جلسہ حیدر آباد اور ترقی سندھ کی اشتہاری مہم

جلسہ حیدر آباد اور ترقی سندھ کی اشتہاری مہم
جلسہ حیدر آباد اور ترقی سندھ کی اشتہاری مہم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گزشتہ رات اسلام آباد کے ایک عشائیہ میں ہمارے میڈیا کے سینئر دوست ایوان صدر میں مقیم ایک سیاسی شخصیت سے تقریباً گتھم گھتا ہوتے ہوتے رہ گئے۔ زیر بحث معاملہ سندھ کی ترقی ، پاکستان کی ترقی ، سندھ کی خدمت، پاکستان کی خدمت وغیرہ وغیرہ جیسے نعروں سے مسلسل چلائی جانے والی ایک اشتہاری مہم تھی۔ میڈیا کے دوستوں کا خیال تھا کہ اگر ایسی کوئی پروپیگنڈہ مہم چلانا مقصود ہی تھا، اسے ٹی وی چینلوں پر چلانے کی چنداں ضرورت نہ تھی، بلکہ اسے سندھ کے پرنٹ میڈیا تک ہی رہنے دیا جاتا تو زیادہ بہتر تھا۔ اس صورت حال پر جہاں ہمارے بیرون ملک مقیم پاکستانی ہنس رہے ہیں، وہاں باقی چار صوبوں، یعنی گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے ووٹر بھی اس تذبذب میں ہیں کہ شاید اب پی پی پی خود کو سندھ تک ہی محدود کرنا چاہتی ہے اور اب جئے بھٹو کا نعرہ صرف اس صوبہ تک ہی رہنے دیا جائے گا۔ میڈیا کے دوستوں کا خیال تھا کہ پارٹی کے جدا امجد بیرسٹر ذوالفقار علی بھٹو جب 1977ءمیں اپنی پارٹی کے لئے دوسری ٹرم لینے نکلے تو وہ الیکشن میں کامیاب ہو کر یہ دوسری ٹرم حاصل نہ کر سکے، بلکہ باقی پارٹیوں کی طرف سے دھاندلی کے خلاف چلائی گئی مہم کا نشانہ بن کر مارشل لاءلگوا بیٹھے۔

اگر اس وقت جنرل ضیاءالحق 90دن کے اپنے وعدہ پر قائم رہتے الیکشن کروا دیتے اور ہر جگہ فوجی عدالتیں قائم کرکے پی پی پی کا صفایا کرنا شروع نہ کرتے تو جہاں فوج کا ایک اچھا امیج قائم ہو جاتا، وہاں الیکشن بھی منصفانہ ہو جاتے اور دودھ کادودھ، پانی کا پانی دکھائی دے جاتا، لیکن افسوس کہ جنرل ضیاءنے ایک طرف فوج کو بدنام کیا اور دوسری طرف پیپلز پارٹی کے خلاف خود ایسی پارٹی بن گئے کہ جتنا انہوں نے پارٹی کو دبایا، پارٹی اتنی ہی زیادہ مضبوط ہوئی۔ سرعام کوڑوں کی سزائیں، ہر جگہ سے پی پی پی کارکنوں کی گرفتاری اور منٹوں میں فوجی عدالتوں سے سزائیں ایک ایسا شرمناک اقدام قرار پایا کہ جس کی مذمت پوری دنیا نے بھی کی اور خود پاکستانیوں میں بھی فوج کے خلاف اور پی پی پی کے حق میں ایک لاوا دل ہی دل میں پکتا رہا۔ یہی وہ لاوا تھا جسے بھٹو کی پھانسی نے مزید ”جلا“ بخشی، یعنی نئی زندگی دی اور پھر 1986ءکے 10 اپریل کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو جلا وطنی سے واپس پاکستان لاہور کے ائیر پورٹ پر اتریں تو لاکھوں لوگوں نے ان کا استقبال کیا اور داتا گنج بخش کے مزار تک جوکہ صرف چند کلو میٹر کے فاصلہ پر تھا، جلوس کو پہنچنے میں کئی گھنٹے لگے۔ اس استقبالیہ جلوس نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی اور چاروں صوبوں میں اس پارٹی کو نئے سرے سے زندہ کر دیا۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی بحث مباحثہ کی تو ایوان صدر میں مقیم سیاسی رہنما نے کافی دلائل دیئے، لیکن وہ سب بے وزن تھے۔ حیدر آباد کے جلسہ کے سلسلے میں کی جانے والی تقاریر اور اس جلسہ کی پیشگی اشتہاری مہم کے جواز میں وہ صرف اتنا ہی کہہ سکے کہ اب الیکشن میں کیونکہ تھوڑا ہی وقت باقی ہے، لہٰذا ہر پارٹی اپنے اپنے ووٹروں کے پاس جانے کا حق رکھتی ہے، لہٰذا ہم بھی اس ہی سلسلے میں حیدر آباد سے شروعات کر رہے ہیں۔ باقی صوبوں کے اہم شہروں میں بھی جائیں گے اور وہاں کے ووٹروں تک بھی پہنچیں گے۔ اس بحث میں پی پی پی کی بعض حکومتی شریک پارٹیوں کے ہم نوا بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کی صرف ایک ہی کوشش ہے کہ وہ سنگل اکثریتی پارٹی بن کر ایک بار پھر الیکشن 2013ءمیں سامنے آئے اور پھر اپنی دیگر حمایتی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائے۔ اس کے لئے الیکشن 2008ءمیں اس کے پاس 127 قومی اسمبلی کی سیٹیں تھیں، جو اب اگر آدھی بھی رہ گئیں تو اس پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ ان کے برابر کوئی بھی دوسری جماعت اتنی بھی سیٹیں بطور سنگل پارٹی نہیں لے سکے گی۔

 ان کا خیال تھا کہ پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی نے چونکہ 2002ءسے 2007ءتک ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے ہیں اور 2005ءمیں بلدیاتی الیکشن بھی لہذا پنجاب کے ووٹر اب بھی ان کے ساتھ ہیں اور اب پی پی پی کے پاس چونکہ محترمہ بے نظیر کی شہادت والا ووٹ پہلے ہی کیش ہو چکا ہے، لہٰذا مسلم لیگ کا ووٹ اب انہیں، یعنی چودھریوں کو ہی ملے گا۔ پی پی پی کے ساتھ چونکہ وہ الحاق میں ہیں، لہٰذا وہ ان کا بھی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، کیونکہ پی پی پی کے ان لیڈروں نے جو پنجاب سے قومی اسمبلی میں 2008ءکے بعد سے اب تک موجود ہیں، پیچھے مڑ کر اپنے ووٹروں کی خبر تک نہیں لی ہے، چنانچہ ناراض ووٹر اب چودھری برادران کے ساتھ ہی جائیں گے، جبکہ میاں نواز شریف نے شروع کے تین سال پی پی پی کی حمایت کرکے اپنے مسلم لیگی ووٹروں کو بھی اپنے خلاف کر لیا ہے۔ اصل فیصلہ تو بہرحال 2013ءمیں ہونے والے الیکشن کے ووٹروں نے ہی کرنا ہے۔

اس بار چونکہ میڈیا نے ووٹروں کو کافی سیاسی شعور دے دیا ہے اور وٹ بھی ساڑھے تین کروڑ کے قریب بڑھ گئے ہیں، لہٰذا نوجوان طبقہ لازمی طور پر اب ان ووٹوں میں خود کو شامل کرے گا اور الیکشن کی صبح سے پہلے والی رات کو ہی یہ طبقہ دھمال ڈالتے ہوئے ملک کے لاکھوں پولنگ سٹیشنوں پر لائنیں بنا کر وہاں ووٹ ڈالنے اپنے پولنگ سٹیشنوں تک پہنچیں۔ اس بار ووٹ کی پرچی اور پولنگ سٹیشن کا نام، نمبر اور پتہ الیکشن کمیشن والے ڈاک خانوں کے ذریعے گھروں کے دیئے گئے ایڈریس پر ہی کروڑوں ووٹروں تک بھجوائیں گے، لہٰذا ٹرن اوور اب 30، 40 فیصد تک محود نہیں رہے گی، بلکہ تقریباً دو گنا، یعنی 60 سے 70 فیصد تک چلا جائے گا۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ فیصلہ سنگل پارٹی اکثریت والوں کے حق میں ہی جائے گا۔ منہاج القرآن والے ڈاکٹر طاہر القادری بھی اس میدان میں آئیں گے۔ جماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ مل کر سامنے ہو گی، لہٰذا یہ میدان اب سخت ترین مقابلہ کا میدان ہو گا۔ ایسے میں اگر پی پی پی کی حکمت عملی سندھ میں اپنا ووٹ بچانا اور بطور سنگل پارٹی اکثریت حاصل کرنا ہے تو وہ بھی اسی طرح سب کے ساتھ ہی میدان میں اترے گی، جس طرح باقی پارٹیاں اتریں گی۔ گھوڑے بھی ہوں گے اور میدان بھی، فیصلہ بہرحال ووٹروں کی پرچیاں ہی کریں گی۔ یہ بحث مباحثے اور تکراریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔     

مزید : کالم