مثال

مثال
مثال

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

معاشرے میںاس وقت تک عدل و انصاف کا بول بالا نہیں ہوسکتا جب تک وہاں امیر و غریب کے ساتھ یکساں سلوک نہ کیاجائے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا تھا کہ "تم سے پہلی قومیں اس لئے تباہ و برباد ہوگئیں کیونکہ ان میں جب کوئی چھوٹا آدمی کوئی جرم کرتا تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی جبکہ بڑے آدمی کو چھوڑ دیاجاتا۔ خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتے پکڑی جائے تو اس کے ہاتھ کاٹ دوں "۔ اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب قاضی نے وقت کے حکمران کو اپنی عدالت میں طلب کیا اور وہ وہاں خودپیش ہوا۔حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کوجرم ثابت ہونے پر سزا دلوائی اور حضرت علیؓ بھی ایک یہودی کے ساتھ تلوار کی ملکیت کے کیس میں عدالت میں پیش ہوئے۔ یہ بات نہایت اطمینان بخش ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایک آزاد اور خودمختار عدلیہ قائم ہے اور عدلیہ کو بااختیار بنانے میں پاکستانی قوم نے طویل جدوجہد کی اور قربانیاں دیں۔

سب لوگ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے پیپلزپارٹی کی حکومت کو محض اس لئے خیرباد کہا کیونکہ حکمران عدلیہ کو آزادی دینے اور ججوں کو بحال کرنے سے گریزا ں تھے۔ جس پر مسلم لیگ (ن) کے صدر محمدنوازشریف نے لانگ مارچ شروع کردیا اور یوں حکمران عوامی دباﺅ کے سامنے جھک گئے اور قوم کو ڈوگر کورٹس سے نجات مل گئی۔ اپوزیشن میں رہ کر بھی مسلم لیگ (ن) حکومت پر عدالتی فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کرنے کے لئے دباﺅ ڈالتی رہی لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکومت عدلیہ کے احترام کے جذبے سے بالکل عاری ہے۔پنجاب کے وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف گزشتہ دنوں غیر ملکی دورے پر تھے کہ ڈی ایچ اے کے علاقے میں بیکری ملازم پر مبینہ تشدد کا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ وطن واپسی پر میڈیا میں خبریں سامنے آنے پر وزیراعلیٰ شہبازشریف نے فوراً نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس واقعہ میں جو لوگ بھی ملوث ہیں ان کے خلاف قانون کی مطابق کارروائی کی جائے۔ چنانچہ لاہور پولیس نے ایلیٹ فورس کے 10اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی۔

اس دوران اس ناخوشگوار واقعہ میں وزیراعلیٰ کے اپنے داماد علی عمران کا بھی نام سامنے آیا۔ خیال کیاجارہاتھا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہونے کی حیثیت سے جناب شہبازشریف اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے داماد کو بچانے کی کوشش کریں گے لیکن پوری دنیا نے دیکھا کہ وزیراعلیٰ نے اپنے قریبی رشتہ دار کو محض اس لئے کوئی رعایت دینے سے انکار کردیا کہ وہ ان کا داماد ہے۔تشدد میں مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ بھی وزیراعلیٰ کی ہدایت پر درج ہوا اور اپنے داماد علی عمران کے خلاف کارروائی بھی انہی کے حکم پر ہوئی۔ وزیراعلی شہباز شریف نے کہا کہ" کوئی بھی شخص خواہ وہ کسی بھی حیثیت میں ہو قانون سے بالا تر نہیںہے۔ بیکری تشدد کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کئے گئے ہیں-میں نے داماد کو خود شامل تفتیش ہونے کا کہا قانون و انصاف کی حکمرانی یقینی نہ بنانے والے معاشرے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں- رشتے دارہو یاکوئی صاحب حیثیت قانون سب کے لئے برابر ہے- زندگی بھر قانون و انصاف کی فوری فراہمی کے لئے جدوجہد کی ہے میر ی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو قانون کے مطابق انصاف ملے"-

بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ شخص جو قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بالادستی کے لئے مسلسل جدوجہد کرتا رہاہو وہ اپنی باری آنے پر قانون کی حکمران سے راہ فرار اختیار کرے۔علی عمران نے بھی وزیراعلیٰ کے داماد ہونے کی حیثیت سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی اور کسی پروٹوکول کے بغیر تھانے جاکرگرفتاری پیش کردی۔ تاہم انہوںنے ان الزامات کی مکمل تردید کی کہ وہ یا ان کی فیملی کا کوئی فرد بیکری ملازم پر تشدد میں ملوث ہے۔ شہبازشریف کی طرف سے قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی یہ ایک نادر مثال ہے، اس سے پہلے اپوزیشن کی طرف سے جب وزیراعلیٰ پر دہری شہریت رکھنے کا بھونڈا الزام لگایاگیا تو بھی انہوںنے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر الیکشن کمیشن کو حلف نامہ جمع کرادیا اور جب سپریم کورٹ نے دہری شہریت کے حوالے سے ازخود نوٹس کی کارروائی شروع کی تو بھی وزیراعلیٰ نے عدالت میں اپنی صفائی پیش کی جس پر پہلی ہی پیشی میں کارروائی ختم کردی گئی۔ شریف فیملی کی اصولی سیاست سے ان کے مخالفین بھی متاثر ہیں۔اس سے پہلے میاں محمدنواز شریف نے بھی اپنے داماد کے خلاف پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میںاس لئے کارروائی کی تھی کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے بعض سینئر رہنماﺅں نے کیپٹن صفدر کے خلاف پارٹی کے صدر کو شکایت کی تھی۔ تاہم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کیپٹن صفدر کو بیگناہ قرار دیاگیا جس پر ان کی پارٹی رکنیت بحال کردی گئی۔

وزیراعلیٰ اپنی تقریروں میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس ملک کے وسائل پر عام اور غریب آدمی کا بھی اتنا حق ہے جتنا کہ اشرافیہ کا۔ انہوںنے کئی مواقع پر خبردار کیا کہ معاشرتی ناانصافی ختم کئے بغیر ملک کو قائد اور اقبال کا پاکستان نہیں بنایا جاسکتا۔ وقت آگیا ہے کہ اشرافیہ اپنی غلطیاں تسلیم کرے اور عوام کو اس کا حق دے۔ اسی فلسفہ پر چلتے ہوئے پنجاب حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کوغریب نواز (Pro poor)بنایا اور اپنی پالیسیوں میں عام آدمی کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھا۔ وزیراعلیٰ کے داماد سے عام آدمی جیسا سلوک ہونے سے ثابت ہوگیاہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنی اصولی سیاست سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے پرتیار نہیں۔ توقع کی جانی چاہئیے کہ جس طرح میڈیا نے بیکری تشدد کیس کو کوریج دی اسی طرح وزیراعلیٰ شہبازشریف کی طرف سے قانون کے سامنے سر جھکانے کی اس مثال کو بھی کوریج دی جائے گی۔  

مزید : کالم