میاں وٹو :نئے صدر، نئے تقاضے!

میاں وٹو :نئے صدر، نئے تقاضے!
میاں وٹو :نئے صدر، نئے تقاضے!

  

بعض حضرات کے لئے وفاقی وزیر امور کشمیر کوپیپلزپارٹی وسطی پنجاب کا صدر نامزد کرنے کی خبر تعجب کا باعث بنی ہے، لیکن ہم جیسے عاجز بندوں کے لئے نہیں، کیونکہ گزشتہ ایک ماہ سے یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ پنجاب کی تنظیم میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی اور اس کے لئے میاں منظور احمد وٹو فیورٹ ہیں، جبکہ گجرات پالیٹکس کے لحاظ سے کائرہ فیملی کو بھی ترجیح دینا مقصود ہے۔اب پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زرداری نے یہ کام کرہی دیا۔منظور احمد وٹو وسطی پنجاب کے صدر اور تنویر اشرف کائرہ جنرل سیکرٹری بن گئے ہیں۔یہ تقرریاں وفاقی وزیر مملکت امتیاز صفدر وڑائچ اور پرانے کارکن حاجی عزیز الرحمن چن کی جگہ ہوئی ہیں۔معمول کے مطابق پارٹی میں متضاد خیالات کا اظہار کیا جارہا ہے۔فیصلے کو پسند کرنے والے اور تسلیم کرنے والے بھی ہیں، جبکہ ناپسند کرکے قبول کرنے والوں کی تعدادبھی کم نہیں، تاہم اس ایک تقرری سے آصف علی زرداری کا ذہن ایک مرتبہ پھر واضح ہوگیا ہے کہ ان کی نگاہ آئندہ انتخابات پر ہے اور وہ کسی سیاسی یا نظریاتی نظریئے یا وابستگی کو دیکھے بغیر ایسے حضرات کو آگے لا رہے ہیں جو انتخابی نتائج بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔سندھ میں مہر گروپ کو پیپلزپارٹی میں شامل کرنے اور شیرازیوں سے ایم او یو کرلینے کے بعد پنجاب میں میاں منظور وٹو کو تنظیم کا سربراہ بنانے کا مقصد بھی یہی ہے۔

میاں منظور احمد وٹو کی پوری سیاسی زندگی کامیابیوں سے بھری پڑی ہے۔ایک بی ڈی ممبر سے سیاسی کردار شروع کرنے والے وٹو ایک ممبر سے ضلع کونسل کے چیئرمین اور وہاں سے سپیکر پنجاب اسمبلی اور پھر وزیراعلیٰ پنجاب تک اپنی ذہانت اور جوڑ توڑ کی سیاست سے پہنچے، وہ دو مرتبہ سپیکر رہے تو تین سے زیادہ بار پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی بنے، اب قومی اسمبلی میں تیسری بار پہنچ کر وفاقی وزیر ہیں۔

میاں منظور احمد وٹو دھیمے مزاج کے آدمی ہیں اور بڑے ہی حوصلہ مند ہیں۔وہ غالب کے بقول گالیاں گا کر بھی بے مزہ نہیں ہوتے اور سخت سے سخت بات مسکرا کر برداشت کرتے اور پھر نرم مگر مضبوط لہجے میں جواب دیتے ہیں ۔پاکستان پیپلزپارٹی سے ان کا رابطہ 1993ءمیں ہوا جب صرف 18اراکین اسمبلی کے ساتھ ہوتے ہوئے وہ وزیراعلیٰ بنے۔ہمارا ان کے ساتھ براہ راست واسطہ 1988ءمیں پڑا۔جب وہ سپیکر پنجاب اسمبلی اور ہم پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے صدر تھے۔ہمیں بھی یہ اعزاز دو مرتبہ حاصل ہوا۔جنوری 1988ءمیں پنجاب اسمبلی کی گولڈن جوبلی منائی گئی۔اس وقت ملک پر ضیاءالحق حکمران تھے۔وزیراعظم محمد خان جونیجو اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد نوازشریف تھے۔ میاں منظور وٹو مسلم لیگ میں اور اسی حوالے سے سپیکر بھی تھے۔یہ ان کی دوسری ٹرم تھی۔پریس گیلری کمیٹی اور سپیکر کے تعلقات خوشگوار تھے۔اس لئے ہمیں توقع تھی کہ میاں منظوراحمد وٹو پریس کوریج کے لئے زیادہ سہولتیں دیں گے، لیکن ہوا یہ کہ ٹی وی کوریج کی وجہ سے پریس گیلری کی جگہ بھی لے لی گئی اور کوریج کے لئے آنے والے صحافیوں کو بیٹھنے میں دشواری یقینی تھی، اس مسئلے پر میاں منظور احمد وٹو سے معاملات طے کرتے وقت دقت پیش آئی،چنانچہ بعض مواقع پر ہلکا پھلکا متنازعہ بننے کا خدشہ ہوا، لیکن یہ معاملہ اس طرح طے ہوا کہ میاں منظور احمد وٹو نے کوریج کے لئے سی سی ٹی وی کا انتظام کردیا تھا۔اس کے لئے پریس گیلری کو کمیٹی روم نمبر1بھی دے دیا گیا۔

میاں منظور وٹو کے دھیمے لہجے کا انداز ہماری اس توقع کے عین مطابق ہے کہ پہلے تولو پھر بولو، ہم کہا کرتے ہیں کہ میاں منظور ہمیشہ سے اس مقولے کی پابندی کرتے ہیں، بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اگر آپ میاں منظور وٹو سے پوچھیں،”آپ کا اسم گرامی“ تو جواب یوں ملے گا ”خاکسار....کا....نام.... میاں .... منظور.... احمد .... وٹو....ہے“۔یوں مخاطب ان سے متاثر ضرور ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کے جیالوں کی توقعات کس حد تک پوری کرپاتے ہیں،بہرحال وہ اب 2008ءسے پیپلزپارٹی میں ہیں اور پیپلزپارٹی ہی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر وزیر بنے۔اس کے علاوہ وہ پارٹی کی اعلیٰ مشاورتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

میاں منظور احمد وٹو کی تقرری صدر آصف علی زرداری کی اپنی حکمت عملی ہے ،جس کے تحت وہ جوڑتوڑ کرکے ایسے امیدوار سامنے لانا چاہتے ہیں،جو پارٹی کی حمائت کے ساتھ ساتھ خود اپنا ووٹ بنک بھی رکھتے ہوں، میاں منظور وٹو اس تلاش میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ کیا وہ برادریوں اور گروہوں والے حضرات کو ساتھ ملانے کے علاوہ پیپلزپارٹی کے پرانے ٹکٹ ہولڈروں کو مطمئن کرسکیں گے؟کوئی کچھ بھی کہے پیپلزپارٹی بہرحال نظریاتی جماعت ہے۔اس کے پرانے جیالے کارکن بھٹو ازم کے قائل ،جبکہ دانشور حضرات پارٹی کے چاروں بنیادی اصولوں کو آج بھی سینے سے لگائے بہترطرز عمل سمجھتے ہیں، ان حالات میں وسطی پنجاب کا صدر ہونا، اگر ایک اعزاز ہے تو مشکل کام بھی ہے۔ میاں منظور اپنے دھیمے انداز کی وجہ سے مشکلات سے گزرنے کا فن ضرور جانتے ہیں، مگر پیپلزپارٹی کا کلچر اپنا ہے، اب ان کو اس سے براہ راست واسطہ پڑے گا۔

تھوڑے دن ہوئے جب ہمیں میاں منظور احمد وٹو کی طرف سے ان کی آپ بیتی”جرم سیاست“ موصول ہوئی۔اس کتاب کے مطالعہ سے ان کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوجاتا ہے۔انہوں نے اپنی کتاب میں بلاکم و کاست اپنی تعلیم سے سیاست اور پھر ترقی کے زینوں کی روئیداد لکھ دی ہے۔اس میں وزیراعلیٰ بننے اور ہٹائے جانے کے واقعات بھی شامل ہیں، پھر انہوں نے اپنی گرفتاری اور ایام اسیری کا حوالہ بھی مفصل لکھا ہے۔اس سلسلے میں ہم نے بھی ایک کالم لکھا تھا، وہ ان کی کتاب کا دوسرے حضرات کے کالموں کی طرح حصہ ہے۔ میاں منظور وٹو نے ملکی سیاست میں تحریک استقلال کے زینوں سے قدم رکھا اور مسلم لیگ سے ہوتے ہوئے پیپلزپارٹی میں آئے اور موجود ہیں۔سوال اب یہ ہوگا کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے دیرینہ اور تجربہ کار حضرات کی بھی ایک بھاری تعداد ہے جو بلاشبہ پارٹی وفاداری کے لحاظ سے آزمودہ بھی ہیں، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو راﺅ سکندر اقبال مرحوم کے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود ان کے ساتھ پیٹریاٹ نہیں ہوئے تھے اور ان کی وفاداریاں پارٹی کے ساتھ رہی تھیں، جہاں تک تنویر اشرف کائرہ کا تعلق ہے تو وہ پنجاب میں رکن اسمبلی کی حیثیت سے فعال رہے اور پرانے ہیں، اس لئے اب نئے اور پرانے کا کمبی نیشن ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ وہ آصف علی زرداری کی توقعات پر کس حد تک پورا اترتے ہیں اور ان کی کامیابی کا تناسب کیا رہتا ہے۔  

مزید : کالم