دنیا کا ہر دوسرا آدمی موٹا ہونے والا ہے، سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی، وجہ بھی بتادی

دنیا کا ہر دوسرا آدمی موٹا ہونے والا ہے، سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی، وجہ ...
دنیا کا ہر دوسرا آدمی موٹا ہونے والا ہے، سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی، وجہ بھی بتادی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) حالیہ دہائیوں میں لوگوں کی غذائی عادات بہت کچھ تبدیل ہوئی ہیں اور فاسٹ فوڈز کا چلن عام ہو چکا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں موٹاپے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اب سائنسدانوں نے اس حوالے سے ایک اور وارننگ جاری کر دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق پوٹس ڈیم انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لوگ جس تیزی کے ساتھ غیرصحت مندانہ خوراک کی طرف راغب ہو رہے ہیں، اس سے 2050ءتک دنیا کا ہر دوسرا شخص موٹاپے کا شکار ہو جائے گا۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”30سال بعد دنیا کی چار ارب آبادی موٹاپے میں مبتلا ہو گی جن میں سے ڈیڑھ ارب لوگ انتہائی موٹاپے کی کیٹیگری میں آئیں گے۔ اس کے برعکس صرف 50کروڑ لوگ کم وزن قرار پائیں گے اور ان لوگوں میں سے بیشتر کا تعلق غریب ممالک سے ہوگا۔“تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر بنیامین بوڈیرسکی کا کہنا تھا کہ 2010ءدنیا کی 29فیصد آبادی موٹاپے کا شکار ہو چکی تھی اور ان میں سے 9فیصد انتہائی موٹاپے کی کیٹیگری میں آتے تھے۔ اب مزید 10سال گزرنے پر یہ تعداد بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور اگلے 30سال بعد آدھی سے زیادہ دنیا موٹاپے کا شکار ہو گی۔ سائنسدانوں نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں پراسیسڈ فوڈزاور غذائیت سے عاری اشیائے خورونوش کا چلن عام ہو رہا ہے اور یہی موٹاپے کی شرح خطرناک حد تک بڑھنے کی اصل وجہ ہو گی۔

مزید :

تعلیم و صحت -