بلوچستان:پنجاب ہمہ تن گوش (2)

بلوچستان:پنجاب ہمہ تن گوش (2)
بلوچستان:پنجاب ہمہ تن گوش (2)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کی سیاست کا تجزیہ کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ پنجاب کی سیاسی سوچ اور عمل میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔پنجاب پہلے کی نسبت زیادہ باشعورہوگیا ہے۔ 2012ءکا پنجاب چھوٹے صوبوں کی بات سننے لگا ہے اور غداری کے فتوے اب جاری نہیںہوتے ۔اگرہم آج ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیں اور کسی تنگ نظری کا شکار نہ ہوں تو کہہ سکیں گے کہ ون یونٹ میں پاکستان توڑنے کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔مشرقی پاکستان کی اکثریت نے مغربی پاکستان کو خوفزدہ کردیا تھا اور یہ خوف سب سے زیادہ پنجاب کو لاحق ہوگیا تھا۔مشرقی پاکستان کی اکثریت کو بڑی فطانت سے مغربی پاکستان کے برابر قرار دے دیا گیا۔پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔ بلوچستان ، سندھ، خیبرپختونخوا اور مشرقی پاکستان کی بائیں بازو کی قوم پرست اور سیکولر پارٹیوں نے مل کر نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھ دی اور ان کی ساری جدوجہد کا محور ون یونٹ کا خاتمہ تھا۔نیشنل عوامی پارٹی میں غفار خان، ولی خان، محمود علی قصوری، میاں افتخار الدین ،عبدالمجید سندھی، غوث بخش بزنجو، گل خان نصیر، شہزادہ عبدالکریم ،خان عبدالصمد خان اچکزئی اور مولانا بھاشانی شامل تھے۔ان سب نے مل کر نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی۔اس میںجی ایم سید کی عوامی پارٹی ،صوبہ سرحد سے غفار خان کی خدائی خدمت گار، پنجاب سے میاں افتخار الدین کی آزاد پاکستان پارٹی ، بلوچستان سے پرنس عبدالکریم کی استمان گل اور خان عبدالصمد خان کی پشتون درور شامل تھیں۔

 1957ءسے ان کی جدوجہد شروع ہوئی اور 1969ءکو ان کی جدوجہد رنگ لائی۔جنرل یحییٰ خان نے ایوب خان کا تختہ الٹ دیا اور پاکستان کا دورہ شروع کیا ، اس کے نتیجے میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے 2ججوں پر مشتمل ٹربیونل قائم کیا۔ون یونٹ اور ون مین، ون ووٹ کے حوالے سے تمام سیاسی قائدین سے ملاقات کی ، اس رپورٹ کے بعد جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ ختم کردیا اور انتخابات کا اعلان کردیا۔اس مرحلے پر پہنچتے پہنچتے نیشنل عوامی پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی، اس کی وجہ سوویت یونین اور چین میں سوشلزم کی تعبیر پر اختلافات تھے، اس لئے نیپ بھی روس نواز اور چین نواز دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔مشرقی پاکستان میں نیپ کے سربراہ مولانا عبدالحمید خان بھاشانی اور مغربی پاکستان میں عبدالولی خان تھے۔ بھٹو نے پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھ دی تھی ،وہ بھی اپنے آپ کو چےن نواز کہتے تھے اور چےن کے انقلاب کے بانی ماو¾زے تنگ کی طرح کی ٹوپی پہنتے تھے۔

1970ءکے انتخابات نے بالکل نئی صورت حال پیدا کردی۔ 1957ءسے 1970ءتک مشرقی پاکستان بے شمار محرومیوں کا شکار ہوگیا تھا ۔اس کی عددی اکثریت کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا اور تمام وفاقی اداروں میں اسے سربراہی سے محروم رکھا گیا ۔ اس معاملے کو شیخ مجیب الرحمن نے بھرپور طریقے سے استعمال کیا اور 1970ءکے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کے 6نکات نے جادوئی کام کیا اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔

جماعت اسلامی کے بانی سیدابوالااعلیٰ مودودیؒ نے کہا تھا کہ یہ انتخابات اس بات کا فیصلہ کردیں گے کہ پاکستان ایک رہے گا یا تقسیم ہو جائے گا؟....چونکہ یہ انتخابات One Man One Voteکی بنیاد پر ہو ئےتھے ، اس لئے مشرقی پاکستان کی قومی اسمبلی میں اکثریت تھی۔ مجیب نے 6نکات کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لیا اور مشرقی پاکستان کے عوام نے انہیں بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی۔شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے دو کے سوا تمام نشستیں جیت لیں۔مغربی پاکستان میں پنجاب اور سندھ میں بھٹو کو اکثریت ملی۔جنرل یحییٰ خان نے اسمبلی کا اجلاس بلایا جو بھٹو کے دباﺅ پر ملتوی کردیا اور نئی تاریخ بھی نہ دی گئی۔اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ پاکستان کی تاریخ کا خونچکاں باب ہے۔مشرقی پاکستان میں عوامی بغاوت نے جنم لیا۔بھارت کی فوج داخل ہوگئی۔یہ نومبر کاآخر تھا اور 16دسمبر کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ، پاکستان دولخت ہوگیا اور مغربی پاکستان موجودہ پاکستان میں ڈھل گیا۔ جنرل یحییٰ خان نے 20دسمبر1971ءکو پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کردیا۔

پاکستانی عوام اس صدمے کو کبھی فراموش نہیں کرسکے،پھر قدرت نے وہ سنہری موقع فراہم کردیا،جب افغانستان میں سوویت یونین نے 1979ءکی ایک یخ بستہ برفانی رات میں کابل کے باگرام ایئرپورٹ پر سرخ فوج کو اتار دیا ۔اس وقت افغانستان کے صدر حفیظ اللہ امین تھے۔ جب روسی فوج ایوان صدر میں داخل ہوئی تو انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مارے گئے۔نورمحمدترہ کئی صدر بن گئے۔امریکہ سوویت یونین سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ افغانستان میں سوویت یونین کو تاریخی شکست سے دوچار کردیا۔افغان مجاہدین نے ایک نیاباب رقم کیا اور اس شکست نے دنیا کے نقشے سے سوویت یونین کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا۔

مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد 1973ءکا دستور14اگست 1973ءکو نافذ ہوا۔1970ءکے انتخابات کے نتائج سیاسی لحاظ سے بڑے خوفناک نکلے اور تاریخ کا بہت بڑا المیہ رونما ہوا کہ عظےم اسلامی ملک پاکستان اپنے وجود کو برقرار نہ رکھ سکا اور دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔اس مرحلے پر ٹھنڈے دل و دماغ سے تمام واقعات اور عوامل پر غور کرنا ہوگا اور بین الاقوامی سازشوں کو نظر میں رکھنا ہوگا۔امریکہ کے سابق صدر نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ہم پاکستان توڑنا چاہتے تھے۔سوویت یونین نے جلد بازی سے کام لیا۔ پاکستان کو دولخت کرنے میں سوویت یونین پیش پیش تھا اور بھارت اس کا آلہءکار تھا ، اس حیثیت سے اس نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔پاکستان اس صدمے کو فراموش نہ کرسکا۔افغانستان میں سوویت یونین کی جارحیت نے دنیا کا نقشہ تبدیل کردیا تھا۔یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ایک سپرپاور کی شکست نے دنیا میں جغرافیائی تبدیلی کو جنم دیاہے۔

جب اسلام سپرپاور تھا تو اس کی شکست نے بڑی جغرافیائی تبدیلیاں پیدا کی ہیں، اس کے بعد جرمنی اور برطانیہ کی شکست نے اس تبدیلی کو دیکھا اور ماضی قریب میں سوویت یونین کی شکست نے وسط ایشیا اور یوگو سلاویہ میں اس تبدیلی کو دیکھا ،کوئی 15ممالک وجود میں آ گئے۔اب امریکہ اور نیٹو ممالک افغانستان میں 12سال کے بعد شکست کے دہانے پر کھڑے ہیں۔بھارت اپنے سابقہ عزائم کے ساتھ افغانستان میں موجود ہے اور بلوچستان پر تمام سامراجی ممالک کی نگاہیں مرتکز ہیں۔

بلوچستان کا900کلومیٹر نیلگوںساحل اس کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے اور افغانستان پر کٹھ پتلی حامد کرزئی حکمران ہے اور بلوچستان کے بعض حصوں میں مسلح جدوجہد ہورہی ہے۔اس تمام پس منظر میں سردار اختر مینگل کے 6نکات کا بڑے ٹھنڈے دل و دماغ سے تجزیہ کرنا ہوگا۔ بلوچستان میں بعض بلوچ قوم پرست پارٹیاں پارلیمانی سیاست کا دامن تھامے ہوئے میدان سیاست میں موجود ہیں۔ایک طرف مسلح جدوجہد ، دوسری طرف پارلیمانی سیاست اور ان کے مطالبات ہیں ۔وفاق میں پیپلزپارٹی حکمران ہے۔ بلوچستان اس کی احمقانہ اور جارحانہ پالیسی کی بدولت لہولہان ہے، ایسے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ثابت ہوئے ہیں۔اب فیصلہ پیپلزپارٹی اور مقتدرطاقتور طبقات کو کرنا ہے کہ بلوچستان کو مکمل صوبائی خود مختاری اوروسائل پر حق اور ساحل پر اختیار دیناچاہتی ہے یا کوئی اور راستہ اختیار کرتی ہے؟قارئین محترم! حالات کی سنگینی اس بات کی متقاضی تھی کہ ہم ایک طائرانہ نگاہ اپنی ماضی کی سیاست پر ڈالیں، تاکہ ہم جو فیصلہ کرنے چلے ہیں، اس کے نتائج کے تمام پہلوﺅں پر اچھی طرح غور کرلیں۔یہ شاید تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ پنجاب بلوچستان کے لئے ہمہ تن گوش ہے اور اہل بلوچستان کو اندھیرے میں چراغ کی روشنی نظر آرہی ہے۔(جاری ہے)     

مزید : کالم