خاکی ہے، خاک سے رکھ پیوند!

 خاکی ہے، خاک سے رکھ پیوند!
 خاکی ہے، خاک سے رکھ پیوند!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 جب عین جوانی میں جوڈیشل سروس شروع کی تو خیال تھا کہ عدالتی امور کے علاوہ بھی دماغ کا استعمال ہوگا مگر جلد ہی اس بات کا ادراک ہوا کہ یہ ایک لگی بندھی روٹین ہے اور اس میں عدالتی کام کے بعد ٹینس کھیل لینا اور شام کو اپنے کولیگز کے ساتھ گپ شپ کر لینا ہی سب سے بڑی تفریح اور عیاشی ہے۔ 
اصل زندگی کا مزہ ریٹائر منٹ کے بعد آ یا اور اس فراغت میں عقل  و خرد کے کئی در وا ہوئے۔جب کچھ لکھنا لکھانا  شروع کیا تو کچھ دوستوں کو حیرت ہوئی، اور کچھ کو پریشانی۔ بہت سوں نے کہا کہ یہ ہماری طرح کا ہی تھا اور کچھ نے کہا کہ تھا تو ہماری طرح کا ہی مگر لگتا مختلف ہے اور بہت سوں نے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔ میرے خیال میں نہ میں اُن جیسا تھا نہ اِن جیسا۔میں کچھ بھی نہ تھا اور کچھ بھی نہیں ہوں۔دوست خاطر جمع رکھیں۔ہمارے ہاں اکثر پارسائی کے دعوے کے ساتھ ہلکی پھلکی ریا کاری اور منافقت کا تڑکہ لگایا جاتا ہے۔ہم نے اپنی مقدور بھر کوشش کر کے  اس سے پرہیز ہی کیا۔البتہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب ذرا یکسوئی سے اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کی تو پچھتاوے اور ضمیر کی خلش تو نہ ملی البتہ اپنی کوتاہیوں،لغزشوں  اور ندامتوں پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور معافی کا خواستگار ہوا اور اس غفور ورحیم کی لامتناہی بخشش و مغفرت سے معافی کی امید قائم ہے۔ہمارے ہاں خود کو پارسا سمجھنے اور ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو گناہ گار اور اپنے سے برا سمجھنا بڑا ضروری ہے۔اپنے آپ کو نیک اور دوسرے کو بد سمجھ کر بات کرنے کا نشہ ہی الگ ہے۔ تکبّر، نحوت، ا نا اور احساس تفاخر مشکل وقت میں بندے کو گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کر دیتا ہے جبکہ بردباری اور عاجزی بڑے ظرف کا قرینہ ہے۔                                
کچھ دوستوں کو گلہ ہے کہ میں اکثر لوگوں کے بارے میں ا چھی اور مثبت رائے رکھتا ہوں۔ہاں یہ درست ہے۔ ایک تو مثبت سوچ  اس دور پر آ شوب میں اللہ کا انعام ہے اور دوسرا کسی کو برا کہنے سے پہلے ذرا اپنے دامن پر بھی نظر ڈال لی جائے تو بہتر ہوگا۔ممکن ہے یہ دامن زیادہ آلودہ نکلے۔


سنا تھا کہ لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ wise اور otherwise ہمارے دوست احباب اور محکمہ کے ارباب اختیار ہمیں wise سمجھتے رہے حالانکہ ہم wise  other  تھے۔لوگوں پر ہنسنا آسان اور خود پر ہنسنا کافی مشکل۔مزہ اس میں ہے کہ لوگوں پر ہنسنے کی بجائے لوگوں کے ساتھ ہنسا جائے۔ کہتے ہیں کہ جوں جوں انسان کی عقل پختہ ہوتی جاتی ہے اس کی گفتگو مختصر ہوتی جاتی ہے مگر اپنا معاملہ اس کے بر عکس رہا۔شاید کہیں پڑھا تھا کہ زیادہ باتیں وہی کر سکتا ہے جس کے پاس کہنے کے لیے کچھ ہو مگر شاید یہ متنازعہ بات ہے۔عقل مند وہ نہیں ہوتا جسے بات کرنے کا گْر اور ہنر آ تا ہو بلکہ عقل مند وہ ہے جسے یہ پتہ ہو کہ کونسی بات نہیں کرنی۔
دوستی ایک انمول تحفہ ہے اور اچھے اور مخلص دوست مقدر سے ملتے ہیں مگر جو آپکو چھوڑ نا چاہے اسے نہ روکیں کہ اس دنیا میں  سارے لوگ اپنی مرضی کے نہیں ملتے اور کچھ کا نہ  ملنا خوش قسمتی ہوتی ہے جو مل جائے اسے بچھڑنے نہ دیں اور جو بچھڑ نا چاہے وہ کہاں رکتا ہے۔                                                            
اکثر لوگوں کو اپنی بہادری کا زعم ہوتا ہے حالانکہ بہادر اور بزدل میں ”بھاگنا“مشترک ہوتا ہے۔ایک واردات کے بعد بھاگتا ہے دوسرا واردات سے پہلے۔بہادر بقیہ زندگی پچھتاوے میں گزارتا ہے جبکہ بزدل اس پچھتاوے کا مزہ لیتا ہے۔اپنی ناکامیوں کو دوسروں کے کھاتے میں ڈال دینے کا اپنا ہی مزہ ہے۔بندہ کئی قسم کی وضاحتوں سے بچ جاتا ہے۔ باس کا ماتحت کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھنا عین قانونی فرائض میں شامل ہے کہ ماتحت کا پورا سچ بھی آدھا جھوٹ ہی مانا جاتا ہے۔ پریشر میں کام کرنا مشکل ہوتا ہے اس لئے بعض لوگ ”اوپر“ کے پریشر کو ”نیچے“ منتقل کر نے میں عافیت سمجھتے ہیں۔حکمت اور معاملہ فہمی کے درمیان حماقت اور بیوقوفی کے پڑاؤ بھی آ تے ہیں، مسافر پر منحصر ہے کہ کہاں ٹھہر تا ہے۔ 


یہ حضرت انسان مصیبت سے گھبراتا ہے اور مصیبت میں گھبراتا ہے۔ہر وقت خوش رہنا چاہتا ہے مگر خوش رہنا آتا نہیں کہ خوشی کو اپنی ذات تک محدود کر لیتا ہے۔دوسروں کی خوشی اسے کم کم ہی راس آ تی ہے۔اس نے ان خوشی کے لمحات کو کرکرا کرنے کے لیے حسد، بغض، کینہ، رنجش اور کمینگی کے وافر جراثیم اپنے اندر پال رکھے ہوتے ہیں جنکی پرورش بڑی محنت سے کرتاہے۔ خاکی ہے مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند۔اونچا  اڑنا چاہتا ہے مگر اپنی ہی افتاد طبع کے ہاتھوں جلد ہی گر جاتا ہے۔اپنی عقل و فہم کو سب سے بر تر سمجھنے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتا خواہ عقل و فہم سے ناتا توڑے مدت گزر گئی۔خود نیک نہ بھی ہو نیک کہلوانا اور۔نیک نظر آ نا زیادہ پسند کرتا ہے۔نیک بننے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے اور خاک کا یہ پتلا محنت سے ذرا گھبراتا ہے۔جھوٹ بولنے اور گھڑنے کے لیے کئی تاویلیں ڈھونڈ تا ہے مگر سچ بولنے، سچ سننے اور سچ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ انسان صرف دھوکہ دیتا ہی نہیں ہے بلکہ دھوکہ کھا بھی جاتا ہے، صرف اعتماد کی دھونی دینی ہوتی ہے۔سمجھدار ہونے کے لیے واقعی سمجھ دار ہونا ضروری نہیں بس لوگوں کا ایسا سمجھنا کافی ہے۔ عورت کا آنکھ اور دل سے نہیں صرف زبان سے احترام کرتا ہے۔


عروج ملنے پر اپنے دوستوں اور بہی خواہوں سے پہلی فرصت میں نظریں بدلنا ضروری ہے۔ اپنی مارکیٹنگ خود کرنا احمقانہ اعتماد کو تقویت بخشتا ہے۔خود ستائشی ایک علّت ہے جو تکبّر کے قریب لے جاتی ہے۔دوسروں کی زبانی اپنی تعریف سننے کے انتظار سے بہتر ہے کہ خود ہی اپنی تعریف شروع کر دیں۔بات کرنے کے لیے علم کا ہونا ضروری  نہ ہے اور علم نہ بھی ہو تو میڈیا دیکھ کر بھی اچھا خاصا بحث مباحثہ کیا جا سکتا ہے۔جو آ پ نظر آ رہے ہیں،وہ آ پ ہیں نہیں اور جو آ پ نہیں ہیں وہ آپ نظر آ نے کی کوشش کر رہے ہیں،عملی طور پر کوئی نیکی کا کام کرنے سے بہتر ہے کہ سوشل میڈیا پر اچھی اچھی پوسٹیں فارورڈ کرکے  دل کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ واقعی کوئی نیکی کر رہا ہے۔لالچ اور طمع کی کوئی حد  نہیں کہ عمر اور مال کے بڑھنے سے  ان میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔صرف قناعت اسکا تریاق ہے مگر یہ نصیب والوں کے حصہ میں آ تی ہے۔
 اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے اس کی عبادت ضروری ہے مگر اس سے بھی آسان راستہ مخلوق خدا کی خدمت میں ہے۔یہ انسانی خدمت جس قدر زیادہ ہو گی اللہ کریم اتنی جلدی ہی راضی ہوں گے۔بشرطیکہ یہ خدمت ریا کاری اور دکھاوا سے پاک ہو جس کا عمل ہے بے غرض اسکی جزا کچھ اور ہے۔

مزید :

رائے -کالم -