قومی شعور

قومی شعور
قومی شعور

  

قوم میں زندہ رہنے کی امنگ بیدار ہو گئی ہے،لوگوں کا شعور جاگ اٹھا ہے اور یہ معجزہ ایک نو عمر بچی ملالہ کے سنگین حادثے کی وجہ سے ظہور پذیر ہوا ہے، ہر شخص کہہ رہا ہے کہ 65 کی جنگ کے بعد ایک بارپھر قوم کے اندر یک جہتی کے جذبات امڈ آئے ہیں۔چند ایک مستثنیات کو چھوڑ کر ہر شخص ننھی ملالہ کے ساتھ کھڑا نظر آرہا ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف بھی قوم ہم آواز ہے۔اب اس مسئلے کو کوئی امریکی سردردی قرارنہیں دیتا،بلکہ یہ ہماری اپنی بقا کا سوال ہے جس کے لئے قوم کے تمام طبقے مضبوط اور محکم موقف اختیار کرنے کے حق میں ہیں ،اب یا کبھی نہیں کے اصول کے تحت عوام کے تحفظ کے لئے انتہائی اور آخری اقدام کی حمائت کی جا رہی ہے۔اس مسئلے پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ دہشت گردی نے ہماری رگوں سے خون نچوڑ لیا ہے، چالیس ہزار سویلین افراد کی شہادت اور سات ہزار فوجی جوانوں اور افسروں کی قربانی اور کسی قوم کے حصے میں نہیں آئی اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کاصدمہ بھی ہماری روحوں کا گھائل کر رہا ہے۔۔

ملالہ کا سانحہ رونما ہوا تو صدر مملکت اور وزیر اعظم نے بھی اس ننھی بچی کے دکھ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا،صدر نے ملالہ کو اپنی بچی قراردیا اور اس کے علاج کے تمام اخراجات اپنے ذمے لئے۔ وہ آذر بائیجان کے د ارالحکومت باکو میںاقتصادی تعاون کی تنظیم ایکو کے سربراہی اجلاس میں تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو ملالہ کے ذکر پر وہ بے حد رنجیدہ ہو گئے، انہوںنے علاقائی لیڈروں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے متحد ہو کر کاروائی کریں کیونکہ یہ اکیلی پاکستان کی ملالہ کا مسئلہ نہیں ، خطے کی تمام معصوم بچیوں کی بقا اور حفاظت کا مسئلہ ہے۔پاکستان کی افواج نے بھی ملالہ کی دیکھ بھال میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔ سوات میں ابتدائی طبی امداد سے لے کر اس کی پشاور منتقلی اور پھر راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میںاس کے انتہائی نازک آپریشن کا فریضہ بھی پاک فوج کی بہترین پیشہ ور ٹیم نے انجام دیا، اسی کی بدولت شدید زخمی ملالہ اس قابل ہوئی کہ اسے برطانیہ منتقل کیا جا سکے تاکہ وہاںکے ماہرین اس کی دیکھ بھال کر سکیں۔اس دوران پوری قوم دست بدعا رہی۔ گھروں میں ، اسکولوں میں ، مسجدوں میں ، مارکیٹوں میں اس کی صحت کے لئے دعائیں کی گئیں۔ یہ دعائیں اس قومی شعور کا پتہ دیتی ہیں کہ ہرشخص ملالہ کے ساتھ ساتھ اپنی اور اپنے بچوں کی عافیت کا طالب ہے۔ صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں ، افغانستان کے طول وعرض میں بھی پاکستان کی بچی کے دکھ درد کو محسوس کیا گیا، بلا شبہہ اس سانحے نے عالمی سطح پر قیام امن کی حامی قوتوں کو بھی اکٹھا کر دیا۔وزیر داخلہ رحمن ملک نے ملالہ کے لئے تمغہ شجاعت کا اعلان کیا اورعالمی سطح پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسے امن کے نوبل انعام سے نواز جائے۔امریکہ جو پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرتا رہتا ہے، اس کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی ملالہ کی دلیری کو خراج تحسین پیش کیا۔دنیا کو بھی احساس ہو گیا کہ پاکستان کا بچہ بچہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پر عزم ہے، اب کوئی ہماری نیت پر شک نہیں کر سکتا۔ اب کوئی ہمیں ڈبل گیم کا طعنہ نہیں دے سکتا۔میری رائے میں دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ہمیں ان قوتوں سے ڈائیلاگ بھی کر کے دیکھ لینا چاہیئے کہ آخر ان کے نزدیک اس مسئلے کا حل کیا ہے اور وہ بتائیں کہ ہمارا قصور کیا ہے۔دنیا میںہر تنازعہ بالآخر مذاکرات کی میز پر حل ہوتا ہے تو ہمیں بھی یہ آپشن اختیار کرنا چاہئے، ممکن ہے اس طرح ملکی بقا اور اور قومی تحفظ کا کوئی راستہ نکل آئے اور بد امنی کے بجائے معاشرہ امن اور سکون سے آشنا ہو جائے۔عقل اور شعور کا تقاضا ہے کہ ہم جذبات سے نکل کر اس سنگین مسئلے کو دلیل اور منطق کی زبان سے حل کرنے کی بھی کوشش کریں۔

دہشت گردی سے لڑنے کا عزم ہماری سوچ پر اس قدر حاوی ہے کہ بارہ اکتوبر کو سابق ڈکٹیٹر کے ہاتھوں ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کا ذکر بہت کم کیا گیا۔ حالانکہ یہ دن بھی ہمارے لئے ایک قومی سانحے سے کم نہیں ، اس روز دو تہائی منڈیٹ کے حامل وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں لگا کر تنگ وتاریک کوٹھڑیوں اور بوسیدہ قلعوں میں بند کر دیا گیا تھا اور پھر اسے جلا وطن کر دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں بارہ اکتوبر کا سانحہ بار بار ہوا۔1958 میں اس بدقسمتی کا آغاز ہوا،گیارہ برس تک ایک ڈکٹیٹر سیاہ و سفید کا مالک بنا رہا ، پھر قوم اس کے خلاف کھڑی ہوئی تو ایک اور ڈکٹیٹر نے ملک پر قبضہ جما لیا اوروہ اس وقت اقتدار سے الگ ہواجب ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔ایک نئے پاکستان کی تعمیر کا فریضہ جمہوری منتخب حکومت نے سنبھالا مگر تیسرے ڈکٹیٹر نے اس کی بساط بھی لپیٹ دی اور ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم اور قوم کو ایٹمی پروگرام کی طاقت سے سرشار کرنے والے لیڈر کو اس دور کی عدلیہ کی مدد سے پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا۔پاکستان اس لحاظ سے بد قسمت واقع ہوا ہے کہ یہاں جمہوریت پھل پھول نہیں سکی۔ منتخب حکومتوں کو ان کی آئینی ٹرم پوری نہ کرنے دی گئی۔اب موجودہ حکومت نے قدم جمانے کی کوشش کی ہے مگر پچھلے ساڑھے چار برس میں کسی لمحے بھی جمہوری نظام کو سکون کا سانس میسر نہیں آسکا۔دہشت گردی کی جنگ، لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری، افراط زر، مہنگائی اور انتشار جیسے سنگین مسائل اسے ورثے میں ملے، ان سے نبٹنے کے لئے جس یکسوئی کی ضرورت تھی، وہ ناپید ہے۔پھر بھی موجودہ پارلیمنٹ نے مکمل اتفاق رائے سے آئین کا حلیہ درست کرنے کافریضہ انجام دے کر اپنا لوہا منوا لیا ہے۔نظر تو یہ آتا ہے کہ جمہوری نظام پٹڑی پر چل نکلا ہے اور قوم ان اندھیروں سے نکل آئی ہے جو ماضی کے ڈکٹیٹروںنے مسلط کر دیئے تھے۔ شعور کی پختگی ظاہر ہو رہی ہے۔آگے بڑھنے کی امنگ نے قوم کو نئی رفعتوں سے آشنا کیا ہے۔

اگلے انتخابات کے لئے سیاسی جماعتیں متحرک ہیں ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب حکومت کی تبدیلی کے لئے اسی جمہوری راستے کاانتخاب کر لیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کو بھی قوم کا بھر پور اعتماد حاصل ہے، نئی انتخابی فہرستوں کی تیاری کا عمل زور شور سے جاری ہے اور نوجوانوں کے ووٹوں کی اکثریت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری نئی نسل شعور کی پختگی کا ثبوت دے رہی ہے۔یہ جمہوریت کے استحکام کی روشن علامت ہے۔پرانی نسل کو زیادہ تر آمریت سے پالا پڑا رہا، مگر اس نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا، اب سیاسی میراث جوان، توانا اور تازہ دم نسل کے سپرد ہو گی تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ملک کو اس کے بنیادی مقاصد سے ہم آہنگ کرنے میںزیادہ وقت نہیں لگے گا اور پاکستان عالمی برادری میں سینہ تان کر چلنے کے قابل ہو سکے گا

مزید : کالم