پشاور میں پی ڈی ایم کا جلسہ ، اپوزیشن جماعتوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر سنگین الزام عائد کردیا

پشاور میں پی ڈی ایم کا جلسہ ، اپوزیشن جماعتوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر سنگین ...
پشاور میں پی ڈی ایم کا جلسہ ، اپوزیشن جماعتوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر سنگین الزام عائد کردیا

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے خیبرپختونخواحکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے پی ڈی ایم جلسہ ناکام بنانے کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں، انتظامیہ نے مختلف جگہوں پر لگائے گئے بینرز اوربورڈز اتار دیئے،22 نومبرپی ڈی ایم کاجلسہ ہوکررہیگا،ہمیں جلسہ نہ کرنے کیلئے دھمکیاں دی جارہی اور حکومتی ایما پر ہمارے بینرز بورڈز اتارے جارہے ہیں۔

پشاور میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنماؤں سینیٹر روبینہ خالد ،عبدالجلیل جان اور اختیارولی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 22 تاریخ کو پی ڈی ایم کا جلسہ ہوکر رہیگا، میڈیا سے گزارش ہے کہ روایات کے مطابق غیرجانبدارانہ فرائض انجام دے،حکومتی ایما پر ہمارے بینرز بورڈز اتارے جارہے ہیں، ہمیں دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں، جلسہ نہ کرنے کے لیے، حکومت میڈیا پر کہتی ہے جلسے میں روکاوٹ نہیں بنیں گے اورکر کچھ اور رہے ہیں۔سینیٹرروبینہ خالد کاکہنا تھا کہ ہر مکتبہ فکر کے لوگ جلسے میں شامل ہونگے،ہر طبقہ مشکلات کاشکار ہے اور اس حکومت سے تنگ ہے،اِنہوں نے غریب کے منہ سے نوالہ, بیمار کے منہ سے دوائی تک چھین لی، ادویات تک لینے سے عوام محروم ہوچکے ہیں, ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر لوگ مر رہے ہیں۔روبینہ خالد نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں دھاندلی کی انتہا کی گئی، رات کو پی پی پی کا امیدوار جیتتا ہے, صبح اسے ہرا دیا جاتا ہے, یہ دھاندلی نہیں تو کیا ہے، ووٹ پر ڈاکہ نامنظور کا نعرہ لگاتے رہیں گے، وفاقی و صوبائی وزراء گلگت بلتستان میں ووٹ خریدنے جاتے رہے، یہ جان لیں کہ یہ لوگوں کا ضمیر نہیں خرید سکتے، 22 تاریخ اس حکومت کے خلاف ریفرینڈم ثابت ہوگا۔اسدآفریدی کاکہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں ہے، یہ جلسے کریں تو کورونا نہیں پھیلتا, ہم کریں تو کورونا پھیلتا ہے، کریک ڈاون،گرفتاریاں, پکڑ دھکڑ اس سے ہم نہیں ڈرتے، اگر زور زبردستی کی گئی تو نتائج کی ذمہ دار یہ حکومت ہوگی۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -خیبرپختون خواہ -پشاور -