بھارت کا پاکستانی تاجروں سے نارواسلوک

بھارت کا پاکستانی تاجروں سے نارواسلوک
بھارت کا پاکستانی تاجروں سے نارواسلوک

  



 نئی دہلی میں ہونے والی عالیشان پاکستان نمائش کے پاکستانی شرکا کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ نمائش میں شرکت کرنے والے 100سے زائد پاکستانی تاجروں کو بھارتی سی آئی ڈی نے ذہنی طور پر یرغمال بنائے رکھا،جنہوں نے تنگ آکر بذریعہ ٹیلیفون پاکستانی میڈیا سے مدد کی اپیل کی....پاکستانی تاجروں کو پولیس رپورٹ سے مشروط ویزا دیا گیا، تاہم نمائش کے پاکستانی منتظمین ، وفاقی وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے نے پاکستانی شرکاءکو بتایا کہ بھارتی حکام نے پولیس رپورٹ کی شرط ختم کردی ہے اور پاکستانی ایگزی بیٹرز کو پولیس رپورٹنگ نہیں کرانی ،لیکن نمائش کے دوسرے روز سے دہلی کی سی آئی ڈی پولیس نے پاکستانی نمائش کنندگان کو ہراساں کرنا شروع کردیا اور ان سے پولیس رپورٹنگ نہ کرانے پر تفتیش شروع کردی۔ اس دوران بھارتی سی آئی ڈی نے انتہائی سخت اور ہتک آمیز رویہ اختیارکیا۔

بھارتی پولیس حکام نے پاکستانی نمائش کنندگان پر واضح کیا کہ انہیں تین روز تک پولیس رپورٹنگ نہ کرنے کی ٹھوس وجہ بیان کرنا ہوگی، بصورت دیگر انہیںبھارت میں مشکوک سرگرمیوں میں ملوث کرکے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نمائش کے منتظمین نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے پاکستانی تاجروںکو پولیس کی کارروائی سے بچانے کے لئے پولیس کو خط لکھ گیا ہے، لیکن یہ بات بھی غلط نکلی اور آخر کار بھارتی سی آئی ڈی نے پاکستانی نمائش کنندگان پرجرمانے عائد کردیئے۔ پاکستانی تاجروں کو بھارتی سی آئی ڈی (کرائم برانچ) کے دفتر میں طلب کرکے ملزموں جیسا سلوک کیا گیا اور ان پر ہزاروں روپے جرمانہ عائد کردیا گیا ۔بھارتی پولیس حکام نے واضح کیا کہ پولیس رپورٹنگ نہ کرنے والے پاکستانی تاجروں کے پاسپورٹ پر سرخ سٹمپ لگادی جائے گی۔ رپورٹ نہ کرانے والے تاجروں کو فضائی یا زمینی راستے سے بھارت چھوڑنے پربھی پابندی ہوگی۔

 پاکستانی نمائش کنندگان نے بتایا کہ عالیشان نمائش انتہائی نامساعد حالات میں منعقد کی گئی، نمائش کے افتتاح سے قبل انتہا پسند ہندو تنظیموں کی دھمکیوں کا سامنا تھا،جبکہ نمائش کے پہلے روز انتہا پسند ہندو نمائش گاہ میں بھی داخل ہوگئے اور پاکستانی ایگزی بیٹرز کو ہراساں کیا۔ پاکستان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیمیں پاکستان کے خلاف بھرپور طریقے سے مہم چلارہی ہیں ،جس میں پاکستان کو دشمن ملک قرار دیتے ہوئے پاکستانی مصنوعات کی بھارت میں تشہیری سرگرمیوں کو بھارت دشمنی قرار دیا گیا، جبکہ بھارت میں پاکستانی نمائشوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ نمائش میں سٹال لگانے والی پاکستانی کمپنیوں کو بھارتی ٹیکس حکام نے بھی ہراساں کیا ۔کسٹم اور سیلز ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے اہلکار ایک ایک سٹال پر جاکر پاکستانی مصنوعات کی مالیت اور فروخت کے بارے میں تفصیلات جمع کرتے رہے۔ نمائش کے لئے اکثر پاکستانی تاجروںکو آخری وقت میں ویزے جاری کئے گئے۔

 پراگتی میدان میں جاری ”عالیشان پاکستان“ کے عنوان سے تجارتی نمائش میں چوروں نے پاکستانی سٹالوں سے قیمتی ڈیزائنر کپڑے چرالئے۔ پاکستانی تاجروں نے کپڑوں کی چوری کی تین ایف آئی آر درج کرائی ہیں۔تاجروں نے ایک مرد اور ایک عورت کو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا۔دوسری جانب بھارتی پولیس کا یہ کہنا ہے کہ نمائش میں کسی قسم کی بدامنی یا چوری چکاری نہیں ہوئی۔ نئی دہلی کے ایڈیشنل کمشنر پولیس، ایس بی ایس تیاگی کے مطابق پولیس کو انڈین ٹریڈ پروموشن آرگنائیزیشن کی جانب سے چوری کے واقعات کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ملی ہے۔

یہ تو ہے بھارت کا حال .... ہمیں معلوم ہے کہ بھارت کسی بھی صورت میں پاکستان کو برداشت نہیں کرسکتا۔ وہ پاکستان کو اپنی مصنوعات کی منڈی بنانا چاہتا ہے تو اپنے ہاں پاکستانی مصنوعات کی نمائش کیوں کرنے دے گا۔ یہ تو ہمارے حکمران بھارت سے دوستی کرنے کے لئے پاگل ہوئے جا رہے ہیں ۔ بھارت کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ ہمارا پانی بند کر کے آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ ہمارے ہاں خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے اور آج کل جس طرح بھارت ورکنگ باو¿نڈری پر گولہ باری کر کے ہمارے شہریوں کو شہید کر رہا ہے ، کیا ان سب کے بعد بھی ہم بھارتی مال کی منڈی بننا چاہتے ہیں۔ کیا بھارت نے ہمیں ہر موقع پر نیچا دکھانے کی نہیں ٹھان رکھی تو پھر ہم وہاں کیوں اپنی نمائشیں کرتے ہیں۔ کیوں اپنی مصنوعات کی تذلیل کراتے ہیں؟ ہمارے حکمرانوں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔

مزید : کالم


loading...