دعائیں رنگ لے آئیں ، ملالہ کومے سے باہرآگئیں ، کھڑا ہونے کی کوشش، لکھ کر ڈاکٹروں سے بات بھی کی

دعائیں رنگ لے آئیں ، ملالہ کومے سے باہرآگئیں ، کھڑا ہونے کی کوشش، لکھ کر ...
دعائیں رنگ لے آئیں ، ملالہ کومے سے باہرآگئیں ، کھڑا ہونے کی کوشش، لکھ کر ڈاکٹروں سے بات بھی کی

  

برمنگھم(مانیٹرنگ ڈیسک) طالبان کی گولی کا نشانہ بننے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں کھڑے ہونے کی کوشش کی اور لکھ کر ڈاکٹروں سے بات کی ہے ۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق انفکیشن کی وجہ سے وہ تاحال ملالہ کی صحت بارے پریشان ہیں اور گولی لگنے سے مریضہ کے دماغ کو بھی نقصان پہنچاہے ۔ مقامی و غیر ملکی میڈیاکے مطابق ملالہ یوسفزئی کاپوسٹ سرجری علاج جاری ہے اور اِس وقت تک مریضہ کی فیملی کا کوئی بھی فردبرطانیہ میں موجود نہیں ۔ رپورٹ کے مطابق گولی لگنے سے ملالہ کے دماغ کو نقصان پہنچاہے اور ماہر نیورولوجسٹ کی ٹیم اُن کا معائنہ کررہی ہے اور مزید بہتری کے لیے پرامید ہیں ۔نیویارک ٹائمز کے مطابق ملالہ کوما سے باہر آگئی اور اُس کے اوسان بحال ہورہے ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق ملالہ سہارا لے کر کھڑی ہوئیں اورا ُنہیں کوئی مستقل جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ملالہ کی والدین سے بات کرانے کی کوشش کررہے ہیں تاہم وہ خود بول نہیں سکتی البتہ کاغذ پر لکھ کر ڈاکٹروں سے بات چیت کررہی ہے ۔انتظامیہ کے مطابق ملالہ اِس قابل ہوگئی ہیں کہ سہارا لے کر کھڑی ہوسکیں ۔ڈاکٹروں کے مطابق مریضہ تاحال انفکیشن سے متاثر ہے اور اُس کی انفکیشن کی وجہ سے اب بھی صحت پر تشویس ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی ڈاکٹروں نے بتایاکہ ملالہ کے والدین جلد برطانیہ آنے کاارادہ رکھتے ہیں ۔واضح رہے کہ ملالہ کی صحت یابی کے لیے پوری قوم دعائیں کررہی ہے اور صوبائی حکومتوں نے یوم دعا بھی بنایاجبکہ برطانیہ میں بھی ہسپتال کے باہر لوگوں کا تانتا بندھاہواہے ۔

مزید : سوات