خطرے کی گھنٹی

خطرے کی گھنٹی

وزیر داخلہ رحمن ملک نے سینٹ میں اپنی تقریر کے دوران یہ کہہ کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والی قوتیںاپنا کام شروع کرچکی ہیں اور آئندہ چند ماہ انتہائی خطرناک ہیں۔اب ہماری طرف سے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں موقع دیا جائے تو وہ پارلیمنٹ کے ا ن کیمرہ سیشن میں ارکان کو تمام حالات کے متعلق بریفنگ دے سکتے ہیں۔انہوں نے ہتھیار پھینکنے والے دہشت گردوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا۔تاہم انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ضرورت کے وقت یہ فیصلہ عسکری اور سیاسی قیادت کی طرف سے کیا جائے گا۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ مسئلہ بلوچستان حل کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے سینئر ارکان پر مبنی پانچ پا نچ ر کنی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو بلوچ رہنماﺅں براہمداغ بگٹی اور حیربیار مری سے جا کر بات چیت کریں۔

 ادھر آرمی چیف جنرل پرویز اشفاق کیانی کی صدارت میں کور کمانڈرز کا غیر معمولی اجلاس ہوا جس میںکہا گیا کہ افغانستان کے صوبے نورستان اور کنڑمیں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان پر مسلسل حملے کئے جارہے ہیں۔اجلاس میں ملک کو درپیش سیکورٹی چیلنجز، شمالی وزیرستان آپریشن اور پاک افغان سرحد پر سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔فوج کی پیشہ وارانہ کارکردگی بڑھانے کے لئے متعدد فیصلے کئے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان سے دہشت گردوں نے پاکستانی سرزمین پرچودہ بڑے حملے کئے جن میں 206 سیکیورٹی اہلکاراورشہری مارے گئے۔شمالی وزیرستان کے سلسلے میںذرائع ابلاغ میں گردش کرتی خبروں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، فیصلہ کیا گیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن صرف اسی صورت میں ہوگا جب ملک کی عسکری و سیاسی قیادت اسے ضروری سمجھے گی۔کوئی بیرونی دباﺅ قبول نہیں کیا جائے گا، فیصلہ ملکی مفاد کے پیش نظر ہو گا۔شمالی وزیرستان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ(جی او سی) نے شمالی وذیرستان میں امن و امان جبکہ کو ر کمانڈر پشاور نے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جانب سے جاری ترقیاتی کاموں اور کالعدم تحریک طالبان کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ڈا ئریکٹر جنرل آئی ایس آئی نے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال سے اجلاس کو آگاہ کیا۔

 غیر ملکی دباﺅ قبول نہ کرنے اور شمالی وزیرستان آپریشن کے متعلق صرف قومی مفاد میں سیاسی قیادت کی مشاورت سے کوئی فیصلہ کرنے کا عزم لائق ستائش ہے ۔اس سے قومی حلقوں میں موجود بے یقینی اور بے اعتمادی کی فضا ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔ لیکن سیاسی سطح پر ابھی تک اس معاملے میں ہم آہنگی اور یک سوئی پید ا نہیں ہوسکی ، اور یہی خطر ے کی اصل بات ہے۔اس سے قبل وزیرداخلہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ شمالی وزیرستان آپریشن کے سلسلے میں قومی اسمبلی اور عوام کو اعتماد میں لے کر عسکری قیادت کی مشاورت ہی سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔گذشتہ روز قومی اسمبلی میں اس آپریشن کے سلسلے میں قرارداد پیش کی گئی تو قائد حزب اختلاف چودھری نثارعلی خان نے یہ کہہ کر اس سلسلے میں تعاون سے انکار کردیا کہ وزیر داخلہ خود کہہ چکے ہیں کہ ملالہ پر حملہ کرنے والے افغانستان میں موجود ہیں ، اس لئے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا کوئی جواز نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بیان بھی دیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کی حکومتی قراردار الیکشن ملتوی کرانے کی سازش تھی۔

اس صورت حال سے ظاہر ہے کہ ہمارے سیاستدا ن دہشت گردی کے خلاف کارروائی جیسے نازک معاملے کو بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ دہشت گردی سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے اور ان کارروائیوں میں ہونے والے اضافے سے لوگ اپنے جان ومال کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی کے واقعہ نے دہشت گردوں کے عزائم کو واضح کردیا ہے۔جس سے پورے ملک میں دکھ او ر افسوس کی فضا چھاگئی ہے۔ہر دل میں ایسے لوگوں کا قصہ ہمیشہ کے لئے تمام کرنے کی آرزو ہے۔ عام لوگ بھی محسوس کررہے ہیں کہ اس سلسلے میں جتنی ڈھیل دی جائے گی دہشت گرد اتنے ہی مضبوط ، اور ان کی کارروائیوں میں اتنی ہی وسعت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے عدم تعاون کے بعد حکومتی قرارداد واپس لے لی گئی اور ایسا تاثر دیا گیا گویا اس قرار داد کے بغیر حکومت کے پاس دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں۔

وزیر داخلہ بتائیں کہ آیا قومی اسمبلی نے کوئی ایسا قانون یا کم از کم قرارداد کبھی منظور کی ہے جس میں حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے روکا گیا ہو۔اگر ایسا نہیں ہے توپھر اس کارروائی کا فیصلہ حکومت ہی نے کرنا ہے۔اسی کے پاس ہر طرح کے اختیارات اور اتھارٹی ہے وہی اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔

نواز شریف صاحب نے تجویز دی تھی کہ بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لئے ایک وسیع البنیاد اور بااختیارقومی کمیشن تشکیل دیا جائے ، جو بلوچ رہنماﺅں سے مذاکرات کے بعد قابل عمل سیاسی حل پیش کرے۔اب وزیر داخلہ نے مسئلے کے حل کے لئے سینئر سیاستدانوں پر مشتمل پانچ رکنی کمیٹیاں بنانے کی تجویز دی ہے تو انہی کمیٹیوں پر مشتمل با اختیار قومی کمیشن بھی قائم ہو سکتا ہے جو کمیٹیوں کے تمام معاملات کی نگرانی اور ان میں تعاون کا کام کرے۔اسی طرح وزیر داخلہ کی طرف سے طالبان کے لئے عام معافی کے اعلان کے بعد ان کے مختلف گروہوں سے مذاکرات کے لئے بھی اپوزیشن اور حکومتی مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جاسکتی ہیں۔جو لوگ بندوق رکھ کر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیں ان سے مذاکرات کے بعد امن و امان قائم کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ ہتھیار رکھنے والوں کے روزگار اور دوسرے مسائل حل کرنے کے لئے بھی سنجیدگی سے غورکیا جائے، اس کے لئے ہمارے مغربی اتحادی یقینا ہماری بہت مدد کرسکتے ہیں۔حکومت اور اپوزیشن کو یہ بھی یاد رہناچاہئیے کہ اسوقت دہشت گرد ہمارے ساتھ حالت جنگ میں ہیں ۔ہمیں یک طرفہ طور پر ان کی کارروائیوں ہی کو نہیں بھگتنا ، بلکہ جنگ کرنے والوں کے خلاف جنگ بھی کرنا ہے۔اس سلسلے میں ضرورت کے مطابق جہاں بھی جیسی بھی کارروائی کی جائے گی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے پییچھے کھڑی ہوگی۔وزیر داخلہ اگر مختلف جگہوں پر موجود ہمارے بے گناہ شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے دہشت گردوں کی نشاندہی کررہے ہیں تو ان کے خلاف ضروری کارروائی کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا انتظام بھی کریں۔یہ انہی کی ذمہ داری ہے۔اپوزیشن کو بھی آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

مزید : اداریہ