شب گزرتی دکھائی دیتی ہے

شب گزرتی دکھائی دیتی ہے
شب گزرتی دکھائی دیتی ہے

  

مسلم لیگ(ن) پر عملدرآمد کی لہرچلی ہے یا یہ کوئی وقتی اُبال ہے ،اس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا فی الوقت ممکن نہیں،تاہم لاہور میں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ایک اچھی مثال قائم کی ہے کہ بیکری ملازم پرمبینہ تشدد کے سلسلے میں اپنے داماد کو پولیس کی تفتیش کا سامنا کرنے کی ہدایت دی اور اسے گرفتار بھی کرلیا گیا۔اسی طرح کا ایک واقعہ ملتان میں بھی آج کل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور پہلی بار بیورو کریسی کے اندر سے ”قانون سب کے لئے برابر ہے “ کی آواز بلند ہورہی ہے ۔شہبازشریف نے تو ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیاکہ یہ واقعہ ان کے خاندان کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے ، بلکہ یہ کہا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، تاہم ملتان کے واقعہ میں ایک سینئر بیورو کریٹ اس بات کی دہائی دے رہے ہیں کہ انہیں اور گردیزی خاندان کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی ہے ،جس کے محرک ڈی سی او ملتان نسیم صادق ہیں۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ نسیم صادق فیصل آباد سے ملتان آئے ہیں۔سناہے کہ جب وہ ڈی سی او فیصل آباد تھے تو وہاں بھی انہوں نے قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لئے جرات مندانہ فیصلے کئے تھے،حتیٰ کہ وہ رانا ثناءاللہ اور عابد شیر علی کی غیر ضروری مداخلت قبول نہیں کرتے تھے۔ آج کل ملتان میں یہ لطیفہ عام ہے کہ ایم این اے عابد شیر علی نے ڈی سی او نسیم صادق کی ملتان میں تقرری پر ملتان کے ایم این اے رانا محمود الحسن کو فون کیا اور کہا کہ ہم تو اس ”عذاب“ کو کافی بھگت چکے ہیں، اب تمہاری باری ہے ۔مَیں نے ان کی شہرت قطر میں بھی سنی، کیونکہ میرے میزبان امین موتی والا فیصل آباد کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے شہر میں ڈی سی او نے تجاوزات اور منشیات فروشی کا صفایا کردیا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ جب ڈی سی او نسیم صادق کافیصل آباد سے تبادلہ کیا گیا تو وہاں لوگوں نے اس فیصلے کے خلاف مظاہرے کئے۔خیریہ تو ایک پس منظر ہے ، اب آتے ہیں، پیش منظر کی طرف۔

کہتے ہیں کہ جب مشکلات آتی ہیں تو پھر آتی ہی چلی جاتی ہیں۔محمد علی گردیزی ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر بیورو کریٹ ہیں۔یہی وہ شخضیت ہیں، جن کی بطور چیئرمین این ایچ اے تعیناتی کو ختم کرنے پر سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ....صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ناراض ہو گئے تھے۔ محمد علی گردیزی چیئرمین این ایچ اے بننے سے پہلے کمشنر ملتان تھے اور وزیراعظم کے ترقیاتی پیکیج کے انچارج کی حیثیت سے ان کی براہ راست وزیراعظم تک فوری رسائی تھی۔وہ جب تک کمشنر ملتان رہے، پنجاب حکومت کا ان پر کوئی کنٹرول نہیں تھا،کیونکہ وہ وزیراعظم کے آدمی سمجھے جاتے تھے۔جب وزیراعظم پیکیج کے اکثر منصوبے تکمیل کے نزدیک پہنچنے لگے اور ٹھیکیداروں کو ادائیگی کا مرحلہ کافی حد تک مکمل ہوگیا تو سید یوسف رضا گیلانی نے انہیں کمشنر سے ہٹا کر چیئرمین این ایچ اے کی پُرکشش پوسٹ پر تعینات کردیا۔گردیزی اور گیلانی خاندانوں کا ملتان میں ساتھ سینکڑوں سال کی تاریخ پر محیط ہے ،جسے محمد علی گردیزی اور سید یوسف رضا گیلانی کی صورت میں نئی جہت ملی۔سیانے کہتے ہیں کہ وقت پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے،کیونکہ یہ کبھی ایک سا نہیں رہتا اور جب چاہے دغا دے جاتا ہے ۔

محمد علی گردیزی چیئرمین این ایچ اے کی حیثیت سے سبکدوش کردیئے گئے تو گیلانی خاندان کی رہی سہی سہولتیں بھی ختم ہوگئیں،کیونکہ محمد علی گردیزی کی موجودگی میں این ایچ اے کی گاڑیاں اور وسائل براہ راست چھوٹے گیلانی صاحب ،یعنی عبدالقادر گیلانی کی دسترس میں تھے۔یہ ہٹے تو این ایچ اے پر ان کا کنٹرول بھی ختم ہوگیا۔محمد علی گردیزی کو چیئرمین این ایچ اے کی حیثیت سے ہٹائے جانے پر شاید اس قدر تکلیف نہ ہوئی ہو،جتنی انہیں اس واقعہ سے ہوئی ہے ، جو چند روز پہلے ملتان میں ہوا۔یہ واقعہ درحقیقت اس تبدیلی کا حصہ ہے جو ڈی سی او نسیم صادق ملتان میں اپنی تعیناتی کے بعد سے لانے کی کوشش کررہے ہیں۔اس کوشش میں وہ کس حد تک کامیاب ہو پائیں گے؟ یہ تو آنے و الا وقت بتائے گا، تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کی کوشش سے تبدیلی کے کچھ شواہد نظر آنا شروع ہوچکے ہیں۔ڈی سی او نے اپنی تقرری کے فوری بعدشہر کے مختلف حصوں میں بینر لگوائے ،جن پر لکھا گیا تھا،شہر میں شیشہ پینے یا اس کی سہولت فراہم کرنے پر پابندی ہے ، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

چند روز پہلے پولیس نے ابدالی روڈ پر واقعہ ایک پوش اور مہنگے فٹنس کلب پر چھاپہ مارا اور اس کے ریستوران سے شیشہ پینے والے تین نوجوان گرفتار کرلئے۔ان میں ایک محمد علی گردیزی کا بھانجا بھی تھا۔جونہی یہ اطلاع گھر والوں کوملی ، انہوں نے محمد علی گردیزی سے رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے کمشنر ملتان خرم آغا کو فون کرکے اپنے بھانجے کی گرفتاری پر تشویش                               ظاہر کی اور فوری رہائی کے لئے کہا۔کمشنر ملتان خرم آغا نے ڈی سی او محمد نسیم صادق کو بچے کی رہائی کا حکم دیا، مگر انہوں نے اسے خلاف ضابطہ قرار دے کر ماننے سے انکار کردیا۔ کمشنر نے سی پی او سے رابطہ کرکے رہائی کی بابت بات کی تو انہوں نے کہا کہ ڈی سی او نے مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی ہے ، اس لئے رہائی ممکن نہیں۔بعدازاں ڈی سی او نے اخبارات کو یہ بیان جاری کیا کہ وہ اس بات کے خلاف ہیں کہ غریبوں کے لئے قانون سخت اور امیروں کے لئے نرم ہو جائے۔اس لئے انہوںنے پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لئے کہا اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ پکڑے جانے والوں میں کون کس کا رشتہ دار ہے ۔اگلے روز ان لڑکوں کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

دو روز پہلے محمد علی گردیزی نے ایک پریس ریلیز جاری کیا، جو دلچسپی کی حامل ہے ....گردیزی خاندان صدیوں سے ملتان میں آباد ہے اور تقریباً800گھرانوں پر مشتمل ہے ۔اس خاندان کی دینی اور سماجی خدمات کے بارے میں اہل ِ ملتان بخوبی آگاہ ہیں کہ گردیزی خاندان کا کوئی بھی فرد کسی غیر قانونی یا غیر اخلاقی فعل میں ملوث نہیں رہا۔15اکتوبر 2012ءکو ڈی سی او ملتان نے ابدالی روڈ کے ایک پوش ریسٹورنٹ پر ریڈ کروایا اور وہاں موجود چار بچوں کو،جن کی عمریں بمشکل 15سال ہوں گی، گرفتار کرایا۔ان میں سے ایک بچہ میری کزن کا بیٹا بھی تھا،جو کہ وہاں باقاعدہ طور پر جم کرتا تھا۔وقوعہ کے روز وہ ابھی ریسٹورنٹ میں داخل ہی ہوا تھا کہ ریڈنگ پارٹی نے اسے پکڑا اور دوسرے بچوں کے ساتھ بٹھا کر تصویریں بنائیں۔جیسے ہی ڈی سی او کو یہ پتہ چلا کہ بچے کے ساتھ گردیزی کا نام آتا ہے ، انہوں نے حکم دیا کہ تھانے میں دوسرے مجرمان کے ساتھ بند کردیا جائے اور مجھے بدنام کرنے کی خاطرمختلف اخبارات میں خبریں چھپوا دیں۔

مزیدبرآں ان معصوم بچوں پر 16ایم پی او کے تحت مقدمہ بھی درج کرا دیا۔وسیب اور ملتان کی روایات کے مطابق ایک دوسرے کی عزت باہمی تصور کی جاتی ہے ، لیکن ڈی سی او صاحب جس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں،شاید وہاں یہ روایات نہ ہوں۔شیشہ پینا بلاشبہ ایک بُری بات ہے ، مگر کسی طرح بھی غیر قانونی نہیں۔یہ ساری کارروائی مجھے اور میرے خاندان کو بدنام کرنے کے لئے کی گئی۔مَیں قانون دانوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا 16ایم پی او ان بچوں پر لاگو ہوتی ہے ؟کیا ان بچوں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا کہ تھانے میں دوسرے مجرمان کے ساتھ رکھا جائے اور انہیں ساری زندگی ایک ذہنی کوفت میں مبتلا کردیا جائے۔اہل اولاد کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کررہا ہے کہ بڑے بڑے مجرم،جو منشیات کا دھندہ کرتے ہیں، چوری اور ڈکیتی میں ملوث ہیں،دہشت گردی کرتے ہیں، ملاوٹ مافیا ہیں، ان پر ڈی سی او نے کیوں ہاتھ نہیں ڈالا اور محض شیشہ پینے والے ان معصوموں کو ملوث کرکے اتنی بڑی سزا دی ہے ۔کیا یہ اختیارات کا ناجائز اور بے جا استعمال نہیں؟

محمد علی گردیزی اگر مجھ سے پوچھتے تو مَیں انہیں ہرگز اس پریس ریلیز کو جاری کرنے کا مشورہ نہ دیتا۔نجانے وہ کون سے ذہن رسا ہیں، جن کے کہنے پر انہوں نے یہ بیان جاری کیا۔ایک ایسے وقت میں کہ جب ملک میں قانون پر عملدرآمد کی لہر چل رہی ہے اور میڈیا کی مضبوط گرفت کے باعث طاقتور حلقے بھی قانون کی گرفت میں آرہے ہیں، محمد علی گردیزی، اپنے خاندان کی خدمات اور شریف النفس ہونے کی صفات گنوا رہے ہیں۔ان کا یہ کہنا تجاہل عارفانہ کے زمرے میں آتاہے کہ شیشہ پینا غیر قانونی نہیںہے۔اگر یہ غیرقانونی نہیں ہے تو پھر پولیس نے کس قانون کے تحت کارروائی کی اور مجسٹریٹ نے کس ضابطے کے تحت ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا؟انہوں نے یہ بات بھی کھل کر نہیں بتائی کہ اگر یہ انہیں بدنام کرنے کی سازش ہے تو کیا ان کی ڈی سی او سے کوئی پرانی دشمنی چلی آ رہی ہے ؟

شکر ہے انہوں نے یہ نہیں کہہ دیا کہ وہ چونکہ سید یوسف رضا گیلانی کی گڈ بکس میں رہے ہیں، اس لئے پنجاب حکومت کے ایماءپر ان کے خلاف سازش کی جارہی ہے ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ ایسا ”عمدہ“ پریس ریلیز جاری کرنے کی بجائے یہ دوحرفی بات کرتے کہ قانون سب کے لئے برابر ہے ، اگر ان کے بھانجے نے بھی قانون شکنی کی ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، البتہ وہ قانونی امداد فراہم کرنے میں اپنا پورا اثرورسوخ استعمال کرسکتے تھے۔

کوئی مانے یا نہ مانے حالات بدل رہے ہیں، طاقتوروں کے مضبوط قلعوں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، اب وہ وقت جا چکا ہے ،جب قانون شکنی پر فخر کیا جاتا تھا، اب ایسے واقعات سامنے آتے ہیں تو طاقتور سے طاقتور بھی منہ چھپاتا پھرتا ہے ۔اب ہم اس کیفیت سے نکل آئے ہیں، جس کی طرف شعیب بن عزیز نے اپنے اس شعر میں اشارہ کیا تھا۔

شب گزرتی دکھائی دیتی ہے

دن نکلتا نظر نہیں آتا

....اب دن نکل رہا ہے اور عوام کے اندر شعور کی وہ لہر بیدار ہورہی ہے ، جو بالآخر معاشرے کی کایا کلپ کرکے اسے اندھیرے سے روشنی میں لے آتی ہے ۔   

مزید : کالم