آج دنیا بھر میں مردوں اور لیٹرینوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے

آج دنیا بھر میں مردوں اور لیٹرینوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے
آج دنیا بھر میں مردوں اور لیٹرینوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے
سورس:   Wikipedia

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) 19 نومبر جمعرات کو دنیا بھر میں مردوں اور لیٹرینوں کا عالمی دن ایک ساتھ منایا جارہا ہے۔

مردوں کا عالمی دن منانے کا مقصد مردوں کی 6 خصوصیات اور خدمات کو اجاگر کرنا ہے۔ ان میں قوم ، معاشرے، کمیونٹی، خاندان، شادی اور بچوں کی دیکھ بھال شامل ہے۔

پہلی بار مردوں کا عالمی دن 7 فروری 1992 کو تھامس اوسٹر نامی شخص نے منایا تھا جس کے بعد 1999 میں یہ ترینیداد اور ٹوباگو میں منایا گیا۔ مالٹا میں یہ دن 7 فروری 1994 سے باقاعدگی کے ساتھ منایا جاتا ہے، چونکہ مالٹا دنیا بھر میں مردوں کا دن منانے والا واحد ملک تھا اس لیے یہاں 2009 میں ووٹ کے ذریعے فیصلہ ہوا کہ آئندہ مردوں کا عالمی دن 19 نومبر کو منایا جائے گا۔

اس دن کو باقاعدہ ایک ایونٹ بنانے والے جیروم تلک سنگھ نے اپنے والد کی سالگرہ کی یاد میں 19 نومبر کو مردوں کے عالمی دن کے طور پر منتخب کیا۔ ان کا تعلق یونیورسٹی آف ویسٹ انڈیز سے ہے۔ تلک سنگھ کی محنت کے باعث اب دنیا بھر کے 70 ممالک میں مردوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ مردوں کا عالمی دن پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ 2010 سے جاری ہے۔ پاکستان میں ’رائٹس اینڈ رائٹس‘ نے مظفر گڑھ سے یہ دن منانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

دوسری جانب آج کے ہی دن پوری دنیا میں ٹوائلٹ، لیٹرین، ریسٹ روم یا واش روم کا بھی عالمی دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کا مںظور شدہ ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو بیت الخلا کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں 4 ارب 20 کروڑ سے زائد لوگ ایسے ہیں جنہیں بیت الخلا کی سہولت میسر نہیں ہے۔ یہ دن پہلی بار 19 نومبر 2001 کو منایا گیا تھا جس کے بعد 2012 میں 19 نومبر کو اقوام متحدہ نے بیت الخلا کے عالمی دن کے طور پر تسلیم کرلیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -