کرونا نے ملتان کو نشانے پر لے لیا،نشتر میں مزید 5ہلاکتیں،مجموعی تعداد 226ہوگئی

کرونا نے ملتان کو نشانے پر لے لیا،نشتر میں مزید 5ہلاکتیں،مجموعی تعداد 226ہوگئی

  

ملتان (وقائع نگار) کورونا کیسز سامنے آنے پر ملتان کے مختلف 4 علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا،تفصیل کے مطابق ملتان کے 4 مختلف علاقوں میں کورونا کیسز سامنے آنے پر ان ہاٹ سپاٹ ایریاز پر سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے ان میں جلیل آباد ریلوے روڈ، گلگشت کالونی،خان ویلج ہاؤسنگ سوسائٹی اور گارڈن ٹاؤن ملتان کے علاقے شامل ہیں، اس بارے حکومت پنجاب پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے،جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن 28 نومبر تک جاری رہے گا۔

لاک ڈاؤن

ملتان‘ مظفر گڑھ (وقا ئع نگار‘ نامہ نگار) نشتر ہسپتال ملتان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 5 مریض جاں بحق ہوگئے‘ اموات کی مجموعی تعداد 226 تک جاپہنچی۔ زیر علاج مریضوں کی تعداد 86 ہوگئی،16 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ شبہ میں 35 مریض زیر علاج،تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال کے آئی سو لیشن وارڈز میں زیر علاج ملتان کے رہائشی 51 سالہ ساجد شاہ۔36 قیصرہ پروین۔ 83 سالہ غلام فرید۔  50 سالہ محمد ناصر جبکہ سرگودھا کے  75 سالہ فیض احمد دم توڑ گئے ہیں۔ یوں یکم اپریل سے 18 نومبر کے درمیان کورونا کے باعث ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 226 ہو گئی ہے،جبکہ کورونا مریضوں کی تعداد میں بھی  مسلسل اضافہ جاری ہے،نشتر ہسپتال میں زیر علاج کورونا کہ مریضوں کی تعداد 86 ہو گئی ہے جبکہ 05 مریضوں  کا وینٹی لیٹر پر منتقل کر کے علاج جاری ہے،ادھر کورونا کے شبہ میں 86 مریض زیر علاج ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار  ہے،ادھر رواں سال نشتر ہسپتال میں کورونا کے شبہ میں 2 ہزار 720 افراد رپورٹ ہوئے جن میں سے 945 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی شدت کو روکنے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے اقدامات مزید تیز کردئیے ہیں اور اس بارے میں گزشتہ روز کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں تمام محکموں کے افسران،پرائس مجسٹریٹس ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز بھی موجود تھے،اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے پرائس مجسٹریٹس کو کمرشل مارکیٹوں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کا ٹاسک دیا اور کہا کہ ہر پرائس مجسٹریٹ اپنے ایریا میں واقع کمرشل مارکیٹوں اور پلازوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کا ذمہ دار ہو گا،کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے دکانداروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں،تمام سرکاری دفاتر میں کورونا سے حفاظت کے لئے ایس او پیز پر عمل کیا جائے،اس دوران ڈپٹی کمشنر محکمہ صحت کی ناقص کارکردگی پر افسران پر برس پڑے۔عامر خٹک نے کہا کہ محکمہ صحت کے کام ضلعی انتظامیہ کے افسران کو کرنا پڑ رہے ہیں،اگر ضلعی انتظامیہ کو کسی محکمے کی سپورٹ حاصل نہیں تو اس محکمے کے افسران کا تنخواہیں لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا،انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ لیبارٹریز سے کورونا مریضوں کا صحیح ڈیٹا کیوں حاصل نہیں کیا گیا؟ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام نجی لیبارٹریز کو کورونا بارے ڈیٹا روزانہ سہہ پہر5 بجے سے قبل دینے کا پابند بنایا جائے،عامر خٹک نے ہیلتھ کئیر کمیشن کو کورونا پازیٹیو مریضوں کا ڈیٹا نہ دینے والی لیبارٹریز کو سیل کرنے کا حکم بھی دیا اور کہا کہ ہیلتھ کئیر کمیشن سے منظورہ شدہ لیبارٹریز کو کورونا ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی جائے،مقررہ معیار چیک کرنے کے لئے ہیلتھ کئیر کمیشن تمام لیبارٹریز کے آلات کی پڑتال کرے،کورونا وائرس سے صحت مند ہونیوالے نیگیٹیو رزلٹ کے حامل افراد کوڈیٹا سے خارج کیا جائے،عامر خٹک نے کہا کہ وباء سے نمٹنے کے لئے بہترین منصوبہ بندی کے لئے کورونا کے صرف فعال کیسسز بارے آگاہ کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے آج پھر پرائیویٹ ہسپتالوں اور لیباٹریز کے مالکان کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ادھر گورنمنٹ ہائی سکول کرم داد قریشی کے ٹیچر شوکت رسول کا کورونا ٹیسٹ پازیٹیو آ گیا، جس پر سی ای او تعلیم مظفرگڑھ نے ہائی سکول کرم داد قریشی کو دس روز کے لئے بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے، سکول 28 نومبر تک بند رہے گا۔ اب تک ضلع بھر میں 12 سکولز بند کئے جا چکے ہیں۔ ملتان سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس کا  دوسرا حملہ شدت اختیار کرگیا۔روزانہ اموات کا سلسلہ جاری ہے۔جبکہ محکمہ صحت ملتان انتظامیہ کی نا اہلی کے باعث تاحال نئے مالی سال میں ادویات و لوکل پرچیز کی خریداری کیلئے پیپر ورک مکمل نہیں کیا گیا۔زبانی جمع خرچ پر عمل پیرا۔ جسکی وجہ سے رواں کروڑوں روپے بجٹ ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ملک میں اس وقت کورونا وائرس کا دوسرا حملہ خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔جسکی وجہ سے روزانہ اموات بڑھتی جارہی ہے۔ یہی صورت حال ملتان میں بھی ہے جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد اور اموات میں دن بدن  اضافہ ہوتا نظر ا رہا ہے۔جبکہ دوسری طرف محکمہ صحت ملتان انتظامیہ کی انوکھی منطق نے سب کو پریشان کر رکھا ہے۔ کیونکہ رواں مالی سال میں حکومت کی جانب سے ملنے والے کروڑوں روپے کا ادویات و لوکل پرچیر کی خریداری کا بجٹ ضائع ہونے کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔دفتر میں تاحال پرچیز آفیسر کی تعیناتی معمہ بنی ہوئی ہے۔اور پرچیز کے کمرے کو تالا لگایا ہوا ہے۔کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر محکمہ صحت ملتان  انتظامیہ کو کووڈ 19 سے  نمٹنے کیلئے ادویات و دیگر ضروری سامان کی خریداری کے لئے تیار رہنا چاہیے تھا۔مگر محکمہ صحت  ملتان نے صرف بہانے پر زور دیا ہوا ہے۔جان بوجھ کر خریداری میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔حالانکہ صوبہ کے دیگر اضلاع میں ادویات کی خریداری کیلئے پیپر ورک مکمل کرلیا گیا ہے ڈاکٹروں نے وزیر اعلی پنجاب سمیت دیگر متعلقہ حکام سے مذکورہ صورت حال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہلاکتیں 

مزید :

صفحہ اول -