ملتان کا فیصلہ

ملتان کا فیصلہ
ملتان کا فیصلہ

  



ملتان کا انتخابی معرکہ اپنے انجام کو پہنچا۔ جاوید ہاشمی ہار گئے۔ عامر ڈوگر کی جیت ہوئی۔ این۔اے 149میں ہونے والے اس انتخابی اور سیاسی دنگل نے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا اور کئی راستے متعین کیے۔ ثابت ہوا، ہوا کوئی بھی رُخ اختیار کر سکتی ہے۔ ملتان ہی نہیں پورے ملک میں جاوید ہاشمی کی ایک سیاسی ساکھ اور شہرت تھی۔ وہ ایک بے باک، نڈر، دلیر اور صاف گو سیاسی رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اصولوں کی خاطر سات سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ لیکن جابر حکمران (پرویز مشرف) کے سامنے کلمہ¿ حق ہی کہا، نہ جھکے، نہ بِکے۔ لیکن اس کے باوجود ملتان کے عوام نے انہیں این اے 149کی نشست پر مسترد کر دیا۔ حالانکہ حکمران جماعت ن لیگ بھی در پردہ انہیں سپورٹ کر رہی تھی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے عامر ڈوگر اپنی جماعت چھوڑ کر آزاد حیثیت سے الیکشن میں آئے۔ انہیں بھی پاکستان تحریک انصاف کی مکمل تائید و حمایت حاصل تھی۔ عمران خاں اور شاہ محمود قریشی سمیت اُن کے کارکنان عامر ڈوگر کی مکمل سپورٹ کر رہے تھے۔ رزلٹ آنے سے پہلے ہی لوگوں کو گمان ہو گیا تھا کہ ملتان سے متعدد بار جیتنے والے جاوید ہاشمی اس بار میدان میں چِت ہو جائیں گے۔ ملتان میں تحریک انصاف کے بڑے جلسے نے بھی عامر ڈوگر کو جتوانے میں اہم رول ادا کیا جبکہ ن لیگی حکومت کی گذشتہ ڈیڑھ سالہ” کارکردگی“ نے ملتان میں وہ کام کر دکھایاجس کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ جاوید ہاشمی اگرچہ آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے رہے تھے لیکن اُن کی پشت پر ن لیگ پوری طرح کھڑی تھی۔اس طرح ایک طرح سے یہ ن لیگ اور تحریک انصاف کے مابین مقابلہ تھا۔ سیاسی پنڈت بھی اس انتخابی معرکے کو اِسی تناظر میں ہی دیکھ رہے تھے اور جب اس حلقے کے رزلٹ آنا شروع ہوئے تو ابتداءمیں ہی عمران خان کے کارکنوں نے لُڈیاں اور بھنگڑے ڈالنا شروع کر دئیے۔ اس الیکشن نے یہ راز بھی کھولا کہ صرف شخصیات ہی کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ اس کے پیچھے اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ انتخابی مہم، آپ کا سلوگن اور اُس کی عوام میں پذیرائی کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ تحریک انصاف نے ملتان کے جلسے سے لے کر الیکشن مہم کے آخری روز تک جس طرح عامر ڈوگر کی انتخابی مہم چلائی اُس نے ڈوگر کی جیت کو یقینی بنا دیا۔

جاوید ہاشمی کی باغیانہ سوچ نے بھی اُنہیں ہرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ پہلے مسلم لیگ میں تھے۔ بغاوت کر کے تحریک انصاف میں آئے اور اس کے صدر بنے اور پھر اس سے بھی بغاو ت کی اور آزاد پرواز کے لئے ملتان میں داخل ہو گئے۔ شاید لوگوں کو اُن کی سیاست میں بے بہا قربانیوں کے باوجود اُن کا رویہ پسند نہ آیا۔ جس کا اظہار انہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے کر دیا۔کہا یہ جا رہا ہے کہ الیکشن ہارنے کے بعد جاوید ہاشمی کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ یہ نظریہ کسی حد تک درست ہی لگتا ہے کیونکہ سیاست کے لئے کسی بھی جماعت کا پلیٹ فارم ضروری ہوتا ہے لیکن اس وقت جاوید ہاشمی کے پاس کوئی چوائس نہیں۔ وہ ن لیگ میں بھی شامل نہیں ہونا چاہتے۔ لہٰذا گمان غالب یہی ہے کہ وہ تن تنہا اپنے سیاسی کیرئیر کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ اگر وہ سیاسی بقاءچاہتے ہیں تو انہیں کسی بھی سیاسی جماعت میں ضرور شامل ہونا پڑے گا۔ ورنہ اُن کے بارے میں جو پیش گوئی کی جا رہی ہے اور جس قیاس کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ درست ثابت ہو گا۔

ملتان کے فیصلے کے بعد ن لیگ میں سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اگرچہ ن لیگ کے ترجمان ہر لحاظ سے اپنا دفاع کر رہے ہیں لیکن یہ ناکافی ہے۔ سینیٹر ظفر علی شاہ سے جب ایک ٹی وی پروگرام میں یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے جاوید ہاشمی کے بارے میں کہا کہ وہ خود اپنے آپ سے ہارے ہیں۔ یعنی جاوید ہاشمی نے جاوید ہاشمی کو ہرایا ہے اور وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ درحقیقت اس ضمنی الیکشن میں ن لیگ کی ہار ہوئی ہے۔ کیونکہ وہ جاوید ہاشمی کی سپورٹ کر رہی تھی۔ اس کے جواب میں ظفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ اِس الیکشن میں ہمارا کوئی امیدوار نہیں تھا اور پھر یہ ضمنی الیکشن تھا کسی بھی پارٹی کی جیت یا ہار کا فیصلہ جنرل الیکشن میں ہی ہوتا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جلسوں سے بھی کسی مقبولیت یا غیر مقبولیت کو نہ تولا جائے۔ اگر ملتان کے جلسے میں ایک لاکھ لوگ تھے تو عامر ڈوگر کو ایک لاکھ افراد نے تو ووٹ نہیں دیا۔

بہرحال اس معاملے پر جتنی بھی بحث کر لی جائے، کم ہے۔ تاہم تحریک انصاف عامر ڈوگر کی اس جیت پر بہت خوش ہے۔ لیکن یہ بتانے سے بھی قاصر ہے کہ انہوں نے اس حلقے میں اپنا امیدوار کیوں نہیں کھڑا کیا، اُنہیں کس بات کا ڈر تھا۔ شاید یہی کہ اگر جاوید ہاشمی کے مقابلے میں اُن کا جماعتی امیدوار ہار گیا تو اُن کی سیاسی ساکھ کو بہت زیادہ دھچکا لگے گا۔ شاید وہ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے، نا ہونا چاہتے تھے۔ا س لئے انہوں نے عامر ڈوگر کی صورت میں خرگوش والے نشان کے آزاد امیدوار کی حمایت کی۔ا گر ڈوگر ہار جاتے تو اُن کا یہی مو¿قف ہوتا کہ یہ ہمارا امیدوار تو نہیں تھا۔ن لیگ والے یہ بھی کہتے ہیں کہ این اے 149کی سیٹ تحریک انصاف کی تھی، وہ لے گئے۔ اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں، ہار جیت ہوتی رہتی ہے، جنرل الیکشن میں اس کا فیصلہ ہو جائے گا کہ کون کس کے ساتھ ہے۔

اس الیکشن میں یہ بھی ایک نئی روایت قائم ہوئی کہ ہارنے والے امیدوار جاوید ہاشمی نے نہ صرف اپنی ہار کھلے دل سے تسلیم کی بلکہ نہایت فراخدلی سے عامر ڈوگر کو اُن کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ نہ دھاندلی کا شور مچایا، نہ مخالف امیدوار پر کوئی الزامات عائد کیے۔ یہ ایک اچھی روایت ہے جسے آئندہ بھی قائم رہنا چاہیے ، اس سے نہ صرف آئندہ الیکشن کا ماحول بہتر ہو گا بلکہ تلخیاں بھی نہیں بڑھیں گی۔

مزید : کالم


loading...