اوگوچاویس کی دلچسپ داستانِ حیات (4)

اوگوچاویس کی دلچسپ داستانِ حیات (4)
اوگوچاویس کی دلچسپ داستانِ حیات (4)

  

11اپریل 2002ءکو چاویس کے خلاف زبردست احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے۔پولیس اور فوج کی کارروائی کے نتیجے میں بیس لوگ مارے گئے اور 110زخمی ہوئے ۔فوج کے کچھ اعلیٰ ترین عہدیدار کچھ سیاسی جماعتوں کی حمایت کررہے تھے اور عوامی عدم اطمینان کو جواز بنا کر انقلاب یا ”بغاوت“ برپا کرنے پر تلے ہوئے تھے۔یاد رہے کہ چاویس سے پہلے وینزویلا میں بھی تیسری دنیا کے اکثر ممالک اور لاطینی ممالک کی طرح اکثر فوجی ڈکٹیٹرشپ مسلط رہی۔درمیان میں کبھی کبھار لنگڑی لولی جمہوریت بھی آتی رہی،جسے زیادہ نہیں چلنے دیا گیا۔فوج ایک بارپھر سرگرم تھی۔تاجر برادری اور میڈیا میں اس نے اپنے حامی پیدا کرلئے تھے۔شورش پسندوں کی طاقت کو دیکھتے ہوئے صدر چاویس نے اقتدار چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کردی، انہیں جزیرہ لا اورچیا کے ملٹری بیس میں بھیج دیا گیا۔صدر نے کہا کہ اسے ملک میں آنے جانے کی آزادی ہونا چاہیے، لیکن اسے یہ آزادی نہیں دی گئی۔اگرچہ صدر چاویس نے استعفیٰ بھی نہیں دیا، لیکن ایک امیر بزنس مین پیدرو کارمونانے خود کو عبوری صدر قرار دیے دیا۔کارمونانے 1999ءکا آئین کالعدم قرار دے دیا اور حکومتی امور چلانے کے لئے ایک کمیٹی قائم کردی۔ چاویس کے حق میں مظاہرے شروع ہوگئے اور کارمونا کی مخالفت بڑھنے لگی،جس کے بارے میں خیال کیا جانے لگا کہ وہ آمریت مسلط کررہا ہے۔ کارمونا کو مستعفی ہونا پڑا اور چاویس نے 14اپریل کو دوبارہ صدارت سنبھال لی۔صدر چاویس نے اس کے بعد انتہائی بائیں بازو کی بجائے ”سینٹر“ کے اقدامات کو ترجیح دی۔اس نے پرانے کئی عہدیدار بحال کردیئے اور سٹیٹ آئل کا پرانا بورڈ بھی بحال کردیا۔ صدر نے اس کے بعدبغاوت سے نبٹنے اور کسی متوقع امریکی مداخلت کے سدباب کے لئے فوجی طاقت میں اضافے پر توجہ دی۔روس سے ایک لاکھ کلاشنکوفیں خریدی گئیں۔برازیل سے ہلکے فوجی طیارے اور روسی ہیلی کاپٹر بھی فوج کو دلائے گئے۔ریزرو فوج کی تعداد پچاس ہزار سے بڑھا کر بیس لاکھ کردی گئی۔

دسمبر2002ءمیں مینجمنٹ میں تبدیلیوں کے خلاف مینجمنٹ کے اہل کاروں نے ہڑتال کردی جو دو ماہ تک جاری رہی۔مخالفین نے اسے عام ہڑتال قرار دیا۔ چاویس نے اس پر قابو پانے کے لئے سخت کارروائی کی ۔ ہڑتال کرنے والے 19ہزار اہل کاروں کی چھٹی کردی اور ان کی جگہ نئے لوگ بھرتی کرلئے۔فوج سے کچھ لوگ لے لئے اور کچھ بیرون ملک اور ٹھیکیداروں سے حاصل کرلئے۔اس طرح ہڑتالی کمزور ہوگئے۔خاص طور پر سٹیٹ آئل سے فارغ ہونے والوں کی

 وجہ سے ہڑتالیوں کو حمایت حاصل نہ رہی۔سٹیٹ آئل کے لوگ صدر چاویس کی صدارت ختم کرنے کے درپے تھے۔اس کے بعد چاویس کے مخالفین نے آئینی ذرائع اختیار کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔1999ءکے آئین میں ریفرنڈم کی شق موجود تھی، اس لئے ان مخالفین نے صدر کو ریفرنڈم کے ذریعے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کردیا۔2004ءکے اس ریفرنڈم میں 70فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے اور 59فیصد ووٹروں نے صدر چاویس کی حمایت کی ۔ 1998ءکے ریفرنڈم کے برعکس 2004ءکے ریفرنڈم میں مڈل کلاس نے چاویس کا ساتھ نہیں دیا،جبکہ زیادہ غریب طبقات نے چاویس کو ووٹ دیا اور اس کی وجہ صدر چاویس کے زیادہ بائیں بازو کے اقدامات بتائے جاتے ہیں۔ریفرنڈم سے مایوس مخالفین نے امریکہ سے فوجی مداخلت کرکے صدر چاویس سے چھٹکارا دلانے کے لئے اپیلیں کرنا شروع کردیں۔اس حد تک مخالفت کے بعد صدر چاویس نے سوشلزم کی زیادہ حمایت شروع کردی۔2005ءمیں اس نے اپنے نظام کو اکیسویں صدی کا سوشلزم قرار دیا۔اس سے قبل وہ سوشل ڈیمو کریسی کی بات کرتا تھا،جس میں کیپٹل ازم اور سوشلزم پہلو بہ پہلو مل رہے تھے۔

تیسری بار صدارت کے لئے دسمبر2006 ءمیں انتخابات ہوئے۔74فیصد ووٹروں نے ووٹ کاسٹ کئے اور چاویس تیسری بار صدار ت کے لئے 63فیصد ووٹ لے گیا۔امریکی ریاستوں کی تنظیم (اس سے مراد امریکی صوبے نہیں، بلکہ براعظم امریکہ کے ممالک ہیں)۔ OASنے ان انتخابات کی نگرانی کی اور انہیں غیر جانبدارانہ قرار دیا۔کارٹر سینٹر نے بھی انتخابات کو شفاف قرار دیا، بلکہ کہا کہ امریکہ کو وینزویلا کے انتخابی نظام سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اس فتح کے بعد چاویس نے انقلاب میں وسعت کا وعدہ کیا۔15دسمبر2006ءکو چاویس نے بائیں بازو کی اپنی حمایت کرنے والی تمام پارٹیوں کو یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی میں مدغم کر دینے کا اعلان کیا۔اس نے کہا یہ پارٹیاں اپنے جھنڈے اور اپنے نام وغیرہ فراموش کردیں اور اب ایک ہو کر ملک کے لئے کام کریں۔پہلے پہل اس نے یہ بھی کہا کہ جو اس پارٹی میں مدغم نہیں ہوں گی، انہیں حکومت میں حاصل عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔اس کی حامی ،لیکن ایک پارٹی میں مدغم ہونے کی مخالف ان پارٹیوں نے اس سے انکار کردیا تو صدر چاویس نے انہیں اقتدار میں حصے داری سے فارغ کرنے کے سلسلے میں خاموشی اختیار کرلی۔نئی پارٹی کے لئے شروع شروع میں بہت جوش وخروش کا اظہار کیا گیا اور 2007ءتک اس میں 57لاکھ لوگوں کو شامل کرلیا گیا،لیکن اقوام متحدہ کی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے کہا کہ بعض ووٹروں کو دباﺅ ڈال کر پارٹی کا ممبر بنایا گیا ہے۔(جاری ہے)   ٭

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

مزید : کالم