سیاستدانوں میں رقم تقسیم : بیگ ، درانی اور یونس حبیب کیخلاف کارروائی اور رقم کی واپسی کا حکم ، سپریم کورٹ نے اصغر خان کی درخواست قابل سماعت قراردیدی

سیاستدانوں میں رقم تقسیم : بیگ ، درانی اور یونس حبیب کیخلاف کارروائی اور رقم ...
سیاستدانوں میں رقم تقسیم : بیگ ، درانی اور یونس حبیب کیخلاف کارروائی اور رقم کی واپسی کا حکم ، سپریم کورٹ نے اصغر خان کی درخواست قابل سماعت قراردیدی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے سیاستدانوں میں رقم کی تقسیم کیخلاف سپریم کورٹ نے اصغر خان کی پٹیشن کو قابل سماعت قراردیدیاہے اورحکم دیاہے کہ اسلم بیگ،اسددرانی اور یونس حبیب کیخلاف فوجداری کارروائی کریں ۔عدالت نے مختصر فیصلے میں ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ ملزمان سے منافع سمیت رقم واپس لی جائے ، کوئی عسکری و خفیہ ادارہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوسکتا۔عدالت نے واضح کیاکہ الیکشن سیل سے الیکشن کے نظام کو آلودہ کیاگیااور تحقیقات مکمل ہونے تک سیاستدانوں پر کوئی بات نہیں کی گئی ۔فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ آئین کہتاہے کہ ریاست اپنی اتھارٹی منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے ، یہ عوامی نوعیت کا کیس ہے ۔عدالت نے کہاکہ اُس وقت الیکشن میں دھاندلی ہوئی ، دھاندلی کرکے سیاسی عمل کو آلودہ کیاگیا۔صدر تمام اداروں کا نمائندہ ہے ، حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتاہے ۔آئین کے تحت جمہوریت کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کی جارہی ہے ،1990ءمیں ایوان صدر میں الیکشن سیل قائم ہوا، الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی غیر قانونی کام میں ملوث رہے ،ادارے نے نہیں ، فوج سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی ، جمہوری حکومت کو غیر مستحکم نہیں کرسکتی ۔کوئی بھی ادارہ سیاست میں مداخلت نہیں کرسکتا، صرف سول انتظامیہ کی مدد کرسکتاہے ۔عدالت نے کہاکہ فوج ، آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسا کوئی بھی خفیہ یا عسکری ادارہ سیاست میں مداخلت نہیں کرستا۔عدالت نے کہاکہ ملک کے لیے فوج نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں لیکن ایم آئی نے غیرقانونی کام کیا۔عدالت نے کہاکہ یہ مختصر فیصلہ ہے ، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیاجائے گا۔عدالت نے حکم دیاہے کہ ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل ہے تو اُسے ختم کیاجائے ، رقوم کی تقسیم سے متعلق ایف آئی اے تحقیقات کرے ، غلام اسحاق خان نے غیر قانونی کام کیا۔عدالت نے کہاکہ اسلم بیگ اور اسددرانی اپنے اداروں کے لیے بدنامی کا باعث بنے ، اُن سے رقم منافع سمیت وصول کی جائے اور یہی کارروائی یونس حبیب کیخلاف بھی کی جائے ۔سپریم کورٹ نے کہاکہ یونس حبیب نے 14کروڑ روپے دیئے جن میں سے سات کروڑ تقسیم ہوئے ، تفتیش مکمل ہونے تک سیاستدانوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیاجاسکتا۔قبل ازیں سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ صدر پورے ملک کا ہوتاہے ، وہ آئین کے تحت کسی ذاتی مفاد کے لیے کام نہیں کرسکتااور نہ ہی آئی جے آئی بنانے کی اجازت ہے ۔صدر کاکام نہیں کہ وہ کہے کہ فلاں جماعت ہرادواورفلاں جتوادو، اگر ایساہواہے تو پھراصغرخان کا اصرار درست ہے ۔جسٹس جواد نے کہاکہ جمہوریت کے اندرالیکشن پر اثرانداز ہوناغلط ہے ۔اٹارنی جنرل نے دلائل شروع کرتے ہی عدلیہ پر تنقید شروع کردی اورکہا کہ کیس 15سال تک التواءکاشکار کیوں رہا،ججوں نے پی او کے تحت حلف لیااورفوجی مداخلت کی اجازت دی ، جس پربنچ نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ وفاق کی ذمہ داریوں کے مطابق اپنے دلائل دیں اور جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ پورے بنچ کی بات کریں ۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ تحقیقات نہ کرانے کی ذمہ داری وفاق پر نہیں بلکہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر عائد ہوتی ہے ۔عرفان قادر نے لارجربنچ بنانے کی استدعا کردی اور کہاکہ یہ کہنے میں ہچکچاہٹ نہیں کہ بنچ متعصب ہے ،عدالت اِس کیس میں ساراملبہ حکومت پرڈالناچاہتی ہے ،عدلیہ موجودہ حکومت کو غیر مستحکم کرناچاہتی ہے ۔عدالت نے کہاکہ ملک میں جمہوریت کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے ، صدر نے چاراسمبلیاں گھر بھیجیں ،کیاجوازتھا؟ سیاسی بات نہ کریں ، آئین پر بات کریں۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ سیاسی جماعت سے ہمدردیاں فطری بات ہے ،اُنہوںنے استدعا کی جو ریمارکس کیس سے متعلق نہیں ، اُنہیں حذف کیاجائے ۔اٹارنی جنرل نے آج اختتام دلائل دیئے ہوئے کہاکہ صدر کا سیاسی عہدہ ہوتاہے اگرچہ وہ وزیراعظم کی طرح ہی حلف لیتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے اگر اٹارنی جنرل کے دلائل کو مان لیاجائے تو پھر غلام اسحاق خان نے ٹھیک کیا۔

مزید : اسلام آباد