کراچی:اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام نعتیہ مشاعرے کا انعقاد

کراچی:اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام نعتیہ مشاعرے کا انعقاد

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام”محفلِ میلاد النبیﷺ خواتین نعتیہ مشاعرے کاانعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت   معروف شاعرہ پروین حیدرنے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں  پروین حیدر نے کہاکہ محفلِ میلاد سے حضور  ﷺ سے محبت وعقیدت کا اظہار ہوتا ہے جو کسی سے محبت رکھتا ہو تو اس کا کثرت سے ذکر ہوتا ہے لہٰذ ا ذکر فضائل و میلاد شریف محبت نبوی کی علامت ہے میلاد شریف میں نعتیں کثرت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اور یہ حضور کی بارگاہ سے انعامات کے حصول کا بھترین ذریعہ ہے۔ نعت خوانی کو حضور صہ نے پسند فرمایا ہے نعت خوانوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے بلکہ ایک نعت گو کو صحابی حضرت کعب بن زہیرسلمی رضہ اللہ کو اپنی چادر مبارک بھی عطا فرمائی۔معروف شاعرہ ناہید اعظمی نے کہا کہ محفل میلاد میں انوار کا نزول ہوتا ہے وہ شعراء کرام خوش بخت ہیں جو اللہ عزوجل اورحضرت محمد  ﷺکی حمد و ثناء پیش کرتے ہیں اور اس پرعمل کرتے ہیں نعت رحمت ہے۔نعت شاہراہ جنت ہے نعت سکون قلب کی ضمانت ہے کوئی بھی قلمکار اور کوئی نظم میں اللہ عزوجل اور محسنِ انسانیت کی مدح سرائی میں معروف ہے اور کتنے ہی خوش بختوں نے نعت میں پی ایچ ڈی حاصل کی ہے۔ سب کے سب مبارکباد کے مستحق ہیں میلاد مصطفےٰ کی ولادت ربیع الاول کی مناسبت سے آج کا نعتیہ مشاعرہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔معروف شاعرہ طاہرہ سلیم سوز نے کہاکہ ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے جس میں رب العالمین نے محسنِ انسانیت پیغمبر اعظم کو رحمتِ مجسم بناکر اس خاکدان عالم میں بھیجا آپ نے اپنی روشن تعلیمات اورنورانی اخلاق کے ذریعے دنیا سے نہ صرف کفر و شرک اور جہالت کی مہیب تاریکیوں کو دور کردیا بلکہ لہوو لعب بدعات ورسومات اور بے سروپا خرافات سے مسخ شدہ انسانیت کو اخلاق و شرافت سنت و شریعت سے آراستہ و پیرا ستہ کردیا۔معروف شاعرہ نازعارف نے کہا کہ تخلیق کے علاوہ تحقیق تنقید اور تدوین کا کام بھی نعتیہ ادب کے سرمائے میں اضافے اور اعتبار کا سبب بناہے۔

مزید :

صفحہ آخر -