اصل دھرنا کوئی اور دے گا

اصل دھرنا کوئی اور دے گا
اصل دھرنا کوئی اور دے گا

  



ناکام دھرنوں کی طرح بڑے جلسے بھی غیرموثر رہیں گے؟ ملتان میں ضمنی الیکشن کے نتائج سے تو یہی آشکار ہے۔ مئی 2013ءکے عام انتخابات والا ووٹنگ ٹرینڈ اب بھی برقرار ہے۔ اس بار بھی تحریک انصاف نے ہی کامیابی حاصل کی۔ جاوید ہاشمی حکمران مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود ہار گئے۔ جیتنے والے عامر ڈوگر نے 52ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے تو ہاشمی کو 38ہزار سے زائد ووٹ ملے۔ پیپلزپارٹی کا امیدوار محض 6ہزار ووٹ حاصل کر سکا۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹرن آﺅٹ کم رہا جو ضمنی انتخابات کا خاصہ سمجھا جاتا ہے۔ جعلی دانشوروں اور کوڑھ مغز تجزیہ کاروں کی ٹاں ٹاں اپنی جگہ ،لیکن حقیقت محض اتنی ہے کہ تاحال تحریک انصاف کو عوام میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہو سکی ہے نہ ہی عوام کی بڑی تعداد مڈٹرم انتخابات کی حامی ہے۔ ضمنی الیکشن کے نتائج صرف دو ہی صورتوں میں الارمنگ ہو سکتے تھے، اول: تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کا فرق نصف یا اس سے زیادہ ہوتا۔ دوم اس ضمنی الیکشن میں بھرپور ٹرن آﺅٹ دیکھنے میں آتا۔ عمران خان اور طاہرالقادری نے طویل عرصہ سے ملک بھر میں سیاسی اودھم مچا رکھا ہے۔ اس کے باوجود ضمنی الیکشن میں روایتی کارکردگی ان دونوں کے لئے بذات خود سوالیہ نشان ہے۔ تحریک انصاف سے بغاوت کرنے والے جاویدہاشمی ہار گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کوئی دوسرا امیدوار الیکشن لڑتا تو شاید اسی انجام سے دوچار ہو جاتا کیونکہ فی الوقت یہ حلقہ ہی تحریک انصاف کا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ لیگی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ لوگ حکومت مخالف جلسے،جلوسوں میں شرکت کر کے اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ عوامی توقعات پر پورا نہ اترنے والی لیگی حکومت کو اپنے دور اقتدار کے تقریباً سوا سال بعد اسی صورت حال کا سامنا ہونا قطعاً حیران کن نہیں۔ ہمارے پڑوس میں وزیراعظم نریندرمودی کی انتہائی مقبول حکومت کو محض جمعہ جمعہ آٹھ دن بعد ہی عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارت میں ضمنی انتخابات میں عوام نے حکمران بی جے پی کے امیدواروں کو یکسر مسترد کر ڈالا جس پر خود بھارتی وزیراعظم بھی ششدر رہ گئے۔ ملتان کے ضمنی الیکشن کا نتیجہ لیگی حکومت کے لئے بھی ایک واضح سگنل ضرور ہے کہ اگر دھرنوں اور جلسے،جلوسوں نے تحریک انصاف کی عوامی حمایت میں بہت زیادہ اضافہ نہیں کیا تو اس میں کوئی خاص کمی بھی واقع نہیں ہوئی۔

جاویدہاشمی کی شکست پر تحریک انصاف کے رہنماﺅں نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ بہر طور پر یہ ان کا حق بنتا تھا کہ اپنی پارٹی کے باغی کو سزا دیں۔ یہ جاوید ہاشمی ہی تھے، جن کے انکشافات کے بعد دھرنوں کا معاملہ اور اس کے پس پردہ عناصر کے بارے میں نئی بحث شروع ہو گئی تھی۔ عمران خان،شاہ محمود قریشی وغیرہ اس صورت حال پر تلملا اٹھے تھے۔ داغی،داغی کے نعرے لگائے گئے۔ اندر کی باتیں طشت از بام کرنے پر جاویدہاشمی ایک رات میں تحریک انصاف کے لئے ہیرو سے ولن کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ دوسری جانب حالات کا دباﺅ خود عمران خان کو اس مقام پر لے آیا کہ وہ صفائیاں دیتے نظر آئے کہ ان کے احتجاجی منصوبوں کو نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی حاصل نہیں۔ کھرے سیاستدان جاویدہاشمی کے دعوﺅں کو جھٹلانا ،مگر اتنا آسان نہیں۔ کوئی چیک نہ ہونے کے باعث بسااوقات سوشل میڈیا پر غیراخلاقی مواد بھی سامنے آ جاتا ہے اس کے باوجود اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ بعض معلومات اور تبصرے تو انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں۔ نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی حاصل نہ ہونے سے متعلق عمران خان کا بیان سامنے آنے پر فیس بک پر ایک دلچسپ تصویری خاکہ پوسٹ کیا گیا۔ عمران خان کھڑے ہو کر اعلان کر رہے ہیں کہ انہوں نے کسی فوجی گملے میں نشوونما نہیں پائی ساتھ ہی پرویزمشرف اور شجاع پاشا باوردی کھڑے دکھائے گئے ہیں۔ دونوں نے اپنی وردیاں بے تحاشا میڈلز سے سجا رکھی ہیں۔ عمران خان کے اظہار لاتعلقی پر دونوں زچ ہو کر یہ کہتے دکھائے گئے ہیں، کپتان صاحب! آنکھیں کھول کر دیکھیں ہم آپ کو بینڈماسٹر نظر آتے ہیں کیا؟

مشرف اور عمران کی پرانی محبتیں تو ایک کھلی کتاب کی مانند ہیں۔ اختلافات بھی پیدا ہوئے، لیکن ایک بار پھر اب دونوں ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ نادیدہ قوتوں سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اگر شجاع پاشا کا معاملہ گول کرنا مقصود ہے تو یہ مقصد بھی پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ تحریک انصاف کے لئے شجاع پاشا کی کارگزاریوں کے سب سے پہلے شکایتی چودھری شجاعت اور چودھری پرویزالٰہی تھے۔ ق لیگ کے قیام کا مقصد پورا ہونے کے بعد تخلیق کاروں نے تحریک انصاف کو بڑی جماعت بنانے کی منصوبہ بندی کی تو بندے توڑ کر بھجوانا شروع کر دیئے۔ چودھری برادران نے اپنا نشیمن اجڑتے دیکھا تو ہاہاکار مچاتے جنرل کیانی کے در پر جا پہنچے۔ بعد میں جو ہوا سب کے سامنے ہے۔ شجاع پاشا نے ریٹائر ہو کر بھی تحریک انصاف کی رہنمائی جاری رکھی۔ ان کا یہ بھانڈا اس وقت پھوٹا جب شفقت محمود کے گھر پر ان کی سیاسی سرگرمیوں کی خبریں میڈیا میں آئیں۔ صرف پاشا ہی نہیں ریٹائرڈ افسران کا پورا ٹولہ متحرک نظر آیا۔ حکمران شخصیات کے بارے میں مختلف حساس دستاویزات منظرعام پر آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو اہل نظر یہ بھی جان گئے کہ اس کھیل کے پیچھے صرف ریٹائرڈ افسران ہی نہیں....

جاوید ہاشمی نے دھرنے سے پہلے اور دھرنے کے دوران کنٹینر اور دیگر مقامات پر ہونے والی جن باتوں کو خوفناک منصوبہ قرار دے کر تحریک انصاف سے بغاوت کی وہ پہلے ہی سے کئی افراد کے علم میں تھیں۔ جاویدہاشمی کی پریس کانفرنس سے صرف ایک اضافی توثیقی مہر لگی۔ جاویدہاشمی ہی کیا حالیہ بحران کے حوالے سے جنرل اسلم بیگ نے جو سنسنی خیز انکشافات کیے ان سے بھی بعض ثقہ صحافیوں سمیت کئی شخصیات پوری طرح سے آگاہ تھیں۔ حکومت، بلکہ ریاست مخالف یہ منصوبہ اپنے حجم کے اعتبار سے کچھ زیادہ ہی بڑا تھا۔ سکرپٹ رائٹر گو کہ ملک کے اندر موجود تھا، لیکن برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے تعاون سے چار دوسرے ملک بھی معاملے میں پوری طرح ملوث تھے۔ سارا کھیل اجتماعی طور پر کھیلا گیا ،لیکن ہر ایک کا ارادہ دوسرے سے مختلف تھا۔ ملکی سلامتی سے منسلک انتہائی سینئر افراد کا آج بھی یہی موقف ہے کہ سیاسی بحران کو پرتشدد کارروائیوں میں تبدیل کر کے جو سب سے بڑا ٹارگٹ حاصل کیا جانا مقصود تھا وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو غیرملکی تحویل میں لینے کا تھا۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے حکومت کے خاتمے،قتل و غارت،ریاستی اداروں کی پامالی سمیت جتنے بھی واقعات پیش آتے انہیں محض اصل ”منزل‘،کے حصول کے لئے سیڑھیوں کے طور پر بھی لیا جانا تھا۔ سیاسی بحران آج بھی جاری ہے ،لیکن اب یہ امکانات بڑھ رہے ہیں کہ سکرپٹ رائٹر کی طرح اس کے غیرملکی معاونین اور سرپرست بھی ناکام ہوں گے۔

نوازشریف حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا منصوبہ مئی 2013ءکے عام انتخابات سے قبل ہی بنا لیا گیا تھا۔ شیخ رشید کا عمران خان سے انتخابی اتحاد سکرپٹ رائٹر کی ہدایت کے باعث ہی ممکن ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے لیگی حکومت کو گرانے کے لئے کوئی اور ٹائم فریم طے کیا ہو، لیکن الیکشن میں منظم دھاندلی سمیت پروپیگنڈا کی صورت میں کئی الزامات عائد کرنے کا سلسلہ حکومت سازی کے فوری بعد شروع کر دیا گیا تھا۔ کئی اینکروں،کالم نگاروں، بلکہ پورے کے پورے میڈیا ہاﺅسز کو ساتھ ملا لیا گیا۔ لاپتہ افراد کے مقدمات کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر بہت زیادہ غصہ تھا۔ سو یہ بات پھیلائی گئی کہ دھاندلی ریٹرننگ افسروں کے ذریعے کرائی گئی جس کے ذمہ دار سابق چیف جسٹس ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس حوالے سے کوئی ایک ثبوت بھی آج تک سامنے نہیں آ سکا۔ پھر یہ معاملہ اچھالا گیا کہ ووٹوں کے بیگ پھٹے ہوئے تھے۔ شاید ایسا ہوا بھی ہو ،لیکن لیگی رہنماﺅں کے اس خدشے کو یکسر جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ اسٹیبلشمنٹ کے بعض عناصر نے اپنے ”لامحدود‘،اختیارات استعمال کرتے ہوئے سٹوروں میں پڑے ووٹوں کے تھیلوں کو خود چیرپھاڑ دیا ہو، تاکہ سارا انتخابی عمل ہی مشکوک بنایا جا سکے۔ کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ 11مئی کو پولنگ کے وقت تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں نے خود موقع پر کھڑے ہو کر گنتی کرائی۔ رزلٹ شیٹوں پر دستخط بھی ثبت کئے۔ اس روز تو کوئی بڑی بے قاعدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بعد میں ایسا کیا ہو گیا؟ کہ ہر کسی کو دھاندلی،دھاندلی کی گردان پر لگا دیا گیا۔ ان حالات میں بھی ایک موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے بنی گالہ میں عمران خان سے ان کے گھر جا کر ملاقات کی تو ماحول نہایت خوشگوار تھا۔ عمران خان نے طالبان ایشو سمیت کئی معاملات پر حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنی رہائش گاہ کے قریب واقع پارک کے حوالے سے ایک مسئلہ ذاتی طور پر بھی پیش کیا۔ وزیراعظم نے حل کرنے کے احکامات موقع پر ہی صادر کر دیئے۔ اس وقت ایسے لگ رہا تھا کہ ملک میں وسیع تر سیاسی ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے۔

19اپریل کو حامدمیر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد کی پیشرفت نے گویا منظر ہی بدل ڈالا۔ سکرپٹ رائٹر غضبناک ہو گیا۔ حکومت مخالف جماعتوں کو لندن پلان بنانے کا حکم ملا تو جلدی جلدی سب جمع ہو گئے۔ طاہرالقادری کی پاکستان آمد اور احتجاج کا اعلان ہوا تو عمران خان نے بھی لانگ مارچ کی دھمکی دیدی۔ احتجاج سے آغاز سے پہلے ہی دونوں نے الگ الگ نظر آنے کی کوشش کی، مگر سکرپٹ رائٹر کی مسلسل پیروی نے 14اگست سے پہلے ہی ثابت کر دیا کہ دونوں ایک ہیں۔ اسلام آباد میں دھرنے کے دوران پارلیمنٹ ہاﺅس،وزیراعظم ہاﺅس،پی ٹی وی وغیرہ پر حملے کی ہدایات سکرپٹ رائٹر نے ہی دی تھیں۔ نوازشریف حکومت کو ہٹانے کے لئے ،مگر لاشوں کی ضرورت تھی۔ رائٹر کو اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ لاشیں مظاہرین کی ہوں یا پھر کسی ریاستی عمارت میں موجود افراد کی۔ ایک مرحلے پر یوں دکھائی دے رہا تھا کہ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں کسی اہم حکومتی شخصیت کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دھرنوں کا زور ٹوٹنے کے بعد جلسوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ”گونوازگو‘،کا نعرہ بھی سکرپٹ رائٹر کی ہی اختراع ہے کہ لیگی کارکن کسی موقع پر مشتعل ہو کر نعرے لگانے والوں پر پل پڑیں۔ بات اتنی آگے بڑھے کہ لاشوں کے حصول کا نصب العین پورا ہو جائے۔ حکومتی شخصیات ہی نہیں حساس اداروں میں موجود کئی اہم افراد بھی صورت حال سے پوری طرح باخبر ہیں۔ خود کو محاذآرائی کی پیداوار قرار دینے والے نوازشریف اپنے مزاج کے بالکل برعکس صبرکرتے نظر آ رہے ہیں۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی کھلی کھلی قانون شکنی پر مبنی اقدامات کے باوجود ایکشن نہیں لیا جا رہا۔ یہ کمزوری ہے یا حکمت عملی،صحیح اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ہی لگایا جا سکے گا۔

سیاسی بحران میں ملوث عالمی کھلاڑی بدستور چالیں چلتے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان میں غیریقینی صورت حال پیدا کرنے کی کامیاب کوششوں کے دوران پشاور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں داعش کا ظہور کس بات کی علامت ہے؟ ابھی تو یہ کہا جا رہا ہے کہ طالبان میں ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ قیدیوں کو چھڑانے کے لئے جیل کے اندر تک سرنگیں کھودنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایک سازش تو خوش قسمتی سے پکڑی گئی ،لیکن سرنگیں کھودنے کا یہ سلسلہ پورے ملک کو کس قدر غیرمحفوظ بنا سکتا ہے اس کا تصور کر کے لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب بھی جاری ہے ،لیکن دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہو ہی جاتا ہے۔ بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سرحدیں تو پہلے ہی گولہ باری کی زد میں تھیں، اب ایران نے بھی بلااشتعال فائرنگ کر دی۔ چین سے تعلقات بڑھانے کی ہر کوشش سازش میں شریک عالمی کھلاڑیوں کو مزید مشتعل کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں بھی عمران خان بڑے بڑے جلسے کر کے وزیراعظم نوازشریف کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں (تحریک انصاف کے جلسے بڑے ہونا فطری امر ہے۔ اس کی وجہ صرف حکومت کی ناقص کارکردگی ہی نہیں ،بلکہ وہ ”لوازمات‘،بھی ہیں جو میوزک کنسرٹ کے دوران پیش کیے جاتے ہیں۔ ہر جگہ بلکہ دوسرے شہروں تک پہنچنے کے لئے وسائل کی بہتات،فیشن ایبل خواتین و حضرات کی شرکت،ایسے میں ان جلسوں کو چارچاند کیوں نہ لگیں؟)

سب پوچھ رہے ہیں کہ آگے کیا ہو گا؟ وزیراعظم نوازشریف کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مخالفین کو جواب دینے کے لئے اپنے پتے فی الحال اوپن نہیں کئے،مسلم لیگ (ن) کو بعض مذہبی جماعتوں سمیت کئی سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ عمران خان اور ہمنوا تلے بیٹھے ہیں کہ استعفیٰ لئے بغیر نہیں جائیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عبوری حکومت بنا کر 500 افراد (موجودہ پارلیمنٹ کے تمام ارکان) کو نااہل قرار دے کر الیکشن کرائے جائیں۔ گویا ”سونی گلیوں میں مرزا یار اکیلے پھرے“۔ یہ خواہش تو ہو سکتی ہے ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ پھر کیا ہو گا؟ ہو سکتا ہے کہ کسی مرحلے پر لاشوں کے حصول کا جنون معاملے کو پھر تصادم کی جانب لے جائے۔ اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو۔ ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں حکومت ختم ہوئی تو قادری تو بہت دور کی بات عمران خان کو بھی کچھ نہیں ملے گا۔ حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قادری اور عمران کی احتجاجی مہم سے بعض مذہبی حلقوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ دونوں کو استعمال کر کے شدت پسندی کے سانڈ کو سرخ کپڑا دکھایا جا رہا ہو؟

سیاسی کہانی نے خونیں موڑ لیا تو پھر ایک اور دھرنا ہو گا۔ شرکاءسچ میں لاکھوں ہوں گے۔ یہ دھرنا فیصلہ کن ثابت ہو گا۔ اسے روکنا ریاستی اداروں کی انتظامی ہی نہیں، بلکہ سیکیورٹی اداروں کی حربی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہو گا۔ وہ دھرنا ہی اصل اور فیصلہ کن دھرنا ہو گا کیونکہ عالمی سٹیک ہولڈروں کو وہی سوٹ کرتا ہے۔

اصل دھرنا کوئی اور دے گا

ناکام دھرنوں کی طرح بڑے جلسے بھی غیرمو¿ثر رہیں گے؟ ملتان میں ضمنی الیکشن کے نتائج سے تو یہی آشکار ہے۔ مئی 2013ءکے عام انتخابات والا ووٹنگ ٹرینڈ اب بھی برقرار ہے۔ اس بار بھی تحریک انصاف نے ہی کامیابی حاصل کی۔ جاوید ہاشمی حکمران مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود ہار گئے۔ جیتنے والے عامر ڈوگر نے 52ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے تو ہاشمی کو 38ہزار سے زائد ووٹ ملے۔ پیپلزپارٹی کا امیدوار محض 6ہزار ووٹ حاصل کر سکا۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹرن آﺅٹ کم رہا جو ضمنی انتخابات کا خاصہ سمجھا جاتا ہے۔ جعلی دانشوروں اور کوڑھ مغز تجزیہ کاروں کی ٹاں ٹاں اپنی جگہ ،لیکن حقیقت محض اتنی ہے کہ تاحال تحریک انصاف کو عوام میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہو سکی ہے نہ ہی عوام کی بڑی تعداد مڈٹرم انتخابات کی حامی ہے۔ ضمنی الیکشن کے نتائج صرف دو ہی صورتوں میں الارمنگ ہو سکتے تھے، اول: تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں کا فرق نصف یا اس سے زیادہ ہوتا۔ دوم اس ضمنی الیکشن میں بھرپور ٹرن آﺅٹ دیکھنے میں آتا۔ عمران خان اور طاہرالقادری نے طویل عرصہ سے ملک بھر میں سیاسی اودھم مچا رکھا ہے۔ اس کے باوجود ضمنی الیکشن میں روایتی کارکردگی ان دونوں کے لئے بذات خود سوالیہ نشان ہے۔ تحریک انصاف سے بغاوت کرنے والے جاویدہاشمی ہار گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کوئی دوسرا امیدوار الیکشن لڑتا تو شاید اسی انجام سے دوچار ہو جاتا کیونکہ فی الوقت یہ حلقہ ہی تحریک انصاف کا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ لیگی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ لوگ حکومت مخالف جلسے،جلوسوں میں شرکت کر کے اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ عوامی توقعات پر پورا نہ اترنے والی لیگی حکومت کو اپنے دور اقتدار کے تقریباً سوا سال بعد اسی صورت حال کا سامنا ہونا قطعاً حیران کن نہیں۔ ہمارے پڑوس میں وزیراعظم نریندرمودی کی انتہائی مقبول حکومت کو محض جمعہ جمعہ آٹھ دن بعد ہی عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارت میں ضمنی انتخابات میں عوام نے حکمران بی جے پی کے امیدواروں کو یکسر مسترد کر ڈالا جس پر خود بھارتی وزیراعظم بھی ششدر رہ گئے۔ ملتان کے ضمنی الیکشن کا نتیجہ لیگی حکومت کے لئے بھی ایک واضح سگنل ضرور ہے کہ اگر دھرنوں اور جلسے،جلوسوں نے تحریک انصاف کی عوامی حمایت میں بہت زیادہ اضافہ نہیں کیا تو اس میں کوئی خاص کمی بھی واقع نہیں ہوئی۔

جاویدہاشمی کی شکست پر تحریک انصاف کے رہنماﺅں نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ بہر طور پر یہ ان کا حق بنتا تھا کہ اپنی پارٹی کے باغی کو سزا دیں۔ یہ جاوید ہاشمی ہی تھے، جن کے انکشافات کے بعد دھرنوں کا معاملہ اور اس کے پس پردہ عناصر کے بارے میں نئی بحث شروع ہو گئی تھی۔ عمران خان،شاہ محمود قریشی وغیرہ اس صورت حال پر تلملا اٹھے تھے۔ داغی،داغی کے نعرے لگائے گئے۔ اندر کی باتیں طشت از بام کرنے پر جاویدہاشمی ایک رات میں تحریک انصاف کے لئے ہیرو سے ولن کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ دوسری جانب حالات کا دباﺅ خود عمران خان کو اس مقام پر لے آیا کہ وہ صفائیاں دیتے نظر آئے کہ ان کے احتجاجی منصوبوں کو نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی حاصل نہیں۔ کھرے سیاستدان جاویدہاشمی کے دعوﺅں کو جھٹلانا ،مگر اتنا آسان نہیں۔ کوئی چیک نہ ہونے کے باعث بسااوقات سوشل میڈیا پر غیراخلاقی مواد بھی سامنے آ جاتا ہے اس کے باوجود اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ بعض معلومات اور تبصرے تو انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں۔ نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی حاصل نہ ہونے سے متعلق عمران خان کا بیان سامنے آنے پر فیس بک پر ایک دلچسپ تصویری خاکہ پوسٹ کیا گیا۔ عمران خان کھڑے ہو کر اعلان کر رہے ہیں کہ انہوں نے کسی فوجی گملے میں نشوونما نہیں پائی ساتھ ہی پرویزمشرف اور شجاع پاشا باوردی کھڑے دکھائے گئے ہیں۔ دونوں نے اپنی وردیاں بے تحاشا میڈلز سے سجا رکھی ہیں۔ عمران خان کے اظہار لاتعلقی پر دونوں زچ ہو کر یہ کہتے دکھائے گئے ہیں، کپتان صاحب! آنکھیں کھول کر دیکھیں ہم آپ کو بینڈماسٹر نظر آتے ہیں کیا؟

مشرف اور عمران کی پرانی محبتیں تو ایک کھلی کتاب کی مانند ہیں۔ اختلافات بھی پیدا ہوئے، لیکن ایک بار پھر اب دونوں ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ نادیدہ قوتوں سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اگر شجاع پاشا کا معاملہ گول کرنا مقصود ہے تو یہ مقصد بھی پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ تحریک انصاف کے لئے شجاع پاشا کی کارگزاریوں کے سب سے پہلے شکایتی چودھری شجاعت اور چودھری پرویزالٰہی تھے۔ ق لیگ کے قیام کا مقصد پورا ہونے کے بعد تخلیق کاروں نے تحریک انصاف کو بڑی جماعت بنانے کی منصوبہ بندی کی تو بندے توڑ کر بھجوانا شروع کر دیئے۔ چودھری برادران نے اپنا نشیمن اجڑتے دیکھا تو ہاہاکار مچاتے جنرل کیانی کے در پر جا پہنچے۔ بعد میں جو ہوا سب کے سامنے ہے۔ شجاع پاشا نے ریٹائر ہو کر بھی تحریک انصاف کی رہنمائی جاری رکھی۔ ان کا یہ بھانڈا اس وقت پھوٹا جب شفقت محمود کے گھر پر ان کی سیاسی سرگرمیوں کی خبریں میڈیا میں آئیں۔ صرف پاشا ہی نہیں ریٹائرڈ افسران کا پورا ٹولہ متحرک نظر آیا۔ حکمران شخصیات کے بارے میں مختلف حساس دستاویزات منظرعام پر آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو اہل نظر یہ بھی جان گئے کہ اس کھیل کے پیچھے صرف ریٹائرڈ افسران ہی نہیں....

جاوید ہاشمی نے دھرنے سے پہلے اور دھرنے کے دوران کنٹینر اور دیگر مقامات پر ہونے والی جن باتوں کو خوفناک منصوبہ قرار دے کر تحریک انصاف سے بغاوت کی وہ پہلے ہی سے کئی افراد کے علم میں تھیں۔ جاویدہاشمی کی پریس کانفرنس سے صرف ایک اضافی توثیقی مہر لگی۔ جاویدہاشمی ہی کیا حالیہ بحران کے حوالے سے جنرل اسلم بیگ نے جو سنسنی خیز انکشافات کیے ان سے بھی بعض ثقہ صحافیوں سمیت کئی شخصیات پوری طرح سے آگاہ تھیں۔ حکومت، بلکہ ریاست مخالف یہ منصوبہ اپنے حجم کے اعتبار سے کچھ زیادہ ہی بڑا تھا۔ سکرپٹ رائٹر گو کہ ملک کے اندر موجود تھا، لیکن برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے تعاون سے چار دوسرے ملک بھی معاملے میں پوری طرح ملوث تھے۔ سارا کھیل اجتماعی طور پر کھیلا گیا ،لیکن ہر ایک کا ارادہ دوسرے سے مختلف تھا۔ ملکی سلامتی سے منسلک انتہائی سینئر افراد کا آج بھی یہی موقف ہے کہ سیاسی بحران کو پرتشدد کارروائیوں میں تبدیل کر کے جو سب سے بڑا ٹارگٹ حاصل کیا جانا مقصود تھا وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو غیرملکی تحویل میں لینے کا تھا۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے حکومت کے خاتمے،قتل و غارت،ریاستی اداروں کی پامالی سمیت جتنے بھی واقعات پیش آتے انہیں محض اصل ”منزل‘،کے حصول کے لئے سیڑھیوں کے طور پر بھی لیا جانا تھا۔ سیاسی بحران آج بھی جاری ہے ،لیکن اب یہ امکانات بڑھ رہے ہیں کہ سکرپٹ رائٹر کی طرح اس کے غیرملکی معاونین اور سرپرست بھی ناکام ہوں گے۔

نوازشریف حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا منصوبہ مئی 2013ءکے عام انتخابات سے قبل ہی بنا لیا گیا تھا۔ شیخ رشید کا عمران خان سے انتخابی اتحاد سکرپٹ رائٹر کی ہدایت کے باعث ہی ممکن ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے لیگی حکومت کو گرانے کے لئے کوئی اور ٹائم فریم طے کیا ہو، لیکن الیکشن میں منظم دھاندلی سمیت پروپیگنڈا کی صورت میں کئی الزامات عائد کرنے کا سلسلہ حکومت سازی کے فوری بعد شروع کر دیا گیا تھا۔ کئی اینکروں،کالم نگاروں، بلکہ پورے کے پورے میڈیا ہاﺅسز کو ساتھ ملا لیا گیا۔ لاپتہ افراد کے مقدمات کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر بہت زیادہ غصہ تھا۔ سو یہ بات پھیلائی گئی کہ دھاندلی ریٹرننگ افسروں کے ذریعے کرائی گئی جس کے ذمہ دار سابق چیف جسٹس ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس حوالے سے کوئی ایک ثبوت بھی آج تک سامنے نہیں آ سکا۔ پھر یہ معاملہ اچھالا گیا کہ ووٹوں کے بیگ پھٹے ہوئے تھے۔ شاید ایسا ہوا بھی ہو ،لیکن لیگی رہنماﺅں کے اس خدشے کو یکسر جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ اسٹیبلشمنٹ کے بعض عناصر نے اپنے ”لامحدود‘،اختیارات استعمال کرتے ہوئے سٹوروں میں پڑے ووٹوں کے تھیلوں کو خود چیرپھاڑ دیا ہو، تاکہ سارا انتخابی عمل ہی مشکوک بنایا جا سکے۔ کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ 11مئی کو پولنگ کے وقت تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں نے خود موقع پر کھڑے ہو کر گنتی کرائی۔ رزلٹ شیٹوں پر دستخط بھی ثبت کئے۔ اس روز تو کوئی بڑی بے قاعدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بعد میں ایسا کیا ہو گیا؟ کہ ہر کسی کو دھاندلی،دھاندلی کی گردان پر لگا دیا گیا۔ ان حالات میں بھی ایک موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے بنی گالہ میں عمران خان سے ان کے گھر جا کر ملاقات کی تو ماحول نہایت خوشگوار تھا۔ عمران خان نے طالبان ایشو سمیت کئی معاملات پر حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنی رہائش گاہ کے قریب واقع پارک کے حوالے سے ایک مسئلہ ذاتی طور پر بھی پیش کیا۔ وزیراعظم نے حل کرنے کے احکامات موقع پر ہی صادر کر دیئے۔ اس وقت ایسے لگ رہا تھا کہ ملک میں وسیع تر سیاسی ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے۔

19اپریل کو حامدمیر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد کی پیشرفت نے گویا منظر ہی بدل ڈالا۔ سکرپٹ رائٹر غضبناک ہو گیا۔ حکومت مخالف جماعتوں کو لندن پلان بنانے کا حکم ملا تو جلدی جلدی سب جمع ہو گئے۔ طاہرالقادری کی پاکستان آمد اور احتجاج کا اعلان ہوا تو عمران خان نے بھی لانگ مارچ کی دھمکی دیدی۔ احتجاج سے آغاز سے پہلے ہی دونوں نے الگ الگ نظر آنے کی کوشش کی، مگر سکرپٹ رائٹر کی مسلسل پیروی نے 14اگست سے پہلے ہی ثابت کر دیا کہ دونوں ایک ہیں۔ اسلام آباد میں دھرنے کے دوران پارلیمنٹ ہاﺅس،وزیراعظم ہاﺅس،پی ٹی وی وغیرہ پر حملے کی ہدایات سکرپٹ رائٹر نے ہی دی تھیں۔ نوازشریف حکومت کو ہٹانے کے لئے ،مگر لاشوں کی ضرورت تھی۔ رائٹر کو اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی کہ لاشیں مظاہرین کی ہوں یا پھر کسی ریاستی عمارت میں موجود افراد کی۔ ایک مرحلے پر یوں دکھائی دے رہا تھا کہ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں کسی اہم حکومتی شخصیت کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دھرنوں کا زور ٹوٹنے کے بعد جلسوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ”گونوازگو‘،کا نعرہ بھی سکرپٹ رائٹر کی ہی اختراع ہے کہ لیگی کارکن کسی موقع پر مشتعل ہو کر نعرے لگانے والوں پر پل پڑیں۔ بات اتنی آگے بڑھے کہ لاشوں کے حصول کا نصب العین پورا ہو جائے۔ حکومتی شخصیات ہی نہیں حساس اداروں میں موجود کئی اہم افراد بھی صورت حال سے پوری طرح باخبر ہیں۔ خود کو محاذآرائی کی پیداوار قرار دینے والے نوازشریف اپنے مزاج کے بالکل برعکس صبرکرتے نظر آ رہے ہیں۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی کھلی کھلی قانون شکنی پر مبنی اقدامات کے باوجود ایکشن نہیں لیا جا رہا۔ یہ کمزوری ہے یا حکمت عملی،صحیح اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ہی لگایا جا سکے گا۔

سیاسی بحران میں ملوث عالمی کھلاڑی بدستور چالیں چلتے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان میں غیریقینی صورت حال پیدا کرنے کی کامیاب کوششوں کے دوران پشاور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں داعش کا ظہور کس بات کی علامت ہے؟ ابھی تو یہ کہا جا رہا ہے کہ طالبان میں ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ قیدیوں کو چھڑانے کے لئے جیل کے اندر تک سرنگیں کھودنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایک سازش تو خوش قسمتی سے پکڑی گئی ،لیکن سرنگیں کھودنے کا یہ سلسلہ پورے ملک کو کس قدر غیرمحفوظ بنا سکتا ہے اس کا تصور کر کے لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب بھی جاری ہے ،لیکن دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہو ہی جاتا ہے۔ بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سرحدیں تو پہلے ہی گولہ باری کی زد میں تھیں، اب ایران نے بھی بلااشتعال فائرنگ کر دی۔ چین سے تعلقات بڑھانے کی ہر کوشش سازش میں شریک عالمی کھلاڑیوں کو مزید مشتعل کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں بھی عمران خان بڑے بڑے جلسے کر کے وزیراعظم نوازشریف کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں (تحریک انصاف کے جلسے بڑے ہونا فطری امر ہے۔ اس کی وجہ صرف حکومت کی ناقص کارکردگی ہی نہیں ،بلکہ وہ ”لوازمات‘،بھی ہیں جو میوزک کنسرٹ کے دوران پیش کیے جاتے ہیں۔ ہر جگہ بلکہ دوسرے شہروں تک پہنچنے کے لئے وسائل کی بہتات،فیشن ایبل خواتین و حضرات کی شرکت،ایسے میں ان جلسوں کو چارچاند کیوں نہ لگیں؟)

سب پوچھ رہے ہیں کہ آگے کیا ہو گا؟ وزیراعظم نوازشریف کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مخالفین کو جواب دینے کے لئے اپنے پتے فی الحال اوپن نہیں کئے،مسلم لیگ (ن) کو بعض مذہبی جماعتوں سمیت کئی سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ عمران خان اور ہمنوا تلے بیٹھے ہیں کہ استعفیٰ لئے بغیر نہیں جائیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عبوری حکومت بنا کر 500 افراد (موجودہ پارلیمنٹ کے تمام ارکان) کو نااہل قرار دے کر الیکشن کرائے جائیں۔ گویا ”سونی گلیوں میں مرزا یار اکیلے پھرے“۔ یہ خواہش تو ہو سکتی ہے ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ پھر کیا ہو گا؟ ہو سکتا ہے کہ کسی مرحلے پر لاشوں کے حصول کا جنون معاملے کو پھر تصادم کی جانب لے جائے۔ اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو۔ ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں حکومت ختم ہوئی تو قادری تو بہت دور کی بات عمران خان کو بھی کچھ نہیں ملے گا۔ حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قادری اور عمران کی احتجاجی مہم سے بعض مذہبی حلقوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ دونوں کو استعمال کر کے شدت پسندی کے سانڈ کو سرخ کپڑا دکھایا جا رہا ہو؟

سیاسی کہانی نے خونیں موڑ لیا تو پھر ایک اور دھرنا ہو گا۔ شرکاءسچ میں لاکھوں ہوں گے۔ یہ دھرنا فیصلہ کن ثابت ہو گا۔ اسے روکنا ریاستی اداروں کی انتظامی ہی نہیں، بلکہ سیکیورٹی اداروں کی حربی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہو گا۔ وہ دھرنا ہی اصل اور فیصلہ کن دھرنا ہو گا کیونکہ عالمی سٹیک ہولڈروں کو وہی سوٹ کرتا ہے۔

مزید : کالم


loading...