وزیراعظم کے دورہ فیصل آباد  کی جھلکیاں 

  وزیراعظم کے دورہ فیصل آباد  کی جھلکیاں 

  

(معظم عمران  سے) وزیراعظم بارہ بجے کے قریب ذریعہ ہوائی جہاز انٹر نیشنل ائیرپورٹ پہنچے۔سکیورٹی اورپروٹوکول کی غرض سے شہر بھر کی سڑکوں کو بند کردیا گیاتاریخ میں پہلی بار کسی بھی شخصیت کیلئے نجی ہوٹل میں جانے کیلئے زرعی یونیورسٹی،بوڑاں والی گراؤنڈ اور ائیرپورٹ پر تین الگ الگ ہیلی پیڈ بنائے گئے۔ہیلی پیڈ بننے کے باعث زرعی یونیورسٹی میں طلبہ مشکلات کا شکار رہے جبکہ سکیورٹی اداروں نے دن بھر زرعی یونیورسٹی کو حصار میں لئے رکھاجس کی وجہ سے تعلیمی نظام شدید متاثر ہوا۔بوہڑاں والی گراؤنڈ میں ہیلی کاپٹر بنانے کے باعث کرکٹ اور کرکٹر لورز مشکلات میں رہے۔وزیر اعلی عثمان بزدار اور گورنر چوہدری محمد سرور افسران اور دیگر سٹاف کے ساتھ ایک بڑے قافلے کے ساتھ وزیر اعظم کے استقبال کیلئے ائیرپورٹ پہنچے وزیر اعلی بذریعہ ہیلی کاپٹر نجی ہوٹل کی تقریب میں شرکت کیلئے روانہ ہوئے،وزیر اعلی کی گاڑیوں کا قافلہ بذریعہ ہیلی کاپٹر ہوٹل پہنچا۔۔ائیرپورٹ سے ہوٹل تک تمام روٹ پر سکیورٹی کیلئے نفری تعینات کی گئی۔ اور سڑکوں پر کرفیوکا سماں تھا۔ہوٹل کے اطراف کے راستے سیل کئے گئے تھے اور ہوٹل کا انتظام سکیورٹی اداروں نے سنبھال لیا۔ اس دوران ہوٹل کے گیسٹ ہاوس میں قیام پذیر شہریوں کو کمروں میں بند رہنا پڑا۔جبکہ عام آمدورفت بند ہونے سے ہوٹل انتظامیہ کے معاملات بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ باغ جناح کو سیل کردیا گیا تھا،اور وہاں سیر کیلئے آنیوالے حضرات کو اہل خانہ بچوں سمیت واپس بجھوا دیا گیا۔وی آئی پی لسٹوں میں شامل افرادکو ہی اندر جانے کی اجازت دی گئی۔شرکاء کو ماسک پہننے کا پابند بنایا گیاتھا۔ تاہم تقریب میں اکثریت نے ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال بھی نہیں رکھا گیا،شرکاء  کے موبائل فونز گیٹ پر جمع کرلئے گئے۔وزیر اعظم سے دس سے زائد صنعتی تنظیموں کے عہدیداروں نے ملاقات کی۔صنعتکاروں نے ٹیکسٹائل کا وزیر فیصل آباد سے لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔جواب میں وز یر اعظم نے برجستہ کہا کہ میرے باقی ساتھی ناراض ہوجائیں گے۔

جھلکیاں 

مزید :

صفحہ اول -