جمہوریت پر اعتماد بحال کرنے کا شکریہ

جمہوریت پر اعتماد بحال کرنے کا شکریہ
 جمہوریت پر اعتماد بحال کرنے کا شکریہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیا یہ بات عجیب نہیں کہ جس ملک میں بااثر باپ اپنے بیٹوں کی کروڑوں، اربوں روپوں کی کرپشن پر انہیں جیل جانے سے بچانے کے لئے ہر قسم کے داو¿ پیچ آزمانے کے لئے تیار رہتے ہوں ، جس معاشرے میں داماد کی عزت کو پورے خاندان کے وقار پر ترجیح دی جاتی ہو ، میں جس صوبے میں رہتا ہوں وہاں کا ایک جٹ وزیراعلیٰ بغیر کسی لکھت پڑھت اور قانونی کارروائی کے تھانے جا کے اپنے حامیوں کے بندے خود حوالات سے باہر نکال کے لے آیا ہو، اسی پنجاب میں ایک وزیراعلیٰ سسر نے اپنے داماد کو محض ایک جھگڑے کے مقدمے میں اپنی پیاری بیٹی کے انتہائی منکسرالمزاج شوہر کو پہلے حوالات اور پھر جیل کی ہوا کھلا دی حالانکہ اس الزام میں بچ نکلنے کے بہت سارے راستے تھے کہ اس فوٹیج کے درست ہونے سے ہی انکار کیا جا سکتا تھا مگروزیراعلیٰ کے مطابق انہوں نے خود اپنے داماد کو ہدایت کی کہ وہ تھانے جا کر شامل تفتیش ہوں اور پھر ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ بات یہاں تک ہی رہتی تو بھی ” انصاف“ اور ” سیاست“ کے تقاضے پورے ہوجاتے کہ وہ کون سا شیر ایس پی ہے جو وزیراعلیٰ کے داماد کو ایک جھگڑے کے مقدمے میں بیان درج کرانے کے بعد پکڑ کر حوالات میں بند کر دے، سسر کی ”بادشاہت “ میں داماد کو ہتھکڑیاں لگا دے، اس کے لئے یقینی طور پر اسے پورے شریف خاندان کی طرف سے ”این او سی“ دیا گیا ہو گا کہ تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا،پھر بات اس سے بھی آگے نکل گئی جب اس معاشرے میں جہاں یہ ضرب المثل بنی ہوئی تھی کہ وکیل کرنے کی بجائے جج ہی کر لیا جائے، وہاں ایک عام جوڈیشل مجسٹریٹ نے جھگڑے میں براہ راست ملوث نہ ہونے کا موقف ہونے کے باوجود کیس سے ڈسچارج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جیل بھیج دیامگریہاں بات صرف وزیراعلیٰ کے داماد کی ہی تو نہیں، میاں عمران علی اس بدترین کاروباری دور میں بھی سرمایہ کاری کرنے والی ایک ممتاز شخصیت ہے اور اس وقت بھی وہ تمام میڈیا جو میاں عمران علی کی گرفتاری اورانہیں جیل بھیجنے کی خبریں چلا رہا ہے، ان کی زیر تعمیر لاہور کی سب سے اونچی عمارت کے حوالے سے لاکھوں اور کروڑوں روپے ماہانہ کے اشتہارات چلا رہا ہے۔ میری الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے بہت پرانی وابستگی ہے اور مجھے اچھی طرح علم ہے کہ حکومتیں سرکاری خزانے سے چلنے والے اشتہارات اور اس کے بعد بزنس مین پرائیویٹ ایڈورٹائزمنٹ ایجنسیوں کے ذریعے میڈیا سے خبریں کیسے روکتے ہیں مگر نہ حکومت نے کوئی ایسی کوشش کی کہ ان خبروں کا بلیک آو¿ٹ کیا جائے اور نہ ہی اشتہاری ایجنسی کے ذریعے اس خاندان کی عزت خراب کرنے والی فوٹیج سے لے کر داماد کی گرفتار ی اور جیل تک پہنچنے کی خبروں پر قدغن لگائی گئی۔

مجھ سے اگر کوئی ذاتی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے داماد میاں عمران علی یوسف کی شخصیت کے بارے پوچھے تو میں کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ان کی تعریف کروں گا، میں نے اپنی زندگی میں کم ہی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اتنے بااختیار اور دولت مند ہونے کے باوجود اتناعاجزانہ رویہ رکھتے ہیں، اس سے پہلے چودھری برادران کا دسترخوان اور ان کے گھر ملنے والی عزت یار دوست بار بار بیان کرتے اور ان کی کامیابی کے ایک اہم جزو کے طور پر پیش کرتے ہیں مگرذاتی مشاہدہ رکھنے والے بتاتے ہیںکہ میاں عمران علی کے گھرتوکئی مرتبہ ان سے ملنے کے لئے آنے والا مہمان ان ہی کے ڈائننگ روم میں ٹیبل کی مرکزی کرسی پر بہت بہت اصرار کر کے بٹھایا گیا اور یہ نوجوان میزبان اور گھر کا سربراہ ہونے کے باوجود سامنے بیٹھ گیا، ان کے ساتھ کبھی ناشتہ کرنے والے ہی جانتے ہیں کہ وہ اتنی محبت سے اتنا زیادہ کھانا کھلا دیتے ہیں کہ اس ناشتے کے بعد ڈنر تک کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہو سکتا ہے کہ اس تحریر کو ایسے ہی کھانوں کا پرتو سمجھا جائے مگر جو سچ ہے اسے بیان کرنے میں کبھی بھی شرمندگی نہیں ہونی چاہئے ، یہ بات سیاست اور تجارت دونوں سے بالاتر ہے کہ ا ن سے ملنے کے لئے جانے والے مخالف سیاسی جماعت کے رہنما کوبھی اتنی عزت اور محبت دی کہ وہ خود حیران رہ گیا۔ان کے گھر سے باہر سے گزرنے والے جب گھر کے باہر بہت بہت بڑا بڑا الصلوة و السلامُ علیک یا رسول اللہ لکھا ہوا دیکھتے ہیں تو یہی سمجھتے ہیں کہ اس گھر کے اندر کوئی بہت بڑی عمر کا بزرگ رہتا ہوگا مگر نوجوان عمران علی سے بات کرنے والے جانتے ہیں کہ ہر دوسرے تیسرے فقرے کے بعد اللہ کی رحمت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کرم کا ذکر ہوتا ہے، ملاقاتوں کے دوران اگر نماز کا وقت ہوجائے تو اس گھر میں باقاعدہ امام صاحب تشریف لاتے ہیں تو ملاقاتیں اور اجلاس روک دئیے جاتے ہیں اور باقاعدہ باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد گفتگو کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جاتا ہے۔

میں اندازہ لگا سکتا ہوںکہ سوشل میڈیا پر بیکری ملازم کیس کی فوٹیج آنے اوراس کے بعد ہونے والے کرنٹ افئیرز کے پروگراموں نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر بہت دباو¿ بڑھا دیا ہو گا مگر یہاںکس کس رہنما کے بچوں کی کس کس قسم کی فوٹیج اور تصویریں موجود نہیں ہےں۔ بہت سارے بڑے سیاسی رہنما اس حوالے سے نجی محفلوں میں ہنستے اور یار دوستوں کے ہاتھ پر ہاتھ مار کے کہتے ہیں کہ بندہ ڈھیٹ ہونا چاہیے شرم تو آنی جانی چیز ہے۔ یوں بھی بہت ساروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس قوم کی باتوں کو یاد رکھنے کی صلاحیت بہت کم ہو چکی ہے، یہ کرپشن کے سینکڑوں سکینڈلز، عدلیہ سے محاذ آرائی اور لوڈ شیڈنگ جیسے عذاب بھول جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ وفاق میں برسراقتدار پارٹی کے لوگ ایک کے بعد دوسرا ضمن انتخاب ہی نہیں ، عام انتخابات بھی جیتنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر اس کیس میں گونگلوو¿ں سے مٹی جھاڑدی جاتی تو شریف خاندان کو سیاسی دفاع کے لئے کافی تھی مگر اب تو مسلم لیگ نون ہی نہیں ، مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی کہہ رہے ہیں کہ میاں شہباز شریف نے کچھ زیادہ ہی سختی دکھا دی ہے۔آج تک ہم علمائے کرام کی زبانوں سے سنتے یا دینی کتابوں میں ہی پڑھتے چلے آ رہے تھے کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریش کی فاطمہ نامی ایک عورت کو چوری کاجرم ثابت ہونے پر سزا دی تو اس عورت کے حسب نسب کا حوالہ دیتے ہوئے اس سزا کو کچھ نرم کرنے کی درخواست کی گئی مگر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ جرم ان کی اپنی بیٹی فاطمہ بھی کرتی تو اسے اس جرم کی پوری سزا ملتی، اب اگر شہباز شریف کا داما د اپنے ملازمین کی طرف سے مارکٹائی کرنے پر تھانے اور جیل جا سکتا ہے تو یقین کرلینا چاہئے کہ کسی اور بڑے آدمی کا بیٹا اور داماد بھی کسی غیر قانونی حرکت کرنے کے بعد نہیں بچ سکے گا، پولیس کو اگر میاں عمران علی کے لئے فری ہینڈبلکہ آہنی ہاتھ استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے تو پھر کسی وزیر، کسی رکن اسمبلی کے بیٹے، بھتیجے اور بھانجے کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے ظاہر کئے جانے والے اس شدید ردعمل نے میرا جمہوریت پر یقین بڑھا دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ایک بیکری پر کام کرنے والا غریب ملازم اگر صوبے کے بااختیار ترین خاندان کے ملازمین کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنے گا تو اس سے وہی سلوک ہو گا قانون کہتا ہے ۔ کچھ دوست ابھی بھی مرغے کی ایک ٹانگ کے مصداق مصر ہیں کہ یہ سب ڈرامہ ہے اور میں ان کو جواب میں کہتا ہوں کہ اگر یہ ڈرامہ ہے تو ہمیںدعا کرنی چاہئے کہ وہ ہمارے تمام رہنماو¿ں اور عہدے داروں کو ایسے ڈرامے کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق دے کیونکہ ایک ورکنگ جرنلسٹ ہونے کے ناطے میں جانتا ہوں کہ وزیراعلیٰ اور ان کے داماد چاہتے تو سی سی ٹی وی فوٹیج کو تسلیم کرنے کے باوجود لفظی کارروائی کے بعد بھی اپنی جان چھڑوا ئی جا سکتی تھی، کسی قسم کی تحقیقات کا اعلان کر کے اور بعد میںاسے بھول کے چین کی نیند سویا جا سکتا تھا مگرمیاں عمران علی نے خود کو سرنڈر کر کے کم از کم پنجاب میں امیر اور غریب کے لئے آئین اورقانون کی کتابیں ایک کر دی ہیں،میں یہ تو نہیں جانتا کہ آج عدالت میں ضمانت کی درخواست کی سماعت کا کیا نتیجہ ہو گا مگر بہرحال جھگڑے اور مارکٹائی کے بعدوزیراعلیٰ کے داماد کا تھانے، کچہری اور جیل تک پہنچ جانا بھی اس معاشرے کی ایک ان ہونی ہے، جو ہوچکی ہے۔

مزید : کالم