ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرٹس کونسل کو ممبران کی لسٹ فراہم کرنے کا حکم

ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرٹس کونسل کو ممبران کی لسٹ فراہم کرنے کا حکم

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ انفارمیشن کمیشن نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے ممبران کی مکمل لسٹ درخواست گزار کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔سندھ انفارمیشن کمیشن نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرٹس کونسل کراچی کے اس عذر کو مسترد کردیا ہے کہ ممبران آرٹس کونسل کی مکمل لسٹ صرف الیکشن سے پہلے ہی جاری کی جاسکتی ہے۔بدھ کو کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر مبشر میر کی درخواست پر سندھ انفارمیشن کمیشن میں ایگزیکٹو ڈائریکٹرآرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی پیشی ہوئی۔کمیشن نے انہیں ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم جاری کیا تھا۔ کمشنر سندھ انفارمیشن کمیشن نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرٹس کونسل کراچی کے اس عذر کو مسترد کردیا ہے کہ ممبران آرٹس کونسل کی مکمل لسٹ صرف الیکشن سے پہلے ہی جاری کی جاسکتی ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق کمشنر سندھ انفارمیشن کمیشن نے معلومات تک رسائی کے حق کے ایکٹ 2016کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کا ہر ادارہ اور اس سے گرانٹ حاصل کرنے والے ادارے ہر شہری کے لیے مکمل معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔کسی تنظیم کے بائی لاز آئین پاکستان سے بالاتر نہیں ہوسکتے۔آئین پاکستان کا آرٹیکل 19۔اے کے تحت حکومتی اداروں اور حکومت سے گرانٹ حاصل کرنے والے اداروں کو اپنی معلومات اپنی ویب سائٹ پر جاری کرنا ضروری ہے۔اس کی حکم عدولی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔کمشنر سندھ انفارمیشن کمیشن نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آرٹس کونسل کراچی کو ان کی درخواست پر ایک ہفتے کی مزید مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ 25نومبر 2020تک درخواست گزار کو ممبران آرٹس کونسل کی مکمل لسٹ فراہم کرکے کمیشن کو آگاہ کیا جائے۔کمشنر سندھ انفارمیشن کمیشن نے تنبیہ کی کہ کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی قابل سزا ہے۔کمیشن کا ایکٹ ویب سائٹ پر موجود ہے اس کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔دریں اثناء درخواست گزار کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر مبشر میر نے سندھ انفارمیشن کمیشن کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل کراچی میں ہمارا گروپ آرٹس فورم پینل شفافیت کا حامی ہے۔ہمارا بیانیہ ہے کہ آرٹس کونسل کے معاملات میں ٹرانسپرنسی ہونی چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمشنر کراچی کا کیمپ آفس آرٹس کونسل میں مستقل طور پر قائم کیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -