علامہ خادم حسین رضوی کون تھے اور انہیں اصل شہرت کب حاصل ہوئی؟ممتاز عالم دین کی زندگی بارے جانئے

علامہ خادم حسین رضوی کون تھے اور انہیں اصل شہرت کب حاصل ہوئی؟ممتاز عالم دین ...
علامہ خادم حسین رضوی کون تھے اور انہیں اصل شہرت کب حاصل ہوئی؟ممتاز عالم دین کی زندگی بارے جانئے

  

لاہور(خالد شہزاد فاروقی)تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ اور معروف عالم دین شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی 54 سال کی عمرمیں چند روز بخار میں مبتلا رہنے کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے ہیں ،بریلوی مکتبہ فکر میں کرشماتی شخصیت قرار پانے والے جلالی طبیعت کے مالک علامہ خادم حسین رضوی نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں تحفظ ناموس رسالتﷺ اور مسلمانوں کے دلوں میں عشق مصطفیٰ ﷺ جاگزیں کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا ،علامہ خادم حسین رضوی کے اچانک انتقال کی خبر دنیا بھر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہے اور کروڑوں عاشقان مصطفیٰ ﷺاس خبر کے بعد غم میں ڈوب گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق  گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو  قتل کرنے والے ممتاز قادری کی سزائے موت کے خلاف منظر عام پر آنے والے یتیم خانہ چوک لاہور کی مقامی مسجد کے خطیب اوربریلوی مکتبہ فکر کے جید عالم دین شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی  کو عالمی شہرت نومبر 2017 میں قانون توہین رسالت میں ترمیم کے خلاف فیض آباد کے طویل اور کامیاب دھرنے سے حاصل ہوئی۔علامہ خادم حسین رضوی نے ستمبر 2017 میں تحریک لبیک پاکستان کی بنیاد رکھی اور الیکشن 2018 میں ان کی جماعت حیران کن طور پر ملک کی چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ۔علامہ خادم حسین رضوی معذور اور وہیل چیئر پر ہونے کے باوجود پیرانہ سالی میں جوانوں سے زیادہ متحرک تھے،پنجابی زبان میں اپنے منفرد اور "جلالی خطاب "سے وہ لوگوں کے دلوں کو گرمانے کے فن پر کمال دسترس رکھتے تھے،علامہ خادم حسین رضوی کو فارسی زبان اور شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کی شاعری پر عبور حاصل تھا ،اپنی تقریروں میں علامہ خادم حسین رضوی اقبالؒ کی شاعری سے سماں باندھ دیتے تھے، ان کا انداز بیان کافی سخت ہوتا تھا اور ناموس رسالت ﷺ کے دشمنوں کے لئے تو وہ کسی رو رعایت کے قائل نہ تھے۔علامہ خادم حسین رضوی ناموس رسالت ﷺ پر نہ صرف کھل کر بولنےکا ہنر رکھتے تھے بلکہ آپ کا لگایا ہوا ”لبیک یارسول اللہ“ کا نعرہ ختم نبوتﷺ کے منکرین کے لئے تیر بن کر برستا تھا ۔

علامہ خادم حسین رضوی نے اپنے مختصر سیاسی کیرئیر میں ملک بھر کے بریلوی مکتبہ فکر میں جان ڈال دی تھی ، الیکشن دو ہزار اٹھارہ میں علامہ خادم حسین رضوی کی جماعت ملک بھر میں چوتھی بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی تھی ،کئی حلقوں میں تحریک لبیک کے امیدواروں کو ملنے والے ہزاروں ووٹ سیاسی جماعتوں اور مبصرین کے لئے دھچکا تھے،سندھ  میں تحریک لبیک کے ایک امیدوار نے واضح برتری کے ساتھ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی ۔نظریاتی اختلاف کے باوجود مخالف مکتبہ فکر کے جید علماء علامہ خادم حسین رضوی کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔حال ہی میں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف علامہ خادم رضوی نے ایک بار پھر فیض آباد میں تین روز تک دھرنا دیا تھا تاہم حکومتی مذاکراتی ٹیم سے کامیاب مذاکرات کے بعد علامہ خادم رضوی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا ۔پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والے علامہ خادم حسین رضوی حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے ،وہ چند سال قبل ایک ٹریفک حادثے میں معذور ہو گئے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے تھے۔حکومت کی جانب سے علامہ خادم رضوی کے خلاف کئی مقدمات بھی درج تھے جبکہ گذشتہ سال انہوں نے کئی ماہ جیل میں قید بھی کاٹی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا ۔

مزید :

قومی -