مقاصدِ حج

مقاصدِ حج
مقاصدِ حج

  

حج اسلام کا ایک اہم رکن ہے ۔ ہر صاحب حیثیت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے ۔ یہ سب سے افضل عبادت ہے ۔ اس میں تمام عبادتیں جمع ہو جاتی ہیں ۔ یہ سفر انسان صرف اللہ کے لئے کرتاہے ۔ یہ عشق ومحبت کا ایسا سفر ہے، جس کے لمحے لمحے یادگاربن جاتے ہیں ۔ یہ کیفیت و وجدان کی ایسی منزل ہے جس کی ہر ساعت انسان کونئی لذت سے ہمکنار کرتی ہے ۔ یہ بے مقصد زندگی سے بامقصد زندگی کی طرف، آلائشوں بھرے ماحول سے رحمتوں بھرے ماحول کی طرف ، مادیت پسند معاشرے سے روحانی لذتوں سے سرشار قافلے کی طرف ، گناہوں کے ماضی سے مغفرت کے مستقبل کی طرف ، سابقہ نجاستوں سے نجات پا کر ایک نئے جنم کو حاصل کرنے کی طرف ایک ہجرت ہے ۔ گویا یہ ہجرت کا ایک ایسا سفر ہے جو وجدان کی کھلی آنکھوں اور شعور کی حقیقی کیفیتوں کے ساتھ کیا جائے تو پھر انسان ایک نئی دنیا دریافت کرتاہے ، یعنی یہ من کی دنیا کو دریافت کرنا ہے۔ حج بے مقصدیت کی ضد ہے ۔ یہ اپنے رب سے ،اپنے پالنہار سے ،اپنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب دوست سے ،اپنے ہمدم اور اپنے رفیق اعلیٰ سے ملاقات کا ایک سفر ہے ۔ انسان دنیا میں خدا کا خلیفہ ہے اور یہ خلیفہ کی دربار میں طلبی ہے ۔ یہ اپنے گھر سے خدا کے گھر کی طرف سفر ہے ۔ جب انسان احرام باندھتاہے تو اس بات کا اعلان کردیتاہے کہ اب وہ امیر ، وزیر ، بادشاہ ، تاجر ، عالم ، صاحب جاہ و حشمت ، جلالة الملک ، عالی جناب ، ذی وقار ، حضرت العلام ، صاحب کشف و کرامات ، پیر طریقت غرضیکہ وہ کچھ بھی نہیں رہا بس ایک بندہ ہے خدا کے کروڑوں بندوں کی طرح ایک بندہ ، ایک آدم و حوا کی اولاد ، نسل انسانی کا ایک فرد:

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

احرام اس بات کا بھی اعلان ہے کہ بتان رنگ و خوں ٹوٹ چکے ہیں ۔فرد ملت میں گم ہو گیاہے ۔ تورانی ، باقی رہا ہے نہ ایرانی، نہ افغانی ۔ سب کا لباس ایک اور آرڈر آف دی ڈے، یعنی حج کا فرمان شاہی بھی ایک ہے۔ لبیک اللھم لبیک ۔ حاضر ہوں میرے رب، مَیں حاضر ہوں گے ۔ تیرا کوئی شریک نہیں مَیں حاضر ہوں ۔ حمد بھی تیرے لئے ، نعمتیں بھی تیرے لئے ، بادشاہی بھی صرف تیرے لئے ہے ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ میں حاضر ہوں ۔ اب حاجی ایک نئی دنیا میں قدم رکھتاہے، اس لئے پرانی دنیاکی ہر یاد بھلانے کی خاطر لباس پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں ۔ وہ خوشبو استعمال نہیں کر ے گا ۔ روحانی لذتوں کی خوشبوئیں اس کے چہار سو بکھرتی رہیں گی ۔ وہ شکار نہیں کرے گا ۔ اس کی طرف کسی دوسرے کو بھی متوجہ نہیں کرے گا اب اسے خود کاشکار ہونا ہے، یعنی:

قلب و نظر شکار کر ہوش و خرد شکار کر

مرد سرنہیں ڈھانپے گا۔ عورت چہرہ ڈھاپنے گی تاکہ سر ہر بوجھ سے اور چہرے دنیاوی زیب و زینت سے آزاد ہو جائیں ۔صرف تقدس کاغازہ روحانی کیفیتوں کا ہم سفر رہے ۔ احرام کفن کی بھی یاد دلاتا ہے کہ اسی لباس میں دنیا سے واپسی ہو گی، پھر زیب و زینت کے لبادے اور غرور و تفاخر کے پہناوے کس کام کے ؟ پھر جب انسان مکہ پہنچتاہے تو یہاں سرسبز و شاداب وادیاں ، جھرنوں کے نیلگوں پانیوں کی حلاوت ، جھیل کنارے میلوں تک پھیلے سبزہ زار ، طویل قامت سرو کے درخت ، پہاڑی نشیب و فراز ، رم جھم برستی بارشیں ، گھنگور گھٹاﺅں کے توبہ شکن موسم اور مرغزاروں کے وسیع سلسلے اس کا انتظار نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ یہ تو وادی غیر ذی زرع ہے ۔ بے آب و گیاہ وادی،نہ سبزہ، نہ روئیدگی ۔دنیا کے سخت ترین پتھریلے پہاڑ اور کسی بھی ماحولیاتی حسن سے آزاد چوٹیاں ، وادیاں ، گھاٹیاں .... گویا کہ خدا کا گھر اعلان کر رہاہے آﺅ تو صرف میرے لئے۔ کسی منظر کشی کے لئے ، کسی سیاحتی دورے کے لئے ، کسی لذت نگاہ کے لئے نہیں ،بلکہ یہ اعلان کرتے ہوئے آﺅ....انی وجھت وجھی للذی فطرالسموات والارض حنیفا....(مَیں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جو زمین و آسمان کا خالق ہے )۔ یہ خدا کا گھر ہے لیکن اندر سے خالی ہے ۔ اندر کچھ بھی نہیں، حتیٰ کہ خدا بھی نہیں ۔ خدا تو بے پناہ وسعتوں کا مالک ہے ۔ رب السموات والارض ہے ۔ یہ گھر اسی کا ہے، لیکن وہ کسی ایک گھر تک محدود نہیں ۔ یہ اس امر کا اعلان ہے کہ حاجی کی منزل یہ گھر بھی نہیں، بلکہ اس کی اصل منزل گھر والا ہے ، رب ھذا البیت ہے۔

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلمان کی

یہ بیت عتیق ہے، یعنی آزادیوں کا گھر، یہاں انسان سب غلامیوں سے آزاد ہو جاتاہے ۔ سب بادشاہتوں سے آزاد ہوتا ہے ۔ ان تمام زنجیروں سے آزاد ہو جاتاہے، جنہوں نے انسان کو جکڑرکھاہے ۔ وہ رسوم ورواج ، علاقہ ونسل ، زبان و بیان کی زنجیروں کو توڑ دیتاہے ۔ یہاں آنے سے پہلے سب کے راستے مختلف تھے، اب ایک ہی راستہ ہے، کعبہ نیوکلیئس (مرکز ہ) ہے اور الیکٹران ، پروٹان اور نیوٹران اسی کے ارد گرد گردش کر رہے ہیں ۔ کعبہ نیو کلیئس بن جائے تو پورا عالم اسلام خود ایٹم بم بن جائے۔ ایٹمی توانائی سے بڑھ کر قوت کا مالک بن جائے۔ کعبہ کے ارد گرد ایک ملت وجود میں آرہی ہے۔ یہاں آنے سے پہلے ہر کوئی ”میں“ تھا اب وہ” ہم“ بن گیاہے۔ پہلے وہ قطرہ تھا اب سمندر بن گیاہے۔ پہلے وہ فرد تھا اب وہ ملت بن گیاہے۔ پہلے وہ جزیرہ تھا اب کل بن گیاہے:

تیرے کوچے ہر بہانے مجھے صبح سے شام کرنا

اب کوچہ حبیب ہے اور فارس و شام سے عرب و عجم اور شرق و غرب سے آئے ہوئے لاکھوں عشاق کے قافلے اس کوچے کے طواف پر فخر کر رہے ہیں۔ اس فخر میں بھی عجز ہے، سات چکروں میں بندہ اپنے رب سے ، غلام اپنے مالک سے اور دوست اپنے دوست سے ہمکلام ہے ۔ راز و نیاز کی باتیں، بندے کی درخواستیں ، التجائیں اور آرزوئیں ، بندہ مجسم سوال ہے اور مالک .... وہ بھی تو مجسم عطاہے ۔ جھولیاں بھر بھر کے دے رہاہے ۔ طواف کے بعد مقام ابراہیم ؑ پر دو رکعت نفل شکرانے کے ادا کرتے ہیں ۔ مقام ابراہیم تعمیر کعبہ کی نشانی ہے جب خدا کا ایک نبی معمار اور دوسرا نبی مزدور بن کر خدا کا گھر تعمیر کر رہے تھے ۔ واذ یرفع ابراھیم القواعد من البیت واسماعیل۔ یہی وہ دن تھا جس کے لئے ابراہیمؑ آگ میں جلنے سے بچائے گئے تھے اور اسماعیل کو چھری کے نیچے سے نکالا گیا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ اس مقام تک پہنچے تھے تو ایک متحرک و فعال دعوتی زندگی، ایک زندہ و بیدار انقلابی زندگی ۔ایک سراپا ایثار و قربانی مثالی زندگی گزار کے آئے تھے ۔ اس راستے سے آئے تھے، جس پر بت کدے بھی تھے جنہیں وہ مسمار کر کے آئے تھے ۔ آتش نمرود بھی تھی، جسے وہ گلزار بنا کر آئے تھے ۔ اذیتیں بھی تھیں، جنہیں وہ مسکراتے ہوئے جھیلتے رہے تھے ۔ بال بچوں سے جدائیاں بھی تھیں، جنہیں اس بندہ ¿ رب نے امر ربی سمجھتے ہوئے قبول کیا تھا ۔ ہجرت کے خار زار راستے بھی تھے، جن سے وہ دیوانہ وار گزر ے تھے ۔عزیز از جان بیٹے کی قربانی بھی تھی جسے وہ قربان گاہ تک ہی نہیں لائے تھے، بلکہ اپنی دانست میں ذبح بھی کر دیا تھا۔

 وہی ابراہیم ؑ آج گھر بنا رہے ہیں، اپنے لئے نہیں ، اسماعیل ؑ کے لئے نہیں ، خدا کا گھر ، خدا کے بندوں کے لئے ، بے گھروں کے لئے گھر ، مظلوموں کے لئے پناہ گاہ ، بے کسوں کے لئے سرزمین امن ، اندھیری راہوں میں ابدی روشنی کا چراغ ۔واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالا وعلٰی کل ضامریاتین من کل فج عمیق( یہ دور اپنے ابراہیم ؑ کی تلاش میں ہے )۔ مقام ابراہیم ؑ کے بعد سعی ہے صفا و مروہ کی سعی ان راہوں پر چلنا جن پر حضرت ہاجرہ ؓ چلی تھیں ۔ اتنی مرتبہ چلنا جتنی مرتبہ وہ چلی تھیں، وہاں سے دوڑتے ہوئے گزرنا ،جہاں سے دوڑتے ہوئے گزری تھیں .... میر ے خدا ایک عورت کا اتنا شرف ؟ اتنا مقام ، اتنی عزت ؟ ہاں میرے رب نے عورت کو اتنا ہی شرف دیا ہے۔ وہ عورت بیوی تھی ، مگر کیسی بیوی ! خاوند کے حکم پر ہی نہیں، بلکہ خدا کے حکم پر اپنے معصوم بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں یکہ و تنہا لے کر بیٹھی ہے ۔ خاوند رب کے حکم پر یہاں چھوڑ کر واپس چلے گئے ہیں اور اب وفا شعار، اطاعت گزار، راضی برضا بیوی ، ویران راستوں میں بیٹھی ہیں ۔ کوئی حزن و ملال نہیں، کوئی آہ و بکا نہیں ، کوئی شکوہ نہیں ، کوئی تاسف و ندامت نہیں ۔ حضرت ہاجرہ ؓ ہجرت کرنے والی ..... وہ عظیم ماں ہیں۔

 جگر گوشہ پیاس سے تڑپ رہا ہے ہاجرہ صفا و مروہ کے درمیان دوڑ رہی ہے پانی کی تلاش میں دیوانہ وار.... اس کی یہ سعی ،یہ دیوانگی ، یہ اضطراب ،یہ تسلیم ورضا ، یہ ایثار و قربانی میرے مولاکو اتنی پسند آئی کہ قیامت تک کے لئے اسے مناسک حج و عمرہ کا حصہ بنادیا۔ پانی تو ایک علامت ہے ، یہ سعی دنیا میں رہ کر جنت کی تلاش کی سعی کی طرف توجہ دلاتی ہے ۔ لوگو اسی طرح دوڑتے رہو مال و منال کی طرف نہیں ، عہدہ و منصب کی طرف نہیں ، سیم و زر کی طرف نہیں بلکہ سارعوا الی مغفرة من ربکم وجنہ (دوڑو مغفرت کی طرف اور دوڑو جنت کی طرف )۔ سعی اس امر کی بھی نشاندہی ہے کہ .... کوشش ہمارا فرض ہے، کامیابی اور تکمیل منجانب اللہ ہے ۔ حضرت ہاجرہ ؓ کو بھی پانی کوشش کے نتیجے میں نہیں ملا تھا ۔ چشمہ زمزم تو اللہ کی رحمت سے پھوٹ نکلا تھا ۔ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے والے لاکھوں افراد کو حق تعالیٰ کا پیغام یہی ہے کہ میرے راستے پر چلتے رہو ۔ بس پہلا قدم اٹھاﺅ، پھر مَیں سنبھال لوں گا ۔ تم ایک قدم چلو مَیں تمہاری طرف دس قدم چل کر آﺅں گا ۔ تم چلتے ہوئے آﺅ، مَیں دوڑتا ہوا آﺅنگا ۔ سعی کے سات پھیروں کے بعد عمرہ مکمل ہوا .....اب سر کے بال اتار دو .... تم احرام سے نکل آئے .... حج یہ بھی اطاعت الٰہی کا خوبصورت منظر ہے ۔ اپنا وطن چھوڑ ا تھا رب کے گھر کے لئے اور اب رب کا گھر بھی چھوڑرہے ہیں، محض رب کے لئے کہ اس نے حکم دیا ہے، اب مکہ بھی چھوڑ دو، میرا گھر بھی چھوڑ دو، اب چلو منیٰ کے میدان میں.... لبیک اللھم لبیک پکارتے ہوئے نکلو۔  

مزید : کالم