاسکتا ہے کیونکہ پہلے ہی دونوں برادراسلامی ممالک کے درمیان اقدام کے گہرے رشتے استوار ہیں اور وفد کے دوروں سے دیگر شعبوں میں تعاون کو بھی تقویت حاصل ہوسکتی ہے اور خاص طور پر تجارت اور باہمی سرمایہ کاری کے مواقعوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -