کیا بھارت اب سیکولر ریاست بھی نہیں رہا؟

کیا بھارت اب سیکولر ریاست بھی نہیں رہا؟
کیا بھارت اب سیکولر ریاست بھی نہیں رہا؟

  

ہم اکثر سیکولر ازم کا لفظ سنتے رہتے ہیں خاص طورپرجب کسی مولوی کی زبان سے یہ لفظ ادا کیا جاتا ہے تو اس کے معنی انتہائی خوف ناک ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ایک عام آدمی سیکولر ازم کا نام سنتے ہی اسے مسلم کش یا اسلام مخالف کوئی چیز سمجھتا ہے اس طرز عمل کے پیچھے کسی مخصوص ذہن کی سیکولر ازم کے بارے میں کی گئی غلط تعبیر ہو سکتی ہے جبکہ اگر آپ کبھی کسی معیاری لغت یا ڈکشنری میں لفظ سیکولرازم کے معنی تلاش کریں تو ماسوائے اس کے اور کچھ نہیں نکلیں گے کہ لفظ سیکولر کا مطلب دنیاوی، مادی، غیر مذہبی یا غیر روحانی ہے تو ثابت ہوا کہ لغت میں سیکولر کے اصل معنی انگریزی الفاظ Religious یا Spirtualکے برعکس ہیں ہاں یہ بحث الگ ہے کہ سیکولرازم کا آغاز کب اور کیسے ہوا لہٰذا انگریزی لفظ سیکولر لغوی اعتبار سے تو کوئی بری چیز نہیں۔

جہاں تک میری ناقص رائے کا تعلق ہے تو میری دانست میں سیکولر سٹیٹ ایک ایسی ریاست کو کہتے ہیں جس میںمذاہب عالم میں سے کسی بھی مذہب کو اس ریاست کے سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل نہیں ہوتی لیکن اس سے قطعاً یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ اس ریاست میں بسنے والی قوموں کا اپنا کوئی مذہب نہیںہوتا یا اس ریاست میں لادین قومیں بستی ہیں ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺنے بذات خود مادی اور روحانی ہر دو سطح پر ہماری تعلیم فرمائی ہے، آنحضرت نے جہاں بندے اور خدا کے مابین نسبت قائم کرنے کے سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائی وہاں حقوق العباد، شادی بیاہ، سیاست اور جائیداد کی خرید و فروخت کے معاملات پر بھی ہمیں تعلیم دی دنیاوی اور مادی معاملات میںکسی سیکولر سٹیٹ کا صرف سرکاری طور پر کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن اس میں بسنے والی قوم جو اکثریت میں ہو اسی قوم کا مذہب وہاں غالب حیثیت رکھتا لیکن سرکاری سطح پر اسے پذیرائی حاصل نہیں ہوتی اور ان ریاستوں میں بسنے والی جملہ مذہبی اقلیتوں کو ان کے حقوق کی نگہبانی کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے ہر قوم کے لئے علیحدہ عدالتیں قائم ہوتی ہیں جہاں پر اقلیتوں کے فیصلے ان کے پرسنل لاءکے مطابق کئے جاتے ہیں مثلاً شادی، طلاق، تقسیم جائیداد، و وراثت کی تقسیم وغیرہ کے معاملات کا فیصلہ ان کے اپنے مذہبی قوانین کے مطابق کیا جاتا ہے۔

ہم برسوں سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت ایک سیکولر ریاست ہے اور خود بھارت نے بھی عالمی سطح پر ہمیشہ خود کو سیکولر ریاست بنا کر پیش کرنے میںہی فخر محسوس کیا ہے لیکن گجرات کے مسلمانوں کے ساتھ ناروا بھارتی سلوک اور مذہبی تنظیم شیوسینا کے طرز عمل سے پہلے بھی دنیا میں بھارت کی سیکولر حیثیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی لیکن چند ماہ قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوتے ہی پاکستان کے بارے میں جو بیانات دیئے  ہیں ان سے بھارتی جنتا پارٹی اور ان کے اپنے ارادے اور طرز عمل کا اظہار ہوتا ہے اس صورت حال سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ آگے چل کر ہمارے ملک کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کرنے والے ہیں۔

 نریندر مودی ایک سیکولر ریاست کے وزیر اعظم ہیں لیکن ان کا سیکولر ازم کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرنا حیرت ناک ہے حقیقت تو یہ ہے کہ بھارتی بنیاد پرست ذہنیت رکھنے والے لوگ اب سیکولرازم کے مد مقابل بھارت میںکسی نئے نظام کو پروان چڑھا رہے ہیں اور انہوں نے سیکولرازم کو اب مسلم انتہا پسندی کے مقابل لا کھڑا کیا ہے کیونکہ اب بھارت میں جو بھی سیکولرازم کی بات کرتا ہے اسے مسلمانوں کا طرف دار قرار دے دیا جاتا ہے بلکہ اب توسیکولرازم کے ماننے والوں کو مسلمانوں کا ہم نوا قرار دے کر بھارت میں فرقہ واریت کو بھی ہوا دی جا رہی ہے ہندو قوم پرست ہندو ازم کو بچانے کی آڑ میں لوگوں کے بنیادی حقوق کو بھی داﺅ پر لگا رہے ہیں اور اب بھارت کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ جو شخص بنیادی حقوق کی بات کرتا ہے اس کے خلاف انتہا پسند ہندو پنڈت انتہا پسند ہونے کا فتویٰ صادر کر دیتے ہیں۔

 بھارت کو سیکولرازم سے ہندو معاشرے میں تبدیل کر نے کا یہ عمل پی جے پی نے نہیں بلکہ خود سیکولر الزم کی سب سے بڑی دعویدار سیاسی جماعت کانگریس نے ہی شروع کیا تھا جس میں وقت کے ساتھ اب شدت آ گئی ہے یہاں تک کہ ملک بھر میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے پر بھی کانگریس سراپا احتجاج نہیں ہوئی اور یوں کانگریس نے خود ہی بھارت میں قوم پرستانہ نظام رائج کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ بھارت کے سنگھ پریوار نے اقلیتوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں سکھ مت، جین مت اور بدھ مت کو عیسائی اور مسلم برادری سے جدا کرکے ہندو برادری کا حصہ قرار دیا ہے ان کے بقول اول الذکر تینوں قومیں چونکہ ہندوستان کی پیداوار ہیں لہٰذا یہ ان کا حصہ ہیں جبکہ موخر الذکر دونوں قومیں چونکہ انڈیا میں باہر سے وارد ہوئی ہیں لہٰذا ان کے حقوق کی پاسداری ان کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہئے۔ اور انہیں بھارتی باشندے قرار نہیں دینا چاہئے اور اب تو ویسے ہی ہندوستان پر ایک ایسی سیاسی پارٹی برسر اقتدار آ چکی ہے جس کی وجہ شہرت ہی مسلمان دشمنی اور قوم پرستی ہے اور اس بار بھارت میں ہوئے عام انتخابات میں پہلی بار بھارت میں ایک ایسا شخص برسر اقتدار آیا ہے جس کی سرشت میں ہی مسلم دشمنی ہے اور جو گجرات میں مسلمانوں پر ظلم کرنے کے باعث شہرت پا چکا ہے اور جسے کانگریس کی طرح پاکستان کو جھوٹ موٹ بھی خوش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ نریندر مودی تو ایک ایسے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جو اسے نسل در نسل متنقل ہوا ہے۔

 نریندر مودی کی جارحیت کی ایک تازہ مثال بھارت کی طرف سے ہونے والی لائن آف کنٹرول کی حالیہ خلاف ورزی سے ملتی ہے یہ جارحیت پچھلے کئی دنوں سے جاری ہے اور جس میں درجن سے زائد پاکستانی سرحدی باشندے نہ صرف جان کی بازی ہار چکے ہیں بلکہ ان کے مال مویشی بھی اس بربریت کی نذر ہو چکے ہیں یقیناً اس جارحیت کے پس پردہ بھارت اپنے مخصوص مقاصد کو حاصل کرے گا لیکن اس سے پاک بھارت تعلقات بہتر ہونے کی بجائے مزید کشیدہ ہو جائیں گے۔ نریندر مودی کے برسر اقتدار آتے ہی سرحدی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے حالانکہ لائن آف کنٹرول پر چھوٹی موٹی نوک جھونک تو ہوتی ہی رہتی تھی لیکن بھارتی جارحیت کا اس قدر طول پکڑ جانا معنی خیز ہے ،نریندرمودی نے بھارتی آبادی کے بل بوتے پر امریکہ جیسے ملک کو بھی اپنا ہم خیال بننے پر مجبور کر دیا ہے اور اب امریکہ بھی پاکستانی سرحدوں پر ہونے والی بھارتی جارحیت کو حق بجانب سمجھتا ہے۔ مذکورہ بالا حالات میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ عالمی سطح پر سیکولر ازم ریاست کا سب سے بڑا دعویدار بھارت جہاں پہلے ہی نام نہاد سیکولر ازم رائج تھا اب ایک قوم پرست وزیر اعظم کے برسر اقتدار آنے سے انتہا پسندی کی مزید منزلیں طے کرے گا اور ہم جو بحیثیت مسلمان پہلے اس کے سیکولر ہونے پر تنقید کرتے آئے ہیں اب اسے نسلی انتہا پسندی کی طرف تیزی سے بڑھتا دیکھ کر کف ِافسوس ملیں گے اور ہمیں یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں ہوگا کہ کیا اب بھارت ایک سیکولر ریاست بھی نہیں رہا؟

مزید :

کالم -