سر سید ؒ: پاکستان کے معمارِ اوّل سے ہماری اجنبیت

سر سید ؒ: پاکستان کے معمارِ اوّل سے ہماری اجنبیت
سر سید ؒ: پاکستان کے معمارِ اوّل سے ہماری اجنبیت

  

بابائے اردو مولوی عبدالحق نے مسلمانان ِ جنوبی ایشیا کے عظیم محسن سر سید احمد خان ؒ کا ذکر کرتے ہوئے یہ تاریخی الفاظ لکھے ہیں:”فرہاد کو شیریں سے اورنل کو دمن سے اتنا عشق نہیں ہو گا، جتنا انہیں اپنی قوم سے تھا.... سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے یہی ان کا وِرد تھا۔ وہ بلا مبالغہ فنافی القوم کے درجے کو پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے لفظ ”قوم“ کا مفہوم ہی بدل ڈالا۔ ان سے پہلے قوم سے مراد سید، شیخ، مغل اور پٹھان وغیرہ تھی۔ سر سید احمد خان ؒ نے اسے ”نیشن“ کے ہم معنی بنا دیا اور مسلمانوں میں قومیت کا یہ تصور پیدا کیا۔ اگر ان کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہو گا کہ قصر ِ پاکستان کی بنیاد میں پہلی اینٹ اسی مردِ بزرگ نے ر کھی تھی“۔

ایم ایس جین اپنی کتابThe Aligarh Movementمیں رقم طراز ہیں:”جنوبی ایشیا میں مسلم کردار کے متعلق سر سید احمد خان ؒ کے تصور کی تکمیل قوم پرست رویہ اختیار کرنے سے بھی نہیں ہو سکتی تھی، وہ سب سے بڑھ کر مسلمان تھے اور ایک مسلم نقطہ ¿ نظر بنیادی طور پر ہندوستانی نقطہ ¿ نظر سے مختلف تھا۔ انہوں نے برصغیر میں مسلم مملکت کے قیام کا تصور دیا۔ پاکستانی اس دعوے میں حق بجانب ہیں کہ سر سید احمد خان ؒ پاکستان کے بانیوں میں ایک تھے“۔

فرانس رابنسن لکھتے ہیں:کہ ”انیسویں صدی عیسوی کی چھٹی دہائی کے اواخر میں سر سید احمد خان ؒ نے مسلمانوں کو ایک لباس و مذہبی وحدت سمجھنا اور ان کو اسی طور پر برتنا شروع کر دیا تھا اس کے بعد انہوں نے اس جدوجہد کا یہ مقصد مقرر کیا کہ ہندوستان کے معاملات میں مسلمانوں کو وہی اقتدار و اختیار حاصل ہو جائے، جو ماضی میں ان کے پاس تھا“۔

اشتیاق حسین قریشی اپنی کتابThe Muslim Community in Indo-Pakistan میں تحریر کرتے ہیں:” خاندان شاہ ولی اللہ کی روایت میں تربیت پانے کی وجہ سے وہ اپنے علیحدہ وجود کے استحکام کی کشمکش سے ناواقف نہیں تھے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ہندوﺅں اور مسلمانوں کو الگ الگ وحدتیں تصور کیا۔ جہاں انہوں نے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا، وہاں بھی انہوں نے دو قوموں کا الگ الگ ذکر کیا، جن کی مادی ترقی کے بغیر ملک مجموعی طور پر ترقی نہیں کر سکتا“۔

اے ایچ البیرونی اپنی کتابMaker of Pakistan Modern Muslim India میں اس ولولہ انگیز مسلم رہنما کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” سر سید احمد خان ؒ نے مسلمانوں کے حلقے میں اس بڑے خلاءکو پُر کیا، جو مسلم حکومت کے زوال کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں نمایاں ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کیا۔ ان کی تقریباً پون صدی پر محیط جدوجہد، دور متوسط اور دور جدید کے درمیان ایک پُل کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ مغلوں کے دورِ کامرانی کی باقیات میں سے تھے، بعد ازاں انہوں نے ایک نئے عہد کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے مسلمانوں کو ایک نیا ربط، نیا نظام، نئی نثر اپنے انفرادی و اجتماعی مسائل کی طرف نیا رویہ عطا کیا اور رفتہ رفتہ افراد کا ایک ایسا ادارہ مرتب کیا، جو ان کے بعد ان کے کام کو آگے بڑھاتا۔ اس سے قبل ہر طرف انتشار اور زوال کا منظر تھا۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو متحد کیا اور رفتہ رفتہ افراد کا ایک ایسا ادارہ مرتب کیا، جو ان کے بعد ان کے کام کو آگے بڑھاتا۔ اس سے قبل ہر طرف انتشار اور زوال کا منظر تھا۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو متحد کیا اور اس طرح ہندوستان میں ایک نئی قومیت کے پیامبر ثابت ہوئے“۔

”Syyid Ahmad Khan's Contribution“کے مصنف کا کہنا ہے کہ ”سر سید احمد خان ؒ کی علی گڑھ تحریک پاکستان کا نقطہ ¿ آغاز تھی۔ علی گڑھ تحریک کی روحانی وارث کل ہند مسلم لیگ تھی، جس نے لاہور میں تقسیم کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کی قرارداد منظور کی“۔ Syyid Ahmad Khan' s Doctrines کے مصنف نے تحریر کیا ہے کہ ”یہ امر قابل توجہ ہے کہ انیسویں صدی کے اختتام سے قبل سر سید احمد خان ؒ انہی خیالات کا اظہار فرما رہے تھے، جو 1940ءکے بعد جناح ؒ نے مطالبہ ¿ پاکستان اور دو قومی نظریے کے حوالے سے پیش کئے“۔

ہم سر سید احمد خان ؒ کو اپنا پیر کامل اور مرشد پاک مانتے ہیں۔ تمام تر عقیدت مندی و سپاس گزاری کے باوجود ہم آج کے حالات میں روایتی دو قومی نظریے کو اپنے قومی مسائل کا حل نہیں سمجھتے، لیکن ہمیں اپنے نظریاتی بزرگوں سے یہ شکایت ضرور ہے، جو اٹھتے بیٹھتے دو قومی نظریے کا ورد اپنا قومی فریضہ اور دینی عبادت سمجھ کر کرتے ہیں، لیکن اس حوالے سے کیا یہ اُن کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ تحریک پاکستان کے اولین معمار سر سید احمد خان ؒ کو پاکستان میں وہ مقام دلواتے، اپنی جدوجہد اور خدمات کے حوالے سے جو اُن کا حق بنتا تھا؟

یہاں عام لوگوں کے حوالے سے تو اخبارات کے رنگین ایڈیشن چھاپے جاتے ہیں، لیکن سر سید احمد خان ؒ جیسا عبقری رہنما ایسا لاوارث ہے کہ اس پر ایک کالمی خبر چھاپنا بھی کسی کو یاد نہیں ہوتا۔ تحریک پاکستان کے درجہ دوم اور چہارم کے لیڈروں پر سیمینار منعقد ہوتے ہیں، جن کے نام بھی کوئی نہیں جانتا، ان سے عمارتوں اور سڑکوں کو منسوب کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، جبکہ ہمارے لئے یہ بات باعث حیرت ہے کہ پورے لاہور میں ہم نے کسی ٹاﺅن، سڑک یا ادارے کو اس گوہر نایاب سے منسوب ہوتے نہیں دیکھا۔ اصولی طور پر ہمیں ایسی رسومات سے دلچسپی نہیں۔ سر سید احمد خان ؒ جیسی بلند پایہ شخصیت ایسی نمودو نمائش کی محتاج بھی نہیں ہے، لیکن قومی سطح پر اس کا اصل نقصان یہ ہوا کہ سر سید احمد خان ؒ کی روشن فکر رسا کو ان اسالیب سے ہنوز قوم کے لئے اجنبی بنا کر رکھا گیا ہے۔ آج قوم کی بڑی ضرورت ہے کہ فکر سر سید احمد خان ؒ کو عام ہونے دیا جائے۔

مولانا الطاف حسین حالی ؒ نے انیسویں صدی کے آخری دور میں سر سید احمد خان ؒ کے متعلق تحریر کیا تھا کہ ”اس شخصیت کی بائیو گرافی ایسی چیز نہیں ہے، جس کو لکھنے کا حق ایک آدھ مصنف سے ادا ہو سکے گا.... جس قدر زمانہ گزرتا جائے گا، اُسی قدر سر سید احمد خان ؒ کے کاموں کی قدر اور ان کے حالات و افکار کی زیادہ چھان بین ہوتی جائے گی۔ متعدد لوگ ان کی بائیو گرافی لکھنے کے لئے قلم اٹھائیں گے اور صدیوں تک اس ہیرو کا راگ ہندوستان میں گایا جائے گا“۔ (حیات جاوید)

ہمیں افسوس ہے کہ مولانا الطاف حسین حالی ؒ کی یہ پیش گوئی پوری ہونے کا وقت شاید ہنوز نہیں آیا، شاید ابھی ہم نے بہت سے روایتی گڑھوں اور کھائیوں میں گرنا اور نکلنا ہے اور بالآخر شعور و دانش کی اسی شاہراہ روشن اور صراط مستقیم پر چلنا ہے، جس کی نشاندہی یہ منفرد انائے راز برسوں قبل اپنے سدا بہار افکار میں کر چکا ہے۔    ٭

مزید :

کالم -